عوام کا فیصلہ؟ محمد عامر خاکوانی

چکوال کے حالیہ ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ن نے سیٹ جیت لی۔ یہ سیٹ ان کی تھی، مرحوم ایم پی اے کے بیٹے کو انہوں نے ٹکٹ دیا، وہ بھاری اکثریت سے جیت گیا۔ ان کا خاندان چھ بار یہ سیٹ جیت چکا ہے، اس اعتبار سے ان کی کامیابی یقینی نظر آ رہی تھی۔اس جیت کو مسلم لیگ ن نے اپنے حق میں عوامی مینڈیٹ قرار دیا ۔ میاں نواز شریف نااہل ہونے کے بعد مسلسل فرسٹریشن اور اضطراب کے ایک تکلیف دہ دور سے گزر رہے ہیں۔ کبھی تویہ گمان ہوتا ہے کہ میاں صاحب اس عدالتی فیصلے کے بعد دنیا میں ہونے والی ہر تبدیلی کو نااہلی کی عینک سے دیکھتے ہیں۔پنجاب میں سردی دیر سے آئی تو اس کی وجہ نااہلی تھی، ورنہ معمول کے مطابق موسم بدل جاتا، سموگ آ گئی تو یقینا یہ فطرت کا احتجاج ہے، سردی اچانک پڑنے لگی تو اس میں بھی میاں نواز شریف کے لئے کوئی مثبت اشارہ موجود ہے۔ معیشت کا پچھلے چار برسوں سے بیڑا غرق ہے، زراعت کا پچھلے پچاس برسوں میں ایسا برا حال پہلی بار ہوا کہ کسانوں نے کاشت کے بجائے زمینیں خالی رکھنے کو ترجیح دی۔پینتیس چالیس ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ لے لیا، موٹر وے تک گروی رکھنا پڑی، ایکسپورٹس بہت نیچے آ گئیں اور نوبت یہ آ پہنچی کہ ملک ڈیفالٹ ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔ میاں صاحب اور ان کے قلمی حواری بڑی ہنرمندی سے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ معیشت کی یہ خرابی نااہلی کے فیصلے کے باعث ہوئی۔ یہ بات سراسرغلط اور اعدادوشمار کے خلاف ہے، مگر ہمارے ہاں سب سے آسان کام غلط دعوے کرنا ہے۔

چکوال کے الیکشن کے بعد میاں نواز شریف نے فخریہ اسے اپنے حق میں عوامی مینڈیٹ قرار دیا ۔ مریم نوازصاحبہ اور ان کے میڈیا سیل نے اسے عظیم فتح قرار دیا، سوشل میڈیا پر ن لیگی احباب بغلیں بجاتے پھر رہے ہیں۔ایک صاحب نے تواسے پوٹھوہار کے فیصلے سے تشبیہہ دے ڈالی ۔ ایک اور جگہ پڑھا کہ مرحوم پیر مردان شاہ پگاڑا پاکستان کے تین اضلاع، روالپنڈی، جہلم اور چکوال کے مینڈیٹ کو اہمیت دیتے تھے، (شائد اس لئے کہ ان علاقوں کی فوج میں خاصی نمائندگی ہے) ان صاحب نے چکوال کے ایک صوبائی اسمبلی کے الیکشن نتائج کو پوری بیلٹ کا فیصلہ قرار دیا۔ یہ عجیب وغریب دلیل ہے، مگر ہمارے سیاسی منظرنامے میں اس کی بہت مثالیں ملتی ہیں۔ صرف مسلم لیگ ن نہیں ، بلکہ دیگر بڑی جماعتیں بھی کسی ضمنی انتخاب میں کامیابی کو اپنے حق میں ریفرنڈم سے معمولی درجے کی کامیابی نہیں سمجھتے۔ پی ٹی آئی بھی ایسا ہی کرتی رہی ہے۔ دورکیوں جائیے، لودھراں سے جہانگیر ترین کی چھوڑی سیٹ اگرضمنی انتخاب میں علی ترین نے جیت لی،( اس وقت ان کے امکانات قوی لگ رہے ہیں) تو اس فتح کو پی ٹی آئی مسلم لیگ ن کے خلاف عوامی فیصلہ قرار دے گی۔ حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں۔ لودھراں میں جہانگیر ترین نے بڑی محنت ، کوشش اور انویسٹمنٹ کے بعد اپنا حلقہ بنایا ہے۔ یہ سیٹ اگر جیت لی جاتی ہے تو سچی بات ہے کہ فتح کا ستر ، اسی فیصد کریڈٹ جہانگیر ترین ہی کو جائے گا۔

اس طرح کی باتیں برسوںسے سن رہے ہیں۔ مجھے زمانہ طالب علمی میں بھی اس پر حیرت ہوتی کہ پاکستان کے کئی سو حلقوں میں سے کسی ایک صوبائی یا قومی اسمبلی کے حلقے کے انتخابی نتیجے کوجنرلائز کس طرح کیا جا سکتا ہے؟ ہمارے ہاںبہت سے حلقے ایسے ہیں، جن کی اپنی ڈائنامکس ہیں اور جن پر قومی منظرنامے کا زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ مقامی سطح پر دھڑے کی سیاست رنگ دکھاتی ہے، بہتر گروپنگ کرنے اور مقامی سطح پر زیادہ اچھے رابطے رکھنا والا کامیاب ہوجاتا ہے، اس میں پارٹی ٹکٹ کی زیادہ اہمیت نہیں۔ ایسے میں کسی ایک حلقے کی بنیاد پر پورے ملک کے حوالے سے تجزیہ کرنا کس طرح ممکن ہے؟ مختلف حلقوں کی پاور پاکٹس ہیں، ہر جگہ کے اپنے مقامی حالات، مسائل اور ووٹرز ٹرینڈ ہے۔ جیسے پنجاب میں لاہور کے ووٹر کا بہاولپور یا ڈی جی خان کے ووٹرسے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ لاہور میں الیکٹ ایبل زیادہ اہم نہیں۔ یہاں برادریوں کی اہمیت البتہ زیادہ ہے ،مخصوص حلقوں میں مخصوص برادریوںکے گڑھ یا کلسٹر ہیں، بڑی جماعتوں کو بھی اپنے امیدوار فائنل کرتے وقت یہ ضرور دیکھنا پڑتا ہے۔ لاہور میں مگر سیاسی جماعت کے ٹکٹ کی اہمیت زیادہ ہے۔ اب یہی دیکھ لیں کہ این اے 126سے تحریک انصاف کے شفقت محمود ایم این اے منتخب ہوئے۔ شفقت صاحب عوامی شخصیت نہیں، اپنے طور پر وہ بلدیاتی الیکشن بھی نہیں جیت سکتے ۔ پی ٹی آئی کا ٹکٹ رنگ لایا اور موصوف رکن اسمبلی بن گئے۔ اسی طرح این اے 125جو ڈیفنس کا حلقہ ہے، وہاں سے معروف قانون دان حامد خان امیدوار تھے اور وہ تقریباً سیٹ جیت گئے تھے، خواجہ سعد رفیق کی کامیابی پر پہلے روز سے شکوک کے سائے ہیں۔ حامد خان وکیلوں کی سیاست میں تو بڑے فعال ہیں، مگروہ بھی عوامی سیاستدان نہیں، حلقے کی سطح پر رابطے نہیں رکھتے، صرف تحریک انصاف کی وجہ سے اتنے زیادہ ووٹ لے گئے۔دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلم لیگ ن کی ٹکٹ نہ ہوتی تو پرویز ملک صاحب کسی بھی صورت میں ایک لاکھ ووٹ لے کر کامیاب نہ ہوپاتے۔

سنٹرل پنجاب کے بعض بڑے شہروں میں بھی پارٹی ٹکٹ اہم ہے۔ گوجرانوالہ مسلم لیگ ن کا گڑھ ہے، یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی یہاں بری طرح ہاری، تاہم قریبی شہر وزیرآباد کے ضمنی انتخاب میں حامد ناصر چٹھہ کے صاحبزادے ن لیگی امیدوار افتخار چیمہ سے سیٹ جیتتے جیتتے رہ گئے۔ فیصل آباد میں سیاسی نظریات اثر دکھاتے ہیں، جبکہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں برادریاں اہم ہیں، جھنگ کی اپنی ہی الگ سیاست ہے۔حافظ آباد میں بھٹی خاندان اہم ہے، ان کے پاس کسی پارٹی کا ٹکٹ ہو، کوئی انہیں نظرانداز نہیں کر سکتا۔ منڈی بہاؤالدین میں الیکٹ ایبلز کی اہمیت کی وجہ ہی سے تحریک انصاف نے نذر گوندل کو الزامات کے باوجود پارٹی میں شامل کیا۔ دوسری طرف ملتان شہر میں تحریک انصاف کا اثر و رسوخ گہرا ہے ، مخدوم جاوید ہاشمی پارٹی چھوڑ گئے تو ایک بھی انصافین کارکن ان کے ساتھ نہیں گیا، ضمنی الیکشن ہاشمی صاحب بری طرح ہارے۔ لودھراں میں البتہ الیکٹ ایبلز کی لڑائی ہے۔ ڈی جی خان ، راجن پور میں صورتحال یکسر مختلف ہے۔ وہاں بعض حلقوں میں قبائلی سردار ایک دوسرے کے مقابل الیکشن لڑتے اور جس کی تیاری بہتر ہو، وہ میدان مار لیتا ہے۔ رحیم یار خان میں مخدوم اہم ہیں اور مئی تیرہ کے انتخابات میں جب پیپلزپارٹی کا پنجاب سے صفایا ہوگیا، اس وقت بھی انہوں نے دو نشستیں نکال لیں۔
خیبر پختون خوا کی اپنی چار پانچ سیاسی پاکٹس ہیں۔ پشاور کی چار سیٹوں کا اپنا بیک گراؤنڈ ہے، مردان، صوابی ، چارسدہ کی الگ سیاست، جنوبی اضلاع یعنی ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت، بنوں کی سیاست پشاور سے مختلف ہے۔ ہزارہ ڈویژن (ایبٹ آباد، ہری پور، مانسہرہ وغیرہ) کی سیاسی پاکٹ مختلف ہے تو سوات کی سیاست کا اور رنگ ہے، دیر اور بونیر کے اضلاع جماعت اسلامی کی پناہ گاہ ہیں، مئی تیرہ کے انتخابات میں ان اضلاع کے ووٹرز نے جماعت کا بھرم رکھا۔ بلوچستان کی پشتون بیلٹ میں محمود اچکزئی کی پختون خوا ملی عوامی پارٹی (میپ) اور جے یوآئی ف کامقابلہ ہے، بلوچ علاقوں میں نیشنل پارٹی اور مینگل گروپ اپنا حصہ لینے کی کوشش کرتا ہے، بیچ بیچ میں مختلف قبائلی سردار جہاں جہاں بس چلے، نشست لے اڑتے ہیں۔ اب بلوچستان کے پشین، ژوب، زیارت وغیرہ کے انتخابی نتائج دیکھ کر کوئی یہ کہے کہ بلوچ علاقوں میں بھی اچکزئی کی میپ میدان مار لے گی، تو ایسے تجزیہ کار کی بھد اڑے گی۔ کراچی کی شہری سیاست تین عشرے تک مہاجر ووٹ کے گرد گھومتی رہی، پچھلی بار تحریک انصاف کو بھی لاکھوں ووٹ پڑ گئے، اس بارچونکہ الطاف حسین فیکٹر مائنس ہوچکا، دیکھیں کیا نیا پیٹرن بنتا ہے؟ اندرون سندھ پیپلزپارٹی کے ٹکٹ کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ اس کے باوجود وہاں مخصوص علاقوں میں الیکٹ ایبلز کی اپنی قوت ہے۔ اس حد تک یہ طاقتور ہیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی مظلومانہ ہلاکت کے بعد پیپلزپارٹی نے الیکشن جیت لیا، مگر اندرون سندھ جہاں پی پی پی کے حق میں آندھی چل جانی چاہیے تھی، وہاں سے سندھی الیکٹ ایبلز ق لیگ کے ٹکٹ پر دس کے قریب قومی اسمبلی کی نشستیں نکال گئے۔ ٹھٹہ کے شیرازی، روہڑی کے مہر، تھرپارکر کے ارباب، سانگھڑ، خیر پور میں پیر پگاڑا، نواب شاہ کے جتوئی اپنی الگ پہچان اور قوت رکھتے ہیں۔ اب کی بار بدین میں ذوالفقارمرزا بھی الیکٹ ایبل ہی لگ رہے ہیں۔

اس طولانی داستان سنانے کا مقصد صرف ایک سادہ نکتہ بیان کرنا تھا کہ جو بات جتنی ہے، اتنی ہی کہی جائے۔ ایک ضمنی انتخاب کسی پارٹی نے جیت لیا تو پہلے یہ دیکھا جائے کہ وہ کون سا حلقہ ہے، وہاں کی سیاسی ڈائنامکس کیا ہیں، الیکٹ ایبلز موجود ہیں یا نہیں اور ماضی میں اس حلقے کا رویہ کیا رہا تھا؟ اس کے بعد اس نتیجے کی بنیاد پر جو تجزیہ بنتا ہے، وہ کر ڈالیں۔ خواہ مخواہ بلند بانگ دعوے کرنے کا کیا فائدہ؟ جاننے والے حقیقت جانتے ہیں، جو نہیں جانتے، ان کو کب تک گمراہ کیا جا سکتا ہے؟ اس قدر فعال میڈیا کے زمانے میں حقیقت کتنی دیر تک چھپ سکتی ہے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں