پر فتن حالات میں استقامت کی ضرورت - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس صلاح  بن محمد البدیر حفظہ اللہ نے 25 ربیع الثانی 1439  کا مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ بعنوان "پر فتن حالات میں استقامت کی ضرورت" ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ دنیا دائمی قیام کی جگہ نہیں ہے اور نہ ہی یہاں ہمیشہ رہنے کی سوچ رکھی جا سکتی ہے، وقت اور زندگی گزرنے کا احساس نہیں ہوتا لیکن یہ بڑی سرعت سے ساتھ گزرتا جا رہا ہے اور ہمیں روزانہ کی بنیاد پر قبر کے قریب کر رہا ہے، اس لیے ہر ایک نے موت  کا ذائقہ چکھنا ہے،   نیز اس دنیا میں بڑے بڑے پارسا اور نیک لوگ بھی آئے لیکن انہیں بھی یہاں ہمیشہ رہنے کا موقع نہیں دیا گیا تو اس ہمیں بھی ہر وقت یہاں سے کوچ کی تیاری رکھنی چاہیے۔ نیز اگر تیاری میں کوئی کمی آ جائے تو اللہ تعالی گناہوں  اور کوتاہیوں کو بخشنے پر قادر ہے ، اللہ تعالی صبح و شام مغفرت کے لیے سب کو دعوت عام دیتا ہے۔ دوسرے خطبے میں انہوں نے کہا کہ عارضی دنیاوی زندگی کے دوران انسان کو فتنوں سے بچ کر رہنا چاہیے، پھر انہوں نے واضح کیا کہ فتنہ اس چیز کا نام ہے کہ انسان اس دین سے پھر جائے جو جبریل علیہ السلام رسول اللہ ﷺ کے پاس لیکر آئے تھے، نیز اگر کوئی شخص اپنی ہوس یا شہوت کی بنا پر کسی حلال کو حرام یا حرام کو حلال قرار دیتا ہے تو یہ شخص بھی فتنے میں ملوث ہے، آخر میں انہوں نے سب کے جامع دعا فرمائی۔

عربی خطبہ کی آڈیو، ویڈیو اور ٹیکسٹ حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں وہی جھولیاں بھرتا  ہے، وہی سب سے زیادہ نوازشیں فرماتا ہے، اللہ تعالی کی پیدا کی ہوئی مخلوقات صبح شام اسی سے زندگی اور رحمتوں کی آس اور امیدیں لگاتی ہیں، اس دھرتی پر ہونے والے حادثات موت کو بلا کر وقت نزع قریب لا رہے ہیں،  میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں  کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام  پر دائمی ، ابدی اور سرمدی رحمتیں برکتیں اور سلامتی  نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

مسلمانو! تقوی الہی اپناؤ ؛ کیونکہ تقوی عزت اور نجات کا باعث ہے، جبکہ نافرمانی نحوست اور ہلاکت کا ذریعہ ہے، {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقہ ڈرو، اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔ [آل عمران: 102]

مسلمانو!

دنیا میں ہمیشہ رہنے کی امید نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی یہاں پر دائمی بقا کی آس لگائی جا سکتی ہے، یہاں لوگ جانے کیلیے ہی آتے ہیں، وقت دن اور رات کی صورت میں گزرتا چلا جا رہا ہے، موت جلد آ کر ہی رہے گی، ہر سانس انسان کو وقت پیدائش سے دور لے جا رہا ہے اور موت کے قریب کر رہا ہے ، پھر آخر کار جان بھی نکل  ہی جائے گی۔

وَيَا لِلْمَنَايَا مَا لَهَا مِنْ إِقَالَةٍ

إِذَا بَلَغَتْ مِنْ مُدَّةِ الحَيِّ حَدَّهَا

ہائے موت کہ جس کا وقت آ کر رہے گا، جب زندہ  کی مدتِ زندگی پوری ہو جائے گی۔

سَتُسْلِمُك السَّاعَاتُ فِيْ بَعْضِ أَمْرِهَا

إِلَى سَاعَةٍ لَا سَاعَةٌ لَكَ بَعْدَهَا

عنقریب کسی بھی وقت یہ لمحات ایک ایسے لمحے تمہیں سپرد کر دیں گے کہ جس کے بعد تمہارے لیے مزید وقت نہیں ہو گا۔

دن کتنی تیزی کے ساتھ گزرتے جا رہے ہیں، خود بھی گزر رہے ہیں اور ہمیں بھی ساتھ لے جا رہے ہیں، ہر دن میں ہماری کوئی نہ کوئی خواہش دم توڑ جاتی ہے  اور ہم بھی موت کے قریب ہوتے جاتے ہیں۔

أَيْنَ مَنْ كَانَ قَبْلَنَا أَيْنَ أَيْنَا

مِنْ أُنَاسٍ كَانُوْا جَمَالاً وَزَيْنًا

ہم سے پہلے بہت سے لوگ تھے وہ کہاں چلے گئے؟ وہ تو سراپا جمال و کمال  تھے!

إِنَّ دَهْراً أَتَى عَليْهِمْ، فَأفْنَى

مِنْهُمُ الْجَمْعَ سَوْفَ يَأْتِيْ عَلَيْنَا

زمانے نے انہیں بھی فنا کر دیا! جلد یہی زمانہ ہم پر بھی آئے گا!

كَمْ رَأيْنَا مِنْ مَيّتٍ كَانَ حَيّاً

وَوَشِيْكاً يُرَى بِنَا مَا رَأَيْنَا

کتنے ہی فوت شدگان ہم نے دیکھے کہ وہ بھی کبھی زندہ تھے! اب ہمارے ساتھ بھی عنقریب وہی ہو گا جو ہم نے کسی کے ساتھ دیکھا!

مَا لَنَا نَأْمُلُ الْمَنَايَا كَأَنَّا

لَا نَرَاهُنَّ يَهْتَدِيْنَ إِلَيْنَا

ہمیں کیا ہو گیا ہے کہ ہم موت سے بے خوف ہو گئے ہیں! کہ ہمیں موت آنے کی توقع ہی نہیں ہے!

اے غافل اور مدہوش !

کیا یہ بھول گئے ہو کہ ہم سب بشر ہیں؟!

ہم تقدیر کے گھیرے میں ہیں!

ہم محوِ سفر ہیں!

ہم ایک  گڑھے کی طرف جا رہے ہیں!

موت ہم سب کو آنی ہے!

حشر میں ہم سب نے اکٹھے ہونا ہے!

کب تک تم باز نہیں آؤ گے اور اپنے آپ کو لگام نہیں دو گے؟!

کب تک تم نصیحت کرنے والے کی بات پر کان نہیں دھرو گے؟!

کب تک تمہارا دل ملامت گر کے سامنے موم نہیں گا؟!

کیا ابھی تک وقت نہیں آیا کہ تم خشوع اپناؤ اور تہجد گزار بن جاؤ؟!

کیا ہم نیم بیہوشی میں ہیں یا ہمارے دل ہی پتھر ہو چکے ہیں؟!

پیارے بھائی ہوش کے ناخن لے، دیکھنا کہیں سوئے  نہ رہ جانا!!

اے دھوکے میں پڑے ہوئے ! تم خواب خرگوش میں ہو اور آگ کو دہکایا جا رہا ہے!

اس آگ کے شعلے بھجائے نہیں جائیں گے اور نہ ہی اس  کے انگارے ماند پڑیں گے!!

كَانَ النَّبِيُّ وَلَمْ يَخْلدْ لِأُمَّتِهِ

لَوْ خَلَّدَ اللهُ خَلْقًا قَبْلَهُ خَلَدَا

نبی ﷺ بھی اپنی امت کے لیے ہمیشہ نہ رہ سکے؛ اگر اللہ نے آپ سے پہلے کسی کو دائمی زندگی دی ہوتی تو آپ بھی ہمیشہ رہتے

لِلْمَوْتِ فِيْنَا سِهَامٌ غَيْرُ خَاطِئَةٍ

مَنْ فَاتَهُ الْيَوْمَ سَهْمٌ لَمْ يَفُتْهُ غَدًا

ہم موت کے عین نشانے پر ہیں اس میں خطا کا امکان نہیں، اگر آج کوئی بچ بھی گیا تو کل نہیں بچ پائے گا۔

{وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ (34) كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ} (اے نبی) آپ سے پہلے بھی ہم نے کسی انسان کے لئے دائمی زندگی تو نہیں رکھی، اگر آپ فوت ہو جائیں تو کیا وہ  ہمیشہ رہیں گے؟[٣4] ہر جاندار کو موت کا مزا چکھنا ہے اور ہم تو تمہیں اچھے اور برے حالات (دونوں طرح) سے آزماتے ہیں اور بالآخر تمہیں ہماری طرف لوٹنا ہے۔ [الأنبياء: 34، 35]

کہاں ہیں وہ جن کے ساتھ ہم اکٹھے رہتے تھے اور ان سے محبت کرتے تھے؟

کہاں ہیں جن کے ساتھ دلی تعلق تھا اور ہم ان سے انس رکھتے تھے؟

ہم نے اپنے کتنے احباب کی  آنکھیں اپنے ہاتھوں سے بند کیں!؟

کتنے ہی  جان سے زیادہ عزیز ؛ اپنوں کو دفنایا اور  قبر سے واپس ہو لیے!؟

کتنے ہی پیاروں کو ہم نے قبروں میں تنہا لٹایا اور وہاں کھڑے بھی نہ ہوئے!؟

کیا موت نے کسی مریض کی پتلی حالت دیکھ کر اس پر ترس کھایا؟

کیا موت نے بچوں کا پیٹ پالنے والے تنہا سہارے کو بھی بخشا؟

کیا اہل خانہ کی ضروریات  پوری کرنے کیلیے کسی کو کوئی مہلت دی؟

إِلَى كَمْ تَمَادَى فِي غُرُوْرٍ وَغَفْلَةِ

وَكَمْ هَكَذَا نَوْمٌ مَتَى يَوْمُ يَقْظَةِ

دھوکے و غفلت میں کب تک سرکشی کرو گے؟ اور کب تک سوئے رہو گے!؟ بیداری کا دن کب آئے گا؟!

لَقَدْ ضَاعَ عُمْرٌ سَاعَةٌ مِنْهُ تُشْتَرَى

بِمِلْءِ السَمَا وَالْأَرْضِ أَيَّةَ ضَيْعَةِ

ساری زندگی برباد ہو گئی، حالانکہ اس کے ایک لمحے کی قیمت آسمان و زمین  کے برابر ہے، یہ تم کیسا نے نقصان کر دیا!؟

أَفَانٍ بِبَاقٍ تَشْتَرِيْهِ سَفَاهَةً

وَسُخْطًا بِرضْوَانٍ وَنَارًا بِجَنَّةِ

بیوقوفی کرتے ہوئے تم نے دائمی زندگی کے بدلے  فانی ، رضا کے بدلے ناراضی، اور جنت کے بدلے جہنم خرید لی؟!

أَأَنْتَ صَدِيقٌ أَمْ عَدُوٌّ لِنَفْسِهِ

فَإِنَّكَ تَرْمِيْهَا بِكُلِّ مُصِيْبَةِ

کیا تم اپنی جان کے دوست ہو یا دشمن؟! تم تو اسے مصیبتوں میں جکڑنا چاہتے ہو!

لَقَدْ بِعْتَهَا حُزْنِيْ عَلَيْكَ رَخيْصَةً

وَكَانَتْ بِهَذا مِنْكَ غَيْرُ حَقِيْقَةِ

مجھے بڑا افسوس ہے کہ تم نے اپنی جان کو اونے پونے میں بیچ دیا! اور تم نے اپنے نفس کیساتھ  بالکل انصاف نہیں کیا!!

اللہ کے بندے!

اَلْيَوْمَ تَفْعَلُ مَا تَشَاءُ وَتَشْتَهِيْ

وَغَدًا تَمُوْتُ وَتُرْفَعُ الْأَقْلَامُ

آج من میں جو بھی آئے کر گزرتے ہو اور کل مر جاؤ گے اور قلمیں اٹھا لیں جائیں گی۔

وَيَفْسُقُ الْمُذْنِبُ بِالْكَبِيْرَةِ

كَذَا إِذَا أَصَرَّ بِالصَّغِيْرَةِ

کبیرہ گناہ کرنے سے انسان فاسق ہو جاتا ہے اور اسی طرح صغیرہ گناہ پر اصرار سے بھی

لَا يَخْرُجُ الْمَرْءُ مِنَ الْإِيْمَانِ

بِمُوْبِقَاتِ الذَّنْبِ وَالْعِصَيَانِ

لیکن ان مہلک گناہوں  اور نافرمانیوں سے انسان ایمان سے خارج نہیں ہوتا۔

وَوَاجِبٌ عَلَيْهِ أَن يَّتُوْبَا

مِنْ كُلِّ مَا جَرَّ عَلْيْهِ حُوْبًا

تاہم اس پر واجب ہے کہ توبہ کرے ایسے تمام افعال سے جسے گناہ کہا جاتا ہے۔

{وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ} اے ایمان والو! تم سب  اللہ کے حضور  توبہ کرو توقع ہے کہ تم کامیاب ہو جاؤ گے۔ [النور: 31]

ابو موسی رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: (بیشک اللہ تعالی رات کے وقت ہاتھ پھیلاتا ہے  تا کہ  دین میں گناہ کرنے والا توبہ کر لے، اور دن میں اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تا کہ رات کو گناہ کرنے والا توبہ کر لے، [یہ معاملہ اس وقت تک جاری  رہے گا]یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے۔) مسلم

أَستَغفِرُ اللَهَ مِن ذَنبي وَمِن سَرَفي

إِنّي وَإِن كُنتُ مَستوراً لَخَطّاءُ

میں اپنی کوتاہیوں اور گناہوں کی اللہ سے بخشش مانگتا ہوں، اگرچہ مجھ پر پردہ ہے؛ لیکن میں بہت خطا کار ہوں

لَم تَقتَحِم بي دَواعي النَفسِ مَعصيةً

إِلّا وَبَيني وَبَينَ النورِ ظَلماءُ

نفسانی خواہشات نے مجھے گناہوں کا رسیا نہیں بنایا؛ وگرنہ میرے اور نور کے درمیان اندھیرا حائل ہوتا۔

وَلَقَد عَجِبتُ لِغَفلَتي وَلِغِرَّتي

وَالمَوتُ يَدعوني غَداً فَأُجيبُ

میں حیرت میں ہوں کہ کیسے غافل اور دھوکے میں ہوں؛ حالانکہ موت مجھے کل بلا لے تو مجھے جانا ہو گا۔

وَلَقَد عَجِبتُ لِطولِ أَمنِ مَنِيَّتي

وَلَها إِلَيَّ تَوَثُّبٌ وَدَبيبُ

مجھے اپنی لمبی خواہشات پر بھی تعجب ہے کہ وہ اچھل کر یا رینگ کر ہر طرح میری طرف بڑھتی ہیں۔

عصيتُ اللهَ أيامي وليلِي

وفي العِصيان قد أسبلتُ ذَيلي

میں نے دن رات اللہ کی نافرمانی کی ہے اور گناہوں سے میرا دامن اٹا ہوا ہے۔

فويْلِي إن حُرِمتُ جِنانَ عدنٍ

وويلِي إن دخلتُ النارَ ويْلِي

اگر جنت عدن سے محروم رہ گیا تو یہ میری تباہی ہے اور اگر جہنم میں چلا گیا تو یہ اس سے بھی بڑی ہلاکت ہے۔

{قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ} آپ لوگوں سے کہہ دیجیے: اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، اللہ یقیناً سارے ہی گناہ معاف کر دیتا ہے کیونکہ وہ غفور رحیم ہے [الزمر: 53]

میں اللہ تعالی سے مغفرت طلب کرتا ہوں تم بھی اسی سے مغفرت طلب کرو، بیشک وہ رجوع کرنے والوں کو معاف کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں کہ اس نے ہمارے لیے دین کو مکمل فرمایا اور نعمتیں پوری فرما دیں،  میں اللہ تعالی کی وافر نعمتوں پر اسی کی حمد خوانی کرتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں  کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، ایسی گواہی دینے والے کو بہترین تحفظ مل جاتا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں ، اللہ تعالی نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا، اللہ تعالی اُن پر، انکی آل، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں ،سلامتی، اور برکتیں نازل فرمائے۔

 حمدو صلاۃ کے بعد:

مسلمانو! تقوی الہی اختیار کرو، اور اسے اپنا نگہبان جانو، اسی کی اطاعت کرو، اور نا فرمانی مت کرو، {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ} اے ایمان والو! تقوی الہی اختیار کرو، اور سچے لوگوں کے ساتھ رہو۔ [التوبہ : 119]

مسلمانو!

دین اصل سرمایہ ہے، دین ہی حال اور مستقبل ہر دو حالت میں عزت اور شرف کا ضامن ہے۔

کسی بھی قسم کی کمی دین سے پوری ہو جاتی ہے؛ لیکن دینی کمی کسی چیز سے پوری نہیں ہوتی ہو سکتی۔

کوئی بھی مصیبت اور پریشانی چاہے وہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، انسان کے لیے دینی مصیبت اور پریشانی سے کم تر ہوتی ہے۔

خیال کرنا کہ: فتنوں کا سیلاب امڈ آیا ہے، سانپوں کے رینگنے کے نشانات زمین واضح نظر آ رہے ہیں، جبکہ کچھ زیر زمین  ابھی تک چھپے ہوئے ہیں،  نر بچھو اور کنکھجورے  خفیہ انداز میں  دندنا رہے ہیں، نیز پتھروں کے نیچے ان کے زہریلے انڈے بھی چھپے ہوئے ہیں، یہ دنیا آزمائش اور ابتلا کا گھر ہے اس لیے اس آزمائش کے لیے تیاری رکھو۔

حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: "اللہ کے رسول! ہم برائیوں میں گھرے ہوئے تھے تو اللہ تعالی نے ان برائیوں کو ختم کر کے آپ کے ذریعے ہمیں خیر و بھلائی عطا فرمائی، تو کیا اس خیر کے بعد دوبارہ شر ہے؟" تو آپ ﷺ نے فرمایا: (جی ہاں!) "تو  میں نے کہا:  وہ شر کیسا ہو گا؟" تو آپ ﷺ نے فرمایا: (یہ شر اندھیری رات کے اندھیروں کی طرح  فتنوں جیسا ہو گا، یہ فتنے پے در پے آئیں گے،  ان کی آپس میں مشابہت ایسی ہو گی جیسے  گائیں ایک دوسرے سے مشابہت رکھتی  ہیں، تمہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کون سی گائے کس سے پیدا ہوئی؟ ) مسند احمد

فتنہ یہ ہے کہ آپ حق اور باطل میں فرق نہ کر سکیں اور آپ کو معلوم نہ ہو کہ کس چیز پر عمل پیرا ہونا ہے؟ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ مزید کہتے ہیں کہ: "اگر آپ دین کی معرفت رکھتے ہیں تو آپ کو فتنہ کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔  فتنہ یہ ہے کہ آپ حق اور باطل میں فرق نہ کر سکیں اور آپ کو معلوم نہ ہو کہ کس چیز پر عمل پیرا ہونا ہے؟ یہ فتنہ ہے" مصنف ابن ابی شیبہ

اگر کوئی شخص یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ وہ فتنے میں مبتلا ہوا ہے یا نہیں تو وہ یہ دیکھے کہ  اگر کسی چیز کو پہلے حلال سمجھتا تھا لیکن اب حرام سمجھنے لگ گیا ہے تو وہ فتنے میں پڑ گیا، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ

انہوں نے مزید کہا کہ: "اگر کوئی شخص یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ وہ فتنے میں مبتلا ہوا ہے یا نہیں تو وہ یہ دیکھے کہ  اگر کسی چیز کو پہلے حلال سمجھتا تھا لیکن اب حرام سمجھنے لگ گیا ہے تو وہ فتنے میں پڑ گیا، اور اگر وہ کسی چیز کو پہلے حرام سمجھتا تھا لیکن اب حلال سمجھنے لگ گیا ہے تو وہ فتنے میں مبتلا ہو چکا ہے" مستدرک حاکم، مطلب یہ ہے کہ انسان کا موقف کسی رائے، ذاتی ہوس یا شہوت کی بنا پر تبدیل ہو جائے تو یہ فتنہ ہے۔

امام مالک کے ہاں‌فتنے کا مفہوم: آپ کے پاس ایک سے بڑھ کر ایک کج بحثی کرنے والا آئے اور آپ کو اس دین سے پھیرنے کی کوشش کرے جو جبریل علیہ السلام رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آئے تھے"

امام مالک بن انس رحمہ اللہ کہتے ہیں: "[فتنہ یہ ہے کہ ] آپ کے پاس ایک سے بڑھ کر ایک کج بحثی کرنے والا آئے اور آپ کو اس دین سے پھیرنے کی کوشش کرے جو جبریل علیہ السلام رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آئے تھے"

أأَقْعُدُ بَعْدَمَا رَجَفَتْ عِظَامِي

وَكَانَ الْمَوْتُ أَقْرَبَ مَا يَلِينِي

جب موت میرے سر پر ہو اور ہڈیاں کانپنے لگ جائیں تو کیا میں خود سے اٹھ کر بیٹھ جاؤں ؟!

أُجَادِلُ كُلَّ مُعْتَرِضٍ خَصِيمٍ

وَأَجْعَلُ دِينَهُ غَرَضًا لَدِينِي

میں اعتراض  اور کج بحثی میں پڑنے والے  ہر شخص سے الجھوں اور اپنا دین اس کے داؤ پر لگا دوں!؟

فَأَتْرُكُ مَا عَلِمْتُ لَرَأْيِ غَيْرِي

وَلَيْسَ الرَّأْيُ كَالْعِلْمِ الْيَقِينِ

میں اپنا نظریاتی موقف کسی کی رائے کی وجہ سے چھوڑ دوں؟! رائے تو یقینی علم نہیں !

وَقَدْ سُنَّتْ لَنَا سُنَنٌ قِوَامٌ

يَلُحْنَ بِكُلِّ فَجٍّ أَوْ وَجِينِ

ہمارے لیے ٹھوس اور محکم طریقے کار وضع کر دئیے گئے ہیں جو ہر نشیبی اور بالائی علاقے کو روشن بنا سکتے ہیں۔

وَكَانَ الْحَقُّ لَيْسَ بِهِ خَفَاءٌ

أَغَرَّ كَغُرَّةِ الْفَلَقِ الْمُبِينِ

حق بات کسی بھی اعتبار سے  اوجھل نہیں ہے، وہ تو نور صبح کی طرح واضح اور عیاں ہے۔

وَمَا عِوَضٌ لَنَا مِنْهَاجُ جَهْمٍ

بِمِنْهَاجِ ابْنِ آمِنَةَ الأَمِينِ

ہمارے  لیے جہم کا منہج آمنہ کے لعل  ﷺ کی سنت کا متبادل نہیں ہو سکتا۔

 ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:  "میں کسی ایسے عمل کو ترک نہیں کر سکتا جس پر رسول اللہ ﷺ عمل پیرا تھے، مجھے تو خدشہ ہے کہ اگر میں نے آپ کی سنت میں سے کسی چیز کو ترک کر دیا تو کہیں گمراہ نہ ہو جاؤں"

اللہ کے بندو! کتاب و سنت، شریعت ، دین اور اخلاقی اقدار پر مضبوطی سے قائم رہو، گمراہ کرنے والوں  اور فتنہ پروروں سے بچو، خیال کرنا وہ تمہیں اللہ کی نازل کردہ شریعت سے معمولی سا بھی ہٹا نہ پائیں ۔

احمد الہادی، شفیع الوری ، نبی  ﷺ پر بار بار درود و سلام بھیجو، (جس نے ایک بار درود پڑھا اللہ تعالی اس کے بدلے میں اس پر  دس رحمتیں نازل فرمائے گا)

یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد پر درود  و سلام نازل فرما،   تمام صحابہ کرام، اہل بیت اور تابعین و تبع تابعین سے راضی ہو جا، اور ان کے کیساتھ ساتھ ہم سے بھی راضی ہو جا، یا کریم! یا وہاب!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! شرک اور مشرکوں کو ذلیل و رسوا فرما،  دین دشمنوں کو تباہ و برباد فرما، اس  ملک کو اور دیگر تمام مسلم ممالک کو خوشحالی، امن و سلامتی  اور استحکام عطا فرما،  یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین   کو صرف انہی کاموں کی توفیق عطا فرما جن سے توں راضی ہوتا ہے اور جنہیں تو پسند فرماتا ہے، نیز اس کی نیکی اور تقوی پر مبنی کاموں کے لیے رہنمائی فرما، یا اللہ! انہیں اور ان کے ولی عہد کو  اسلام اور مسلمانوں  کی بہتری کیلیے اقدامات کرنے کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم تیری نعمتوں کے زوال ، تیری طرف سے عطا کردہ عافیت کے خاتمے  اور تیری اچانک پکڑ سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔

یا اللہ! ہمیں وافر رزق عطا فرما، یا اللہ! ہم پر کسی کو پھبتی کسنے کا موقع نہ دے، اور کسی کافر کو ہم پر مسلط نہ فرما۔

یا اللہ! مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما، مشکل میں پھنسے لوگوں کی مشکلیں آسان فرما، قیدیوں کو رہائی عطا فرما، اور فوت شدگان  پر رحم فرما، اور ہم پر زیادتی کرنے والوں کے خلاف ہماری مدد فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے مجاہدوں اور محاذوں پر برسرپیکار  فوجیوں کی مدد فرما، یا رب العالمین! ؎

یا اللہ! پوری دنیا میں کمزور مسلمانوں کی مدد فرما،  یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کی مشکلات حل فرما دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمیں تیری ملاقات کے لیے پاکیزہ فرما لے، ہمیں تیری عنایتوں پر قناعت عطا فرما، تیرے تقدیری فیصلوں پر ہمیں راضی فرما دے، یا اللہ! ہمیں اپنی طرف سے حلال اتنا عطا فرما کہ حرام کی ضرورت نہ پڑے، اور اپنا فضل اتنا عطا فرما کہ تیرے سوا کسی کی محتاجی نہ رہے۔

یا اللہ! ہمارے گناہوں اور خطاؤں کو ہم سے دور فرما دے، یا اللہ! ہمیں شیطان مردود سے پناہ عطا فرما۔

یا اللہ! تو ہی بہت زیادہ معاف کرنے والا ہے، یا اللہ! تو ہی بہت زیادہ معاف کرنے والا ہے، یا اللہ! تو ہی بہت زیادہ معاف کرنے والا ہے،  یا اللہ! تو ہی وسیع مغفرت والا ہے، یا اللہ! تو ہی وسیع مغفرت والا ہے، یا اللہ! ہم سب کو معاف فرما دے، یا اللہ! ہم سب کو معاف فرما دے، یا اللہ! ہم سب کو معاف فرما دے،یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! ہماری دعاؤں کو قبول فرما، یا اللہ! ہماری دعاؤں کو اپنی بارگاہ میں بلند فرما، یا کریم! یا رحیم! یا عظیم!

پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ یا پرنٹ کرنے کیلیے کلک کریں

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ایم ایس تفسیر کے طالب علم ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں