کیوں نہ ایک مہم چلائیں؟ - حافظ یوسف سراج

عبادات آپ کا اللہ سے معاملہ ہے اور اخلاقیات انسانوں سے۔ انسانوں کو سب سے زیادہ دوسروں کی جس چیز سے راحت مل سکتی ہے، زندگی اور ذہن سلامت رہ سکتے ہیں، یہ دنیا جنت بن سکتی ہے، وہ ہے دوسروں کا اخلاق۔ بنیادی عبادات کے بعد اسلام نے اخلاق سے زیادہ کسی چیز پر زور نہیں دیا، فرمانِ نبوی ہے، اعمال تلنے کی ترازو میں سب سے وزنی چیز اخلاق ہوگا، یہ بھی فرمایا، اخلاق سے آدمی کبھی وہ درجے بھی پا لیتا ہے، عبادات سے جو کسی صورت ممکن نہیں ہوتے۔ اللہ کی کتاب کہتی ہے، برائی کا بھی حسنِ تدبیر سے جواب دو تو بدترین دشمن بھی، تمھارا انتہائی گرمجوش دوست بن جائے گا۔

اخلاق کا دائرہ بڑا وسیع ہے۔ المختصر، تمام انسانوں سے، خواہ وہ کافر ہوں، مخالف ہوں، دشمن ہوں، بداخلاق ہوں، رشتے دار ہوں، اہل محلہ ہوں، اہل مذہب یا اہلِ سیاست ہوں، دائمی یا وقتی رفیق ہوں، انسانی شرافت اور خوش اسلوبی سے معاملہ کرنا اخلاقیات کی ذیل میں آتا ہے۔

آج ہمارے نوجوانوں میں بالخصوص اور عام لوگوں میں بالعموم اخلاقی فقدان ایک شدید طوفانی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ آج غیر مسلم تو کجا، خود مسلمان بھی ہماری پاتال کو چھوتی بد اخلاقی سے محظوظ نہیں۔ کافر، منافق، بے حیا، کرپٹ اور دشمنِ وطن و ایمان قرار دینے کے لیے ہم سب کے اپنے اپنے ہدف ہیں۔ یہ اتنے ہیں کہ اگر سب کو ایک عنوان کے تحت جمع کر کے دیکھا جائے تو دوسری طرف نہ کوئی مسلمان بچتا ہے، نہ دیانت دار اور نہ محب وطن۔

سیاست اور سوشل میڈیا ہم نے لندن کا وہ ہائیڈ پارک سمجھ لیا، جہاں اسلامی تو کجا انسانی اخلاق کے کپڑے اتار پھینکنے کی بھی گویا ہمیں کھلی اجازت اور پوری آزادی ہی نہیں مل گئی بلکہ یہ مشغلہ شاید ہمارے لیے عین واجب بھی قرار پا چکا۔ افسوسناک طور پر کئی لوگ اسے ایسی گرمجوش سرگرمی سے انجام دیتے ہیں گویا آج یہی فرض عین جہاد ہو، یہی تبلیغ اسلام ہو، یہی عین اسلام اور انسانیت کی سربلندی کا واحد میدان ہو، اور یہ کہ اس کے سوا انسانیت کی کوئی دوسری خدمت باقی ہی نہ بچی ہو۔ انسانی سطح سے گری اس اسفل عادتِ بد کا چسکا آج ہم میں اس قدر رائج اور راسخ ہوچکا کہ کئی شریف آدمی، کئی مذہبی تعلیم یافتہ لوگ اور کئی ثقہ مذہبی و سیاسی شخصیات، کئی اہل قلم اور کئی اینکر بھی اسے اپنانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اس کے سوا اُن کی ریٹنگ کی بھوک پوری ہوتی ہے، نہ ان کے فالورز کی 'ایمانی' تسکین کا پیٹ بھرتا ہے۔ عالم یہ ہے کہ آج ہماری بہنیں، ہماری بیٹیاں، ہماری مائیں، ہمارے نسبی، ہمارے سیاسی، ہمارے مذہبی، ہمارے سماجی بزرگوں میں سے کوئی بھی ہمارے زہریلے لفظوں اور تیز دھار زبانوں سے محظوظ نہیں۔ کسی عزت دار کی عزت بچی ہے نہ کسی شملے والے کی پگڑی، کسی لباس والے کا گریبان سلامت ہے، نہ کسی سفید ریش کا دامن۔ معاملہ کتنا ہی گھٹیا کیوں نہ ہو، تب تک ہم اس پر شادمانی کے شادیانے بجاتے جاتے ہیں، جب تک کہ یہ گندہ جوہڑ خود ہماری محبتوں کا رخ نہ کر لے۔

میری درد مندانہ درخواست یہ ہے کہ ہمارے جیّد لکھنے والے اپنے سماج کو اس آسانی سے جہنم بنتا دیکھتے نہ رہیں۔ وہ اپنی آئندہ نسل کو یوں آسانی سے پاتال کی طرف سرپٹ دوڑتا دیکھتے نہ رہیں۔ وہ رضاکارانہ طور پر آگے بڑھیں، نوجوانوں کی تربیت کریں، اخلاقیات کے اصول اجاگر کریں، دوسروں کے معاملات پر ہماری حدود واضح فرمائیں۔

ظاہر ہے وہ مسالے دار شیطنت کے عادی ہو چکے لوگ اس اخلاقی نقطہ نظر سے بدکیں گے ، آوازے کسیں گے، لیکن امید ہے، آہستہ آہستہ وہ بات سننے اور خود کو بدلنے لگیں گے۔ انھیں بتانا چاہیے کہ بطور مسلمان ہمارے اخلاق کیا ہونے چاہئیں اور وگرنہ یہ آگ کہیں رکے گی نہیں، اس میں چراغ سبھی کے بجھیں گے، رسوائی کی یہ بدنما ہوا دوست کسی کی نہیں۔

سوشل میڈیا پر مہنگے فروٹس سستے کرنے کی ایک مہم چلی تھی، اس کے اثرات بھی ہوئے تھے۔ اخلاق کا یہ معاملہ مہم بنائے جانے کا اس سے کہیں زیادہ مستحق ہے۔

آپ اس پوسٹ میں ایسے معتدل لوگوں کو مینشن کیجیے، جو اس سلسلے میں متحرک کردار ادا کر سکتے ہوں۔ آپ اس میں اپنے آپ کو مینشن کیجیے کہ آپ اس مہم کو مانیں گے، آگے بڑھائیں گے۔

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.