فقہ اور اصولِ فقہ کے متعلق جہلِ مرکب کا شاہ کار - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

غامدی صاحب کا حلقہ اپنے متعلق ہمارے حسنِ ظن کو مسلسل ختم کرنے کے درپے ہے اور اس ضمن میں تازہ ترین کوشش ان کی ترجمانی پر فائز صاحب نے کی ہے جنھوں نے نہ صرف یہ کہ فقہ اور اصولِ فقہ کے متعلق اپنے جہلِ مرکب کا ، بلکہ فقہاے کرام کے متعلق اپنے شدید تعصب کا بھی اظہار کیا ہے اور وہ بھی اس سانحے کے سیاق میں جس پر پوری قوم رنج اور الم میں مبتلا ہے۔ ماضیِ قریب میں اس حلقے ، اور بالخصوص ان ترجمان صاحب، کے ساتھ بحث کے تجربے کی روشنی میں میری سوچی سمجھی راے یہ ہے کہ جامد اور اندھی تقلید میں مبتلا اس متعنت اور متعصب گروہ کے ساتھ بحث کا فائدہ کوئی نہیں ہے۔ اس لیے میں نے ان کی اس یاوہ گوئی کو نظرانداز کیا لیکن مسلسل کئی اصحاب نے اس ضمن میں سوال کیا ۔ اس لیے مجبوراً چند نکات قلم بند کررہا ہوں۔

پہلی غلطی : یہ مسلمانوں کا قاضی ہے یا انگریزوں کا گونگا ، بہرا اور اندھا جج؟

ترجمان صاحب نے اپنے مکالمے میں جس قاضی کو پیش کیا ہے وہ انگریزی عدالت کا جج ہے جس کے نہ صرف ہاتھ پیر بندھے ہوئے ہیں ، اور نہ صرف اس کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے بلکہ وہ صرف انھی امور پر سوال اٹھا سکتا ہے جو فریقین نے اس کے سامنے پیش کیے ، وہ صرف وہی ثبوت دیکھ سکتا ہے جو مدعی نے اس کے سامنے پیش کیا ، وہ مدعی اور مظلوم کے درمیان فرق دیکھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا ، نہ ہی اسے مظلوم کی چیخ و پکار سنائی دیتی ہے ، نہ ہی وہ اپنے اوپر یہ لازم سمجھتا ہے کہ مظلوم کی دادرسی کرے اور ظالم کے خلاف ثبوت اور شواہد اکٹھے کروائے ، نہ ہی وہ کمرۂ عدالت سے باہر جا کر خود صورتِ واقعہ اور میدانی حقیقت معلوم کرنے کا اختیار رکھتا ہے ۔ یہ اندھا، گونگا، بہرا اور اپاہج جج انگریزوں کے وضع کردہ adversarial system کا جج ہے ، نہ کہ مسلمانوں کے قاضی کا ۔ کاش ترجمان صاحب ذرا سی مشقت اٹھا کر مسلمان قاضی اور اس معذور جج کے درمیان فرق پر بھی – اردو میں ہی – کوئی کتاب پڑھ لیتے!

کچھ نہیں تو کم از کم اس سوال پر غور کریں کہ inquisitorial system میں جج کے پاس کیا اختیارات ہوتے ہیں اور اس کی ذمہ داریاں کیا ہوتی ہیں؟ یہ سمجھنا بھی مشکل ہو تو کم از کم سپریم کورٹ کے اختیارات ہی دیکھ لیں کہ وہ "جے آئی ٹی" تشکیل دے سکتی ہے یا نہیں؟ وہ "رٹ" جاری کرسکتی ہے یا نہیں؟

دوسری غلطی : اس قاضی نے فقہ پڑھی ہے یا المورد کی میزان؟

ترجمان صاحب نے جس شخص کو قاضی کے منصب پر بٹھایا ہے، اس نے "تخصص فی المیزان – الطبع الاخیر" کا کورس تو یقیناً کیا ہوا ہے لیکن اس کے بعد فقہ کا مطالعہ صرف سطحی اور سرسری ہی کیا ہے اور وہ بھی ثانوی مآخذ ، بلکہ تیسرے درجے کے مآخذ ، سے ۔ (اور وہ بھی اردو میں ، ورنہ کم از کم بیسویں صدی عیسوی کے مصری مصنف عبد القادر عودہ کی کتاب "التشریع الجنائی" کو "التشریح الجنائی" تو نہ لکھتے۔ واضح رہے کہ کی بورڈ پر عین اور ح ایک دوسرے سے اتنی دور واقع ہیں کہ عین کی جگہ ح لکھا ہی نہیں جاسکتا جب تک واقعی تشریع کو تشریح نہ مانا جائے!)

کم از کم یہ بات تو میں سو فی صد یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ترجمان صاحب نے امام سرخسی کی المبسوط ج 9 ، کتاب الحدود ، کا مطالعہ کیا ہی نہیں ہے ورنہ ایک تو وہ "بونگی" بالکل بھی نہ مارتے جو انھوں نے امام سرخسی کے حوالے سے ماری ہے اور دوسرے انھیں اسی کتاب میں یہ بات تو ضرور ملتی کہ فساد کے جرم پر عبرت ناک طریقے سے سزاے موت دینے کا اختیار حکمران اور قاضی کے پاس ہے اور اس کے ثبوت کےلیے اقرار یا گواہی ضروری نہیں بلکہ قرائن بھی کافی ہوتے ہیں۔

بہرحال ترجمان صاحب کے فرض کردہ متخصص فی المیزان – الطبع الاخیر قاضی کو یہ بھی علم نہیں کہ بچی کے ساتھ کی گئی زیادتی فقہ کی رو سےزنا کی تعریف میں ہی نہیں آتی ، اس لیے قذف کا سوال ہی نہیں اٹھتا ۔ اس نام نہاد قاضی کو یہ بھی علم نہیں کہ فقہ کی رو سے بچی پر تشدد کی بدترین قسم کا ارتکاب کیا گیا ہے جس پر فقہی قواعد کی رو سے حدود اور قصاص کے بجاے فقہی تصور "سیاسہ" کا اطلاق ہوتا ہے اور اس وجہ سے اس شنیع ترین جرم کا ارتکاب کرنے والے بدبخت کو بدترین سزا دینا لازم ہے ۔ یہ نام نہاد قاضی یہ بھی نہیں جانتا کہ فقہ کی رو سے اس معاملے میں بارِ ثبوت بچی یا اس کے ولی پر نہیں بلکہ حکومت پر ہے کہ وہ بہرصورت معلوم کرے اور ناقابلِ تردید ثبوت عدالت میں پیش کرکے ثابت کرے کہ جرم کا ارتکاب کس نے کیا ہے ؟ یہ نام نہاد قاضی یہ بھی نہیں جانتا کہ فقہ کی رو سے قاضی پر لازم ہے کہ اگر مجرم معلوم نہ ہوسکے یا جرم ثابت نہ ہوسکے تو اس صورت میں اس پر لازم ہے کہ حکمران پر اس بچی کے ساتھ کیے گئے مظالم کی تلافی لازم کردے۔

تیسری غلطی: اس متخصص فی المیزان -الطبع الاخیر – قاضی نے فقہاے کرام کے اصولِ فقہ نہیں پڑھے ۔

اس کی وجہ تو واضح ہے۔ اس نام نہاد قاضی کا تخصص تو میزان کے آخری دستیاب ایڈیشن کے "اصول و مبادی" میں ہی ہے۔ اسے اصولِ فقہ سے کیا نسبت؟ اس لیے یہ نام نہاد قاضی یہ بھی نہیں جانتا کہ فقہاے کرام جس قاضی کا ذکر کررہے ہیں وہ یا تو مجتہد ہوتا ہے اور یا مقلد ۔ پہلی صورت میں وہ اصول خود وضع کرتا ہے ، ان کے درمیان ہم آہنگی یقینی بناتا ہے اور پھر خود ان اصولوں کی روشنی میں فروع مستنبط کرتا ہے ۔ وہ اس کا محتاج نہیں ہوتا کہ ایک بات حنفی فقہ کی المبسوط سے لے تو دوسری بات حنبلی فقہ کی المغنی سے ۔ پھر اگر دوسری صورت ہے کہ یہ قاضی مقلد ہے تو فقہ کی رو سے اس پر لازم ہے کہ کسی ایک فقہی مذہب کی ہی اتباع کرے کیونکہ ایک فقہی مذہب کے اصول آپس میں ہم آہنگ ہوتے ہیں اور دو یا زائد مذاہب کے اصول بسا اوقات ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھے نہیں چل سکتے۔ اس صورت میں بھی یہ قاضی یہ کر ہی نہیں سکتا تھا کہ ایک بات حنفی فقہ کی المبسوط سے لے اور دوسری حنبلی فقہ کی المغنی سے۔

ہاں! چونکہ یہ قاضی میزان کے آخری دستیاب ایڈیشن کا متخصص ہے، اس لیے یہ بات قابلِ فہم ہے کہ کیوں وہ ایک اصول ایک جگہ سے ، دوسرا اصول دوسری جگہ سے ، ایک فقہی جزئیہ ایک کتاب سے، دوسرا فقہی جزئیہ دوسری کتاب سے ، عموماً اردو تراجم سے ، یا سنی سنائی سے ، یا سینہ در سینہ پہنچنے والی روایت سے ، لیتا ہے اور اس چکر میں ہی نہیں پڑتا کہ یہ اصول اور جزئیات آپس میں ہم آہنگ ہیں بھی یا نہیں ؟

فقہی لحاظ سے مسئلے کی صحیح نوعیت

ترجمان صاحب کی ساری فرض کردہ صورت حال فقہی لحاظ سے غلط ہے ۔ فقہاے کرام کی تصریحات کی روشنی میں مسئلے کی صحیح نوعیت یہ ہے:

1۔ اس معاملے میں بارِ ثبوت بچی کے ولی پر نہیں بلکہ حکمران پر ہے اور مجرم تک پہنچنا قاضی کی ذمہ داری ہے جس کے لیے وہ صرف حکمران کی جانب سے پیش کیے گئے ثبوتوں پر ہی انحصار کا پابند نہیں ہے بلکہ اس پر لازم ہے کہ آگے بڑھ کر خود ایسی تدابیر اختیار کرے کہ مجرم معلوم ہوسکے اور اس کے خلاف ناقابلِ تردید ثبوت اکٹھے کیے جاسکیں۔

2۔ اس معصوم بچی کے ساتھ پیش آیا ہوا واقعہ حدِ زنا کا مسئلہ ہے ہی نہیں ، بلکہ یہ فساد کی بدترین قسم ہے جس کے لیے فقہاے کرام "سیاسہ" کے تصور کی رو سے قاضی کےلیے یہ اختیار مانتے ہیں کہ وہ قرائن اور جدید ترین ذرائع سے میسر آنے والے ثبوتوں کی روشنی میں مجرم کو ایسی عبرت ناک سزا دے کہ پھر کسی کو اس طرح کے جرم کے ارتکاب کی جرات ہی نہ ہوسکے۔

3۔ مجرم معلوم نہ ہوسکے تب بھی بچی کے ساتھ کیا گیا ظلم رائیگاں نہیں جائے گا بلکہ اس کی تلافی کی ذمہ داری حکمران پر ہے اور قاضی کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ حکمران سے مظلوم کا یہ حق وصول کروائے ۔

المورد کے تجدد کی رو سے معاملے کی نوعیت

ترجمان صاحب کی طرح میں بھی یہ بتا سکتا تھا کہ المورد کے تجدد کی رو سے اس مسئلے کی کیا نوعیت ہے اور اس تجدد کی رو سے حکمران کے اختیارات اور قانون کے ساتھ جو کھلواڑ ہوتا ہے، اس سے اس طرح کے معاملے میں کیا فسادِ عظیم برپا ہوسکتا ہے، لیکن میں بہرحال اس سطح تک نہیں گرسکتا کہ اس عظیم اور دردناک قومی سانحے کو پوائنٹ سکورنگ کے لیے استعمال کرسکوں۔ مجھے اس سے معذور جانیے۔

ایک نصیحت

جس کے متعلق مجھے یقین ہے کہ ترجمان صاحب اسے درخورِ اعتنا نہیں سمجھیں گے۔ پھر بھی نصیحت کرنا میری ذمہ داری ہے۔ میں پورے خلوص سے انھیں یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ فقہاے کرام کے متعلق یاوہ گوئی سے قبل ایک دفعہ فقہ اور اصولِ فقہ کو سمجھنے کی کوشش ضرور کریں۔ ترجمانی کے فرائض انجام دینے کی وجہ سے زیادہ فرصت نہ ہو تو کم از کم فقہاے احناف کے ہاں "سیاسہ" کا تصور ہی سمجھنے کی کوشش کریں ۔ اور ہاں۔ اس مقصد کے لیے مستشرقین یا مستغربین کے بجاے فقہاے کرام ہی کی کتب کا مطالعہ کریں ، اور وہ بھی اصل زبان میں ۔

پس نوشت

قاضی حسین احمد صاحب مرحوم کی دختر ایم این اے بنے تو ان کی صلاحیت کے باوجود اسے "اقربا پروری" سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ پتہ نہیں المورد میں ڈائریکٹر کا عہدہ اقربا پروری کا نتیجہ ہے یا نہیں۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • جزاک اللہ خیر...... اس تحریر کی بہت ضرورت تھی ورنہ حسن الیاس صاحب کی یاوہ گوئی بہت سے لوگوں کو کنفیوژن میں ڈال دیتی

    • ڈاکٹر مشتاق صاحب نے حسن الیاس صاحب کی پوسٹ کے جواب میں اصل مسئلہ کو ایڈریس ہی نہیں کیا اور دیگر باتوں میں الجھا کر فقہ کی اس پوزیشن کے نقائص سے توجہ ہٹانے کی سعی کی ہے۔

      حسن الیاس صاحب کی پوسٹ زندہ بچ جانے والی زینبوں کا فقہی نوحہ تھی۔ زندہ زیبب ہمارے لیے اتنا بڑا مسئلہ کیوں نہیں جتنا انتقال کر جانے والی زینب؟ مر جانے والی تو اپنی اذیت سہہ چکی، زندہ کی اذیت تو ہر لمحہ اس کا مقدر ہے۔ ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس مظلوم کی دار رسی ہماری وہ فقہی عدالت کیا کرتی ہے جس کے نفاذ کے لیے زینب کے والد کے قائد نے کئی جانیں قربان کروا دیں۔ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ اسے اس قانون میں کیا انصاف ملے گا جس کی خاطر زینب کے اسلامسٹ بھائی اپنی جانیں دے اور دوسروں کی جانیں لے رہے ہیں۔

      زنا بالجبر کے معاملات میں فقہی پوزیشن میں اتنے نقائص ہیں کہ جج کو مجرم کو دینے کے لیے کسی شرعی سزا کا پابند نہیں کیا جا سکتا۔

      ڈاکٹر مشتاق صاحب نے فقہ میں سمجھی گئی شرعی پوزیشن کے نقائص کو جج یا قاضی کے سیاستہ اختیار کے ذریعے پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ یعنی جج کی صواب دید ہے کہ کوئی سزا دے نہ دے یا کوئی معمولی سزا دے یا انتہائی سزا دے یہ اس کا اختیار ہے۔ مگر شرعا وہ پابند نہیں ہے۔

      ہم مسئلے کو متعین سوالات کی صورت میں سامنے رکھ دیتے ہیں تاکہ قارئین کو بات سمجھنے میں آسانی ہو۔

      کیا زنا بالرضا اور بالجبر کو فقہ میں ایک ہی جرم تصور کیا گیا ہے یا نہیں ؟

      دونوں جرائم کے ثبوت کا نصاب چار عینی گواہ ہے یا نہیں ؟

      دونوں جرائم کی شرعی سزا ایک ہی ہے یا نہیں ؟ یعنی مجرم کنوارا ہو تو سو کوڑے اور شادی شدہ ہو تو سنگسار کرنا۔

      جن کیسز میں قتل نہیں ہوا صرف زنا بالجبر ہوا وہ فساد فی الارض کے زمرے میں آتے ہیں یا نہیں؟

      مشتاق صاحب نے زینب کے کیس کو فساد فی الارض کہہ کر ایک خلط مبحث کیا ہے۔ حسن صاحب نے ایک زندہ زینب کا کیس لیا ہے۔ کیا بغیر قتل کے ایک زندہ بچی یا خاتون کے ساتھ بالجبر زنا ہماری فقہ میں فساد فی الارض میں شمار ہوتا ہے یا نہیں ؟

      بچی کی گواہی ناقابل قبول ہے یا نہیں ؟

      بچی تو چھوڑیے ایک عاقل بالغ خاتون کی گواہی حدود میں معتبر ہے یا نہیں؟ اس کی گواہی پر شرعی حد کا نفاذ ہوگا یا نہیں؟

      ایسے کیسز میں بار ثبوت مدعی پر ہے یا نہیں؟

      فقہ میں طرفہ تماشا یہ ہے کہ عورت کی گواہی پر قاضی تعزیرا سزا تو دے سکتا ہے لیکن حد جاری نہیں کر سکتا۔ یعنی زنا بالجبر کی متاثرہ خاتنون کی اکیلی گواہی ثبوت جرم کے لیے کافی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ جرم اگر ثابت ہے تو حد کیوں نہیں، اور ثابت نہیں تو تعزیر کیوں؟ ایسا نہیں ہو سکتا ہے کہ عورت کی گواہی سے آدھا جرم ثابت ہوتا ہے اس لیے تعزیز کی سزا دی جائے گی اور مرد کی گواہی سے پورا اس لیے شرعی حد نافذ ہوگی۔

      فقہ کی رو سے شرعی پوزیشن وہی ہے جو حسن الیاس صاحب نے بیان کی۔

      تعزیر اور سیاستہ سزا کے اختیار کا معاملہ وہاں درست ہے جہاں اصل جرم ثابت نہ ہو سکے اور جج اپنا اختیار استعمال کرے۔ یہاں تو چارعینی گواہوں کے بنا جرم اصلا ثابت ہی نہیں ہو سکتا۔

      فقہ میں سمجھی گئی شرعی پوزیشن کے ان نقائص کو تعزیر یا سیاستہ سزا سے دور کرنے کی کوشش گویا شریعت میں موجود کمی کو انسانی صواب دید سے پورا کرنا ہے۔

      ہمارا موقف اس میں یہ ہے کہ زنا بالجبر اصلا فساد فی الارض ہے جس کی سخت ترین سزائیں قرآن میں بیان ہوئی ہیں جس میں عبرت ناک طریقے سے قتل کرنا بھی ہے۔ اسے جج کی صواب دید پر نہیں چھوڑا گیا اور نہ اس کے لیے چار عینی گواہوں کا ثبوت فراہم کرنے کی شرط عائد کی گئی ہے۔ اس میں متاثرہ خاتون یا بچی کی گواہی، بالغ عورت، ڈی این اے ٹسٹ اور ہر اس ثبوت سے سے بھی حتمی طور پر جرم ثابت ہو سکتا ہے جو عدالتوں میں ثبوت جرم کے لیے معقول اور قابل قبول مانے گئے ہیں۔

      چوری اگر بڑھ کر ڈاکہ بن جائے تو فساد فی الارض میں شمار کی جاتی ہے تو زنا بڑھ کر بالجبر ہو جائے تو فساد فی الارض میں کیوں شمار نہیں ہوتا؟ مال کے خلاف جارحیت فساد ہے تو آبرو کے خلاف جارحیت فساد کیوں نہیں؟

      یہ ہیں وہ مسائل جن کی طرف توجہ دلانا اصلا مقصود تھا
      (ڈاکٹر عرفان شہزاد)

      • ڈاکٹر صاحب سے کہیے کہ ان میں ہر سوال کا جواب اس تحریر میں موجود ہے۔ اگر وہ دوبارہ پڑھنے کی زحمت کریں گے تو انھیں جواب نظر بھی آجائیں گے۔ و باللہ التوفیق۔