جنسی تشدد، اپنی حفاظت کے26 طریقے! - عثمان حبیب

ظاہر ہے کہ اس ظالمانہ جمہوری و آمری نظام سے خیر اور انصاف کی کسی قسم کی توقع رکھنا بالکل ہی بے کار ہے کہ یہ نظام ہی سفاک اور قاتل نظام ہے۔اس نظام کو چلانے والے، اس کی حفاظت کرنے خود ہی قاتل ہیں تو ہم ان سے انصاف اور خیر کی کیا امید رکھ سکتےہیں؟ البتہ اپنے طور پر جو کچھ کرسکتےہیں وہ عرض کیے دیتےہیں ……اب ہمیں اپنی حفاظت خود ہی کرنی ہوگی!

کرنے کا اصل، حتمی اور مکمل کام یہ ہے کہ اس نظام کی بساط لپیٹ دی جائے جو اب تک نہ جانے کتنی " زینبوں ‌" کو درندگی کا نشانہ بنا چکا ہے مگر سزا کسی ایک کو بھی نہیں دی تاکہ اس طرح کی جرائم کی روک تھام ہوسکے۔ سردست اپنے طور پر جو ہم کرسکتے ہیں وہ پیش خدمت ہیں:

(1) شروع سے ہی گھر میں دینی ماحول بناکر رکھیں۔ بچوں کو حیادار اور پاک دامن بنائیں۔بچوں کو ایسا بنائیں کہ وہ اپنی حیااور پاک دامنی پر کسی طور کمپرومائز نہ کریں۔بچوں کے سامنے نہ تو گالی دیں، نہ کسی صورت بچوں کے سامنے حیا باختہ گفتگو کریں اور نہ ہی کوئی ایسا اشارے کریں جس سے بے حیائی جھلکتی ہو۔نیز، بچوں کی تربیت اس نہج پر کریں کہ نہ تو کوئی انہیں بری نیت سے چھو سکے اور نہ ہی وہ کسی پرمیلی نگاہ ڈال سکیں۔

(2) قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں وارد ہونے والی مسنون حفاظتی دعائیں بچوں کو ضرور یاد کروائیں۔ خصوصاً گھر سے نکلنے اور داخل ہونے کی دعائیں، آیت الکرسی، اور مشکل اور خطرے کی حالت میں یہ دعاخاص اہتمام کے ساتھ یاد کروائیں اللَّهُمَّ! إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِم

(3) بچیوں کو فیشن کے نام پر بھڑکیلے لباس نہ پہنائیں۔ اگر پہنائیں توپھر ان کا خیال بھی رکھا کریں اور ان کے پردے کا بھی اہتمام کریں۔ اگر چہ یہ معصوم کلیاں ہیں کسی صحیح الفطرت انسان کا برا خیال تک بھی نہیں جاسکتا، مگر جو کچھ ہوا وہ آپ کے سامنے ہے۔

(4) کسی کے گود میں بچے کو بیٹھنے سے سختی سے منع کریں، بھلے وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، خاص کر بچیوں کو بالکل ہی منع کردیں۔

(5) ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ والدین کریمین بعض اوقات اپنی "والدینی" کے زعم میں بچوں کو ڈانٹ ڈانٹ کر وہ پریشر ڈالتے ہیں اور بچے کو اتنا دباکے رکھتے ہیں کہ اگر بچے کے ساتھ باہر کچھ ہوبھی جائے تو اس ڈر سے نہیں بتاپاتے کہ گھر سے مزید ڈانٹ پڑے گی ۔ گزارش ہے کہ خدارا! اب اس روش کو ترک کیجیے اور بچوں کے ساتھ دوستانہ تعلق رکھیں، پیارومحبت سے بچے کو سمجھایاکریں۔ بچے کے ساتھ تعلق ایسا رکھیں کہ وہ آپ سے اپنی ہر بات شیئر کرلیا کرے۔ اس کے ساتھ جو بھی ہوجائے وہ سب سے پہلے آپ سے مدد چاہے،آپ کو بتائے اور آپ ہی کو اعتماد میں لے۔نیز ، والدین محترمین بچے کو یہ بھی اچھی طرح سمجھادیں کہ باہر آپ کے ساتھ کچھ بھی ایسا ہوجائے جو آپ کو برا اور ناپسندیدہ لگے تو فوراً سے پہلے پہلے ہمیں بتایا کریں اور اس میں کسی قسم کی جھجھک یا شرم محسوس نہ کرے۔ والدین سے یہ بھی گزارش ہے کہ بچے کی شکایت کو ہرگز اگنور مت کریں اور اس پر فوری ایکشن لیں۔ نیز، اس بات پر بچے کو ہی دوش نہ دیں اور نہ ہی اسے ڈانٹنا شروع کردیں کہ اس میں بچے کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔ اس سلسلے میں بدنامی کے خوف سے مائیں یا بڑے حضرات بات کو چھپانے اور دباکر رکھنے کی کوشش نہ کریں، بلکہ اس بارے فوری اور بھر پور ایکشن لیں۔آپ کے ساتھ جو ہونا تھا وہ ہوچکا اب مزید کسی کے ساتھ تو نہ ہونے دیں۔

(6) بچے کو اچھے انداز سے سمجھادیں کہ اگر کوئی آپ کے منہ، چھاتی ٹانگوں کے بیچ، شرمگاہ کو آگے یا پیچھےسے، محسوس یا غیر محسوس انداز سے چھونے کی کوشش کریں یا آپ کے جسم پر وہاں ہاتھ لگانے کی کوشش کرے جہاں آپ کواچھا نہ لگے، تو فوراً شور مچانا شروع کریں اور وہاں سے جلد از جلد بھاگ کر کسی محفوظ جگہ خودکو پہنچائے۔

(7) گھر پر ٹیوشن پڑھانے کےلیے جسے بھی رکھیں اس کا بیک گراؤنڈ ضرور چیک کریں۔اس کاپورا پروف بھی اپنے پاس رکھیں اور کسی کی ضمانت پر ہی اسے رکھوالیں،ورنہ بعد میں پچھتائیں گے۔ بچوں کو اگر کسی کے ہاں ٹیوشن کے لیے بھیجیں تو اس کی بھی خبرگیری کریں۔ خصوصاً ایسے گھر میں جہاں ٹیوشن پڑھانے والا/والی اکیلی رہتی ہو، بہت احتیاط سے کام لیں۔ اگر ضروری ہو تو خصوصاً بچیوں کو گروپ شکل میں بھجوائیں۔ چار پانچ بچیاں گروپ کی صورت اکٹھی جائیں اور اکھٹی ہی واپس آئیں، ورنہ گھر کا کوئی بڑا ساتھ ضرور جایا کریں۔

(8) دروازہ کھٹکھٹانے پر بچے کو اکیلا باہر نہ بھیجیں بلکہ خود جائیں یا کسی بڑے کو بھیج دیں۔ گھر میں اگر مرد حضرات نہیں ہیں تو بچے کو دروازے پر بھیجتے ہوئے ماں بھی پیچھے چلی جایا کریں اور دروازے کے اوٹ میں کھڑی رہ کر بچے کی نگرانی کریں۔

(9) کرایہ داروں کے ہاں اور پڑوس میں بچوں کو اکیلا ہر گز نہ جانے دیں۔ کوئی چیز بھیجنی ہوتوخود جایا کریں۔ اگر کبھی بچے کو بھیجنا پڑے تو اسے تاکید کریں کہ گھر کے اندر نہ جائے، باہر سے چیز دےکرآجائےاور زیادہ وقت نہ گزارے، جلدی آیا کرے۔

(10) بچوں کو اجنبیوں، چاہے وہ پڑوسی یا کرایہ دار ہی کیوں نہ ہوں، سے زیادہ ملنے جلنے سے بھی منع کردیں۔ نیز، بچوں کو خبردار کردیں کہ کسی بھی اجنبی سے، ٹافی، لولی پاپ، چاکلیٹ یا کوئی بھی چیز نہ لیں۔

(11) بچوں کو یہ بھی تنبیہ کریں کہ کسی کے پوچھنے پر کہ "فلاں کا گھربتانے، ایڈریس سمجھانے میرے ساتھ چلے‌" کسی بھی اجنبی کےساتھ کہیں بھی نہ جائیں۔

(12) باہر سے کوئی چیز لانے بچے کو اگر بھیجیں تو اسے سمجھادیجیے کہ دکاندار سے کاؤنٹر سے باہر کی طرف کھڑے ہوکر بات کرے۔ وہ اگر اندر کی طرف بلائے تو اس دکان سے نکل جائے اور وہاں سے کچھ نہ خریدے۔

(13) بچوں کے دوستوں اور ملنے جلنے والوں پر نظر رکھیں۔ خصوصاً کسی بڑی عمر والے سے، اگر دوستی ہو تو پہلے وجہ پوچھیں اور پھر اس سے دور رہنے کی سختی سے تاکید کریں۔ بچے کہاں کھیلتے ہیں، کیا کھیلتے ہیں، کن امور میں دلچسپی رکھتے ہیں؟ سب آپ کی نظرمیں ہونا چاہیے۔

(14) اگر آپ راہ چلتے کسی اجنبی کی کسی بچے کے ساتھ ابنارمل ایکٹیویٹی دیکھیں، یا آپ کو لگے کہ بچے کے ساتھ زبردستی کی جارہی ہے یا کسی بھی طرح کی ایسی کوئی مشکوک سرگرمی دیکھیں تو خدارا خدارا! اسے ہر گز اگنور مت کریں، بلکہ فوراً حرکت میں آجائیں اور تصدیق کریں۔ بچے سے پوچھیں یہ اجنبی آپ کا کیا لگتاہے؟ تصدیق ہونے پر معذرت بھی کریں ورنہ اگر صورتحال دوسری ہوئی تو فوراً متعلقہ لوگوں کو آگاہ کرکے کارروائی کریں۔یاد رکھیں! آج اگر آپ نے اسے اگنور کردیاتو کل کو دوسرا بچہ آپ کا بھی ہوسکتاہے۔

(15) جتنا بھی ہوسکے پندرہ تا اٹھارہ سال تک بچوں کو "سکرین" سے دور رکھیں۔ چاہے وہ سکرین ٹی وی کی ہو، کمپیوٹر کی ہو، لیپ ٹاپ کی ہو یا پھر موبائل کی ……اتنا دور رکھیں کہ کسی سکرین کا سایہ بھی بچے پر نہ پڑے ۔ آج معاشرے میں جو غلاظت پھیلی ہوئی ہے اس کا 70فیصد ذمہ دار یہ " سکرین ‌" ہی ہے۔

(16) کم از کم پندرہ سال تک کے بچے کو نیٹ کی دنیا سے دور رکھیں۔اگر استعمال زیادہ ضروری ہو تو اپنی نگرانی میں کروائیں۔

(17) مائیں بچوں، بچیوں کے کمروں،الماریوں، بیگوں اور خصوصاً موبائل کی تلاشی لیتی رہاکریں۔ اگر انہیں کوئی اضافی چیز ملے جو آپ نے نہیں دلائی تو اس کے بارے پوچھ ضرور لینا چاہیے۔

(18) اپنے بچیوں کو کسی بھی قیمت اس کی سہیلی کے گھر رکنے کی اجازت نہ دیں بھلے وہ کتنی ہی بااعتبار کیوں نہ ہو۔ بہتر ہوگاکہ کسی عزیز یا رشتہ دار کے ہاں بھی بچیوں کو رات کے وقت ٹھہرنے کی اجازت نہ دیں۔

(19) بچیوں کو اکیلے پارٹیوں، گیٹ ٹو گیدرز،سالگروں اور شادی بیاہ کی تقریبات میں نہ جانے دیا کریں۔ جانا اگر ضروری ہوتو بڑی بہن یا ماں ضرور ساتھ جائیں۔

(20) بچیوں کے ساتھ ریپ کرکے انہیں ماردینا اکثر کسی"جاننے" والے کا کام ہوتاہے اور وہ بچی کو مار بھی اسی لیے دیتاہے تاکہ کسی کو اس کے بارے بتانہ سکے، سواس حوالےسے خصوصی نظر رکھاکریں۔

(21) اپنے بچے کو چوکیدار، نوکر اور ڈرائیور وغیرہ کے رحم وکرم پر بھی نہ چھوڑا کریں۔اس بارے بھی نہایت احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔

(22) علاقے سے چرسیوں، نشیوں اور لچے لفنگوں کا جتنا جلد ہوسکے صفایاکریں اور ان پر خصوصی نظر رکھیں ۔

(23) چرس، ہیروئن وغیرہ بیچنے والے اڈے اپنے علاقے سے بزور بازو ختم کریں اور اس بارے حرام خور، رشوت خور اور پولیس کو بھی خاطر میں نہ لائیں۔ یہی پولیس ان چرسیوں سے بھتہ لے کر ان اڈوں کو چلارہے ہوتےہیں جس کا میں خود گواہ ہوں ۔

(24) ہر علاقے کے بڑے مل کر ان دکانداروں کو سمجھائیں جو چند ٹکوں کے عوض موبائلوں میں فحش مواد ڈاؤنلوڈ کرکے بے حیائی پھیلارہے ہیں ۔ دکان کے مالک سے بات کریں، جس نے دکان کرایہ پر دے رکھی ہے، جو دکان چلارہاہے اس کے بڑوں سے بات کریں کہ آپ کا بچہ فحاشی پھیلارہاہے ، اسے سمجھائیں۔

(25) علاقے کے نوجوانوں سے خصوصی گزارش ہے کہ اگر بڑوں کے سمجھانے پر دکاندار، گندی فلموں اور فحاشی پر مبنی مواد پھیلانے سے باز نہ آئیں تو اس شاپ کو جلا ڈالیں، ختم کردیں تاکہ پھر کسی میں ہمت نہ ہوسکے بے حیائی اور فحاشی پھیلانے کی۔

(26) ٹیچرزاور اساتذہ سکول اورمدرسہ میں ایسے ورکشاپس کا اہتمام کریں جن میں بچے کو اپنے بچاؤ کے طریقے سکھائے گئے ہوں۔ جس میں اغوا ہونے کی صورت میں اپنا بچاؤ کیسے کرناہے، اغوا ہونے کے بعد بھاگنے کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے؟ بچے کو یہ سب سمجھادیا جائے۔

آپ کے بچے آپ کا سرمایہ اور اس ملک وقوم کا مستقبل ہے۔گزارش ہے کہ ہمارے مستقبل کے ان ستاروں کو نہ تو خراب ہونے دیں اور نہ خراب کرنے دیں۔ان ہدایات پر خود بھی عمل کی کوشش کریں اور آگے بھی پہنچائیں۔اگر آپ کے ذہن میں مزید کوئی بات ہو تو اضافہ ضرور کیجیے!