پیڈوفیلیا، حقیقت اور افسانہ - ڈاکٹر وحید رزاق

قصور میں ننھی زینب کا قتل پورے ملک کو سوگ اور غم و غصے میں مبتلا کر گیا، ہر صاحب احساس شخص اس اندوہناک جرم اور پھر اس کے بعد ہونے والے واقعات پر رنجیدہ ہے۔ اس واقعے کے بعد معاشرہ بجا طور اس کے معاشرتی، قانونی اور نفسیاتی پہلوؤں پر غور کررہا ہے۔ ایسی صورتحال میں جس نفسیاتی مسئلے کا سب سے زیادہ خیال لوگوں کے ذہن میں آتا ہے وہ پیڈوفیلیا یعنی بچوں کی طرف جنسی رغبت ہے اور اکثر اوقات یہ سمجھا جاتا ہے کہ بچوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے والے اشخاص پیڈوفیلیا کا شکار ہوتے ہیں جبکہ حقیقت عمومی تصور کے بر عکس ہے۔ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پیڈوفیلیا ہے کیا؟ بنیادی طور پر اس مرض کی تشخیص کے لیے تین عوامل کا ہونا ضروری ہے

۱) کم از کم گزشتہ چھ ماہ سے بچوں کی طرف شدید جنسی رغبت کا ہونا، ایسے خیالات کا بار بار آنا، (صرف )بچوں کے ساتھ جنسی فعل میں ملوث ہونے کی خواہش۔ (بچوں کی عمر تیرہ سال سے کم ہونی چاہیے)

۲) بچوں کے بارے جنسی خیالات اس شخص کو اس قدر پریشان کر رہے ہوں کہ وہ روز مرہ کے معمولات صحیح طرح سر انجام نہ دے سکے یا پھر اس نے اپنی خواہشات پر عمل کیا ہو

۳) مذکورہ شخص کی عمر کم از کم سولہ سال ہو اور وہ بچے سے عمر میں کم از کم پانچ سال بڑا ہو

یہ واضح رہے کہ پیڈوفیلیا میں مبتلا شخص بنیادی طور پر یا صرف اور صرف بچوں کے ساتھ جنسی طور پر رغبت رکھتا ہے، اور اسے اپنی یامخالف جنس اور بالغ افراد میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔

یہ بات انتہائی اہم ہے کہ بچوں کے ساتھ جنسی فعل میں ملوث ہونے والے اکثر لوگ پیڈوفیلیا کا شکار نہیں ہوتے بلکہ موقع پرست (opportunist) ہوتے ہیں جو بچوں کو آسان ہدف سمجھ کر اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں اور وہ بچے کے خوف اور کسی کو نہ بتانے کا کہہ کر یا ڈرا کر اپنی ہوس پوری کرتے ہیں۔ ایسا کوئی بھی شخص جو عمومی طور پر بالغ افراد سے جنسی تعلق کو بچوں سے جنسی تعلق پر ترجیح دے، وہ پیڈوفیلیا کا مریض نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں:   گمشدہ بچے اور سیکس مافیا - خالد ایم خان

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پیڈوفیلیا کا شکار تمام لوگ زبردستی جنسی فعل میں ملوث (molester) نہیں ہوتے اور وہ اپنے رویے پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

قانونی طور پر اس بیماری کی کوئی حیثیت نہیں اور اسے بچوں کے ساتھ جنسی فعل میں ملوث ہونے والے کسی بھی دوسرے فرد کی طرح سزا دی جا سکتی ہے۔ کیونکہ انہیں یہ پتا ہوتا ہے کہ یہ فعل غلط ہے اور اس کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟ McNaughten Rule کے مطابق کوئی بھی شخص جس کی جرم کے وقت حقائق کو سمجھنے اور فیصلہ سازی کی صلاحیت محفوظ ہو، اسے پتا ہو کہ وہ کیا کر رہا ہے اور جو وہ کر رہا ہے وہ غلط ہے، ایسا شخص قانون کے لیے قابل گرفت ہوتا ہے اور اس پر مقدمہ چلا کر سزا دی جا سکتی ہے۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ کوئی بھی شخص جو کسی بھی گھناؤنے جرم میں مبتلا ہوتا ہے ممکن ہے کہ وہ اپنے بچپن کے کسی ٹراما یا ماحول کی وجہ سے کسی نفسیاتی الجھن کا شکار ہو تاہم یہ بات اسے قانون کی گرفت سے نہیں بچا سکتی۔ ایسے اشخاص کو چاہیے کہ وہ اپنے لیے نفسیاتی ماہرین کی خدمات حاصل کریں اور ریاست کو چاہیے کہ اس میں ہر ممکن حد تک سہولت فراہم کرے۔

اہم بات: بچوں کے ساتھ زبردستی جنسی تعلق میں ملوث ہر شخص پیڈوفیلیا کا شکار نہیں ہوتا اور اس بیماری کا شکار ہر مریض زبردستی جنسی تعلق میں ملوث نہیں ہوتا۔