زینب کا سوال - نائلہ شاہد

آنسو گرتے ہی چلے جارہے ہیں دل ہر بار انکار کر دیتا ہے نہیں ایسا ہو نہیں سکتا۔ زینب کو اس درندہ صفت بے حس شیطان کے پیروکار نے اس کے بھروسے، اس کی محبت، اس کی معصومیت کو کس مول خریدا ہوگا؟ کتنا وقت لگا ہوگا اس مکروہ انسان کو اپنے ناپاک عزائم کو پورا کرنے میں؟ میرے ہاتھ یخ ٹھنڈے ہورہے ہیں، دل کانپ رہا ہے، بہتے آنسو سے آنکھیں دھندلا رہی ہیں، قلم ساتھ نہیں دے رہا۔ اس درندے کو اک لمحے بھی خیال نہ آیا پھول کو اس بری طرح مسل ڈالا؟ ایک بار بھی رحم نہ آیا اس پھول کی حفاظت کرنے والے باغباں کہاں تھے؟ جس اعتماد اور اطمینان کے ساتھ وہ اس درندے کے ساتھ جاتی دکھائی دی ہے یہ تو کوئی اپنا ہی ہوسکتا ہے۔

آہ زینب! میری جان، تمہیں کیا خبر تھی؟ تمہارا معصوم ذہن کیسے اس بات کی طرف توجہ کرتا کہ چاکلیٹ اور ببل کے عوض درندگی کا شکار ہونے جارہی ہو ؟اپنا اتنا قیمتی سرمایا کیسے کسی کے حوالے کر کے چلے گئے؟ کیسے بھروسہ کرلیا؟ قصور کس کا ہے والدین کا؟ کیا اپنا زیور اپنا روپیہ وہ رشتہ داروں کے حوالے کرکے جاتے؟ پھر اللہ کی امانت کو کسی اور کے سپرد کیسے کر گئے؟ آہ!

کیا قصور حکومت کا ہے جس نے میڈیا کو فری کردیا ہے بے حیائی اور فحاشی پھیلانے کے لیے؟ جس نے انٹرنیٹ کو آٹے سے بھی سستا کردیا، جس نے بے روزگاری کو عام کردیا۔ اب اس قوم کے پاس سوائے اس کے کیا ہے کہ وہ واہیات ڈانس دیکھے، وہ سب سے سستی تفریح جسے میڈیا فروغ دینے میں سب سے آگے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قوم سے جب نظام مصطفیٰ ﷺ کے نام پر ووٹ مانگا جائے تو کتنی زینب اور کتنی عافیہ کو نظر انداز کر کے انہی درندوں کے سربراہ کو چن لیتے ہیں ۔

آہ زینب! تمہارا انتقام ہم کس کس سے لیں؟ اس وطن کا ہر فرد تمہارا مجرم ہے! ذرے ذرے پر تمہارے قاتل کا نام لکھا ہے۔ تم تو معصوم تھیں میری بچی! تم تو اپنی منزل پاگئیں جوابدہ تو ہم ہیں اور اسی جوابدہی کے ڈر سے روح تک کانپ رہی ہے۔ حشر کا میدان میں جب تم ہمارے دامن پکڑ کر رب کے سامنے کہوگی کہ میرے ساتھ یہ اندوہناک واقعہ کیوں ہوا؟ اس کے اسباب کیا تھے؟ اف اف … ہم کیا جواب دیں گے؟ میری بچی ہمیں معاف کردینا حشر کے میدان میں ہمیں رسوائی سے بچا لینا ۔

بس اس قوم کی بے حسی کی انتہا کا کرب سہہ لیجیے، جس کا میڈیا اتنے بڑے سانحے پر معمول کے مطابق فحش تفریحی پروگرام دکھاتا رہے گا اور کئی اور درندے کسی زینب کی دھاک میں اپنی میلی نظریں لگائے کہیں تیار بیٹھے ہوں گے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */