زینب․․․ آخر اس درد کی دوا کیا ہے؟ - نگہت فرمان

زینب کے ساتھ ہونے والے ظلم و زیادتی (یہ بہت چھوٹا لفظ اور اس کرب کی نمائندگی کرنے سے قاصر ہے) پر ہر آنکھ اشک بار اور ہر دل افسردہ ہی نہیں، دکھ و کرب میں ریزہ ریزہ ہے۔ جو جس طرح اپنے دُکھ کا اظہار کرسکتا ہے، کر رہا ہے۔ کوئی اپنے جذبوں کو تحریر میں بیان کر رہا ہے، کوئی تقریر میں اور جو جس کی استطاعت ہے اس کا اظہار کر رہا ہے۔ کسی کی آنکھ میں صرف آنسو ہیں اور زبان ساکت۔ یہ کوئی نیا سانحہ نہیں، تقریباً روزانہ ہی ایسے ہی دل خراش سانحات روح کو زخمی کرتے ہیں۔ ہر طرف ایک بے ہنگم شور و ہنگامہ بپا ہوتا ہے، اخبارات اور مختلف ٹی وی چینلز اس سانحے پر زور و شور سے اور ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر بحث مباحثے کرتے ہیں اور بس پھر کوئی نیا سانحہ ہوجاتا ہے اور انہیں کوئی نیا موقع مل جاتا ہے۔ حالاں کہ اس نئے سانحے اور المیے میں واقعات کم و بیش وہی ہوتے ہیں، بس کردار و جگہ مختلف ہوتے ہیں اور اس طرح کوئی اور واقعہ ان زخموں کو مزید گہرا ہوجاتا ہے۔ طوبٰی ہو یا سنبل، طیّبہ ہو یا ان جیسی کوئی اور نوخیز کلیاں اور اب تو چھوٹے معصوم لڑکے بھی ان میں شامل ہیں، جنہیں کِھلنے سے پہلے ہی مسل دیا گیا، انصاف کے لیے نوحہ کناں ہیں۔ ان سے بھی سب نے وعدوں کے بڑے بڑے دعوے کیے لیکن کوئی مائی کا لعل مجرموں کو سزا نہ دلوا سکا۔ اگر اس وقت کسی ایک کو بھی ایسی کڑی سزا ہوجاتی کہ اس کی چیخیں پورے پاکستان میں سنی جاتیں تو آج کوئی زینب کچرے میں نہ پائی جاتی۔

سوشل میڈیا ہو، چینلز یا اخبارات سب چیخ چلا رہے ہیں، لیکن ایک دوسرے کو مجرم ٹھہرانے سے بھی گریز نہیں کر رہے۔ کوئی والدین کو قصور وار کہہ کر ان کے زخموں پر نمک پاشی کر رہا ہے، کوئی مذہب کو نشانہ بنا رہا ہے، کوئی مادر پدر آزاد لبرل ازم کو وجہ سمجھتا ہے۔ لیکن کوئی ان محرکات و اسباب پر بات نہیں کر رہا کہ پہ در پہ ہونے والے ان واقعات کے آگے پل کیسے باندھا جائے؟ قانون کے رکھوالوں سے انصاف کے حصول کی امید رکھنا ایسا ہی ہے، جیسے بھینس کے آگے بین بجانا۔ اس لیے ایک دوسرے پر لعن طعن کے بجائے اپنے بچوں کا محاظ بننے کی فکر کریں۔

اگر کوئی اس واقعہ کو مذہبی گھٹن سمجھتا ہے تو یہ اس کی بھُول ہے، یہ مذہبی گھٹن نہیں، نفسیاتی مسئلہ ہے۔ جب ہر طرف فحاشی ہوگی، عریانی ہوگی، ایک بٹن دبتے ہی ہیجان انگیز مناظر سامنے ہوں گے، فیشن کے نام پر عریانیت و بے حیائی کا پرچار ہو رہا ہوگا تو کوئی بھی فرد اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے کسی کم زور جان پر ہی وار کرے گا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ ایسی لڑکیاں عرف عام میں کال گرل جو پہلے صرف مغربی ممالک میں پائی جاتی تھیں اب یہاں بھی ہیں ان سے جنسی تسکین حاصل کرلیں تو جناب اس کے لیے رقم اور مقام بھی تو چاہیے۔ یہاں تو یہ حالت ہے کھانے کو دانے نہیں لیکن شیطانی مناظر و حرکتوں سے لطف اندوز ہونا نہیں چھوڑتے۔ ضرورت اپنی سمت درست کرنے کی ہے، اگر ہم نے بے حیائی کے سیلاب کے آگے بند نہیں باندھا تو کچھ بھی کرلیں ایسے واقعات دل دہلاتے رہیں گے۔ سزا دلوانی ہے تو ہر اس اڈے، اس ادارے اور اس مقام کو دلوائیں جو فحاشی و عریانی کے فروغ میں معاون بن رہے ہوں، پھر چاہے وہ چینل ہو، اخبار ہو، چائے کا ہوٹل ہو، ویڈیو کی دکان ہو یا کوئی اور مقام۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */