سانحہ قصور اور موقع پرست دانشور - قیصر احمد راجہ

کوئی آنکھ ایسی نہیں جو اشکبار نہ ہو اور کوئی دل ایسا نہیں جو دھڑکنے کے قابل ہو اور اس کی دھڑکن رک نہ گئی ہو۔ زینب بیٹی ان مظلوم بیٹیوں میں شامل ہوگئی جن پر آنکھوں کی نمی بہہ بہہ کر صحرا ہو گئی اور انسانیت اپنا گریبان پھاڑ کر اس صحرا میں نکل گئی۔ جتنا غم کیا جائے، کم ہے!

اس ظلم کے ساتھ ایک ظلم اور ہو رہا ہے۔ وہ ظلم ہمارے مغرب زدہ مبینہ مفکرین کی طرف سے کیا جا رہا ہے۔ وہ اس سانحے کو اپنے گھسے پٹے اور مذموم مقاصد کو فروغ دینے کے لیے روایتی بےشرمی سے استعمال کر رہے ہیں۔ ان مقاصد میں نمایاں کوششیں اس بات پر ہیں کہ پاکستانی قوم کو جاہل مانا جائے، مذہبِ اسلام کو موردِالزام ٹھہرا یا جائے اور مغربی تہذیب کو بھرپور اُبھارا جائے۔ حسبِ تاریخ، ایک مخصوص نجی ٹی وی چینل ایسے نظریات رکھنے والے خواتین و حضرات کو ایئرٹائم دے رہا ہے اور بھر پور موقع پرستی جاری ہے۔

ایسے ہی ایک مبینہ دانشور اس چینل پر فرما تے ہیں کہ ہم نے جب بھی کوشش کی کہ سکولوں میں سیکس ایجوکیشن رائج کی جائے، معاشرے نے ہماری مخالفت کی اور اسی وجہ سے ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ یہ صاحب شاید نہیں جانتے کہ سیکس ایجوکیشن کا براہ راست اس مضمون سے زیادہ تعلق نہیں ہے۔ سیکس ایجوکیشن کا فوکس جنسیات تک محدود ہوتا ہے اور یہ ان معاشروں میں فائدہ مند ہوتی ہے جن کی اساس انفرادیت پر ہوتی ہے۔ ایسے معاشروں میں ہر فرد کی اپنی ذات اس کے لیے مرکزی اہمیت رکھتی ہےاور وہ اسے اپنی ترقی کے لیے خود ہاتھ پاؤں مارنے پڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عام طور پر دونوں والدین کو ملازمت کرنا پڑتی ہے اور اس وجہ سے بچوں کی بنیادی تربیت میں کمی رہ جاتی ہے۔ اس کمی کو پھر سکول اور دیگر ادارے سیکس ایجوکیشن وغیرہ کی شکل میں پورا کرتے ہیں۔

پاکستانی معاشرے کی بنیا د، دیگر ایشیائی معاشروں کی طرح، اجتماعیت پر ہے۔ اس طرح کے معاشرے میں ہر طرح کی بنیادی تعلیم معاشرہ خود دیتا ہے۔ خاندان جو معاشرے بنیادی اکائی ہوتا ہے بذاتِ خود ایک ادارہ ہوتا ہے۔ بچے والدین کی مرکزی ترجیح ہوتے ہیں اور بنیادی تربیت کی ذمہ داری وہ خود لیتے ہیں۔ سکول عام طور اپنی خدمات تدریس و اخلاقیات پر مرکوز رکھتے ہیں۔ ایسے معاشروں میں اگرچہ سیکس ایجوکیشن کا کوئی بظاہر حرج نہیں لیکن کوئی خاص ضرورت بھی نہیں لیکن 'لبرل دانشور' بادشاہ لوگ ہیں، ان کی کوئی اوریجنل رائے نہیں ہوتی بلکہ وہ کسی چیز کے اہم ہونے یا نہ ہونے کا معیار مغرب سے لیتے ہیں۔

ہمارے دانشور صاحب اگر ایسی تعلیم کی عدم موجودگی کو ایسے واقعات کی وجہ بتانے سے پہلے اگر ان ممالک کا جائزہ لے لیتے جہاں یہ تعلیم دی جاتی ہے تو شاید زحمت سے بچ جاتے۔ برطانیہ میں یہ تعلیم موجود ہے لیکن گزشتہ چند ماہ میں میڈیا پر جتنی رپورٹس ایسے واقعات کی آئی ہیں، شاید ہی کسی اور موضوع کی آئی ہوں۔ میڈیا، میڈیکل، سیاست حتیٰ کہ سکولوں کے میدان بھی اسی گندگی کی لپیٹ میں نظر آئے۔علاوہ ازیں، یونیورسٹی آف پینسلوینیا کے رچرڈ ایسٹس اپنی تحقیق میں انکشاف کرتے ہیں کہ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں 7 اور 19 برس کے بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات ہزاروں میں ہے۔ ایسے واقعات اور ممالک میں بھی مل جائیں گے۔

گزارش یہ ہے کہ درندہ بہرحال درندہ ہوتا ہے۔اس کا تعلق ملک کے تعلیمی نظام سے ہوتا ہے نہ معاشرتی نظام سے۔ اگر جیرارڈ مک گِلی کینیڈا میں سکول ٹیچر ہوتے ہوئے بچوں کو درندگی کا نشانہ بنا سکتا ہے پھر یہ بات طے ہے کہ درندہ کہیں بھی مل سکتا ہے۔ اللہ ہم سب کو اپنی امان میں رکھے ، درندوں سے بھی اور درآمد شدہ دانش والے دانشمندوں سے بھی۔

Comments

قیصر احمد راجہ

قیصر احمد راجہ

قیصر راجہ یونیورسٹی آف بیڈفورڈ شائر میں قانون اور بزنس مینجمنٹ کے لیکچرر ہیں۔ مذہب اور سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ بزنس کنسلٹنسی کے حوالے سے Udemy پر آپ کا کورس بھی جاری ہو چکا ہے جبکہ نیو جورنال آف یورپین کرمنل لاء میں بھی تحقیق شائع ہو چکی ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.