’’اپنی زینبوں کو خود بچائیں‘‘ – احسان کوہاٹی

سیلانی کا جی چاہ رہا ہے کہ وہ دھاڑیں مار مار کر روئے چیخے چلائے، خون کی قے کر دے کہ دل میں جم کر رہ جانیوالے دکھ کا گولا کسی طور نکل جائے، اس کے سامنے قصور کی زینب کی دو تصویریں ہیں، ایک تصویر میں زینب گلابی سوئیٹر پہنے اپنی بھوری آنکھوں سے مسکرا رہی ہے جیسے کہہ رہی ہو "ہوں نا میں شہزادی…؟" ۔ دوسری تصویرمیں وہ سفید کفن پہنے پھولوں کے ڈھیر میں آنکھیں بند کیے یوں سو رہی تھی جیسے خوب تھک کر خوب دیر کے لیے سوئی ہو۔ سیلانی یہ الفاظ لکھتے ہوئے بھی رو رہا ہے، وہ چند لفظ لکھتاہے اور پھر آنکھوں کی نمی لیپ ٹاپ کی اسکرین دھندلا دیتی ہے۔ کی پیڈ پر متحرک اس کی انگلیاں ساکت ہوجاتی ہیں اور پھرلیپ ٹاپ کی دھندلی اسکرین سے گلابی سوئیٹر والی زینب مسکراتے ہوئے سامنے آجاتی ہے اور سیلانی کی آنکھیں برس پڑتی ہیں۔ وہ زینب کی تصویر نہیں دیکھ پاتا۔ آپ بھی نہیں دیکھ پائیں گے اگر آپ کے اندر کا انسان سانسیں لے رہا ہوگا۔

زینب کے گھر والے عمرے پر گئے ہوئے تھے، خوش تھے کہ بڑے گھر سے بلاوا آیا ہے، کالی کملے والے نے انہیں یاد کیا ہے، رب العالمین نے ان کی دعائیں سن لی ہیں، وہ اللہ تعالٰی کے مہمان بنیں گے بیت اللہ کا طواف کریں گے حجر اسود کو بوسہ دیں گے، ان کا حلق اس زم زم سے تر ہوگا جسے رسول اللہﷺ نے بھی پیا اور ان کے آباء نے بھی۔ وہ مدینہ النبی ﷺ جائیں گے کالی کملے والے کے روضے پر حاضر ہوں گے، اپنی لاڈلی زینب کے لیے سلامتی کی دعائیں مانگیں گے، اس کے لیے خیر مانگیں گے۔ لوگ بچیوں سے نہیں ان کے مقدروں سے ڈرتے ہیں۔ وہ سرکار کے دربار میں عرضی کریں گے کہ میری زینب کا نصیب بھی اچھاہو، وہ یقیناً مدینہ سے فون بھی کرتے ہوں گے، زینب کے چچا سے پوچھتے ہوں گے کہ زینب اسکول اور قرآن ناظرے کا ناغہ تو نہیں کرتی؟وہ زینب سے بھی بات کرتے ہوں گے اور پوچھتے ہوں گے کہ اس کے لیے سعودی عرب سے کیا لائیں؟اس عمر کی گڑیائیں نیلی آنکھوں اور سنہری بالوں والی گڑیاؤں ہی کی فرمائش کرتی ہیں۔ زینب نے بھی لاڈ سے ایسی ہی کسی گڑیا کی فرمائش کر رکھی ہو گی اور زینب کے بابا نے شرط لگادی ہو گی کہ قرآن ناظرے اور اسکول کی چھٹی نہیں کرنی، سبق دل لگا کر پڑھنا ہے، میں چاچو سے پوچھوں گاناغہ کیا توپھر گڑیا نہیں آنی۔

ایسی پیار بھری تاکیدوں پر بیٹیاں یہی بتاتی ہیں ناں کہ میں اسکول بھی جاتی ہوں، سارا ہوم ورک بھی کرتی ہوں، سبق لینے بھی روز جاتی ہوں۔ زینب نے بابا کو بتایا ہوگا کہ اب وہ کون سے پارے پر آگئی ہے۔ وہ اپنی مما اور بابا کا شدت سے انتظار کر رہی ہوگی، آج سے ہفتہ بھر پہلے بھی سپارہ سینے سے لگائے سبق پڑھنے ہی گھر سے نکلی تھی، اس نے سر پر چھوٹی سے چنری اور سینے سے قرآن لگا تھا وہ گھر سے نکلی اورپھر واپس نہ آئی۔ چھ دن بعد اس کی لاش ایک کچرا کنڈی سے ملی۔ کسی درندے نے اسے بھنبھوڑ کر ہوس پوری کرنے کے بعدمار ڈالا تھا۔

سوشل میڈیا پر کسی نے مسلی ہوئی اس کلی کی تصویر ڈال دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے کچرے کے ڈھیر پر پڑی زینب کی لاش کی تصویریں فیس بک، ٹوئیٹر، واٹس اپ اور دیگر سوشل سائٹس پر اہل اقتدار کے منہ پر تمانچے مارنے لگیں۔ لوگ خادم اعلٰی پر تھو تھو کرنے لگے۔ قصور کے لوگ اس جنسی جنونی درندے کے ہاتھوں بارہ مسلی ہوئی کلیاں اٹھا چکے ہیں، مشتعل ہو کر باہر نکل آئے، ڈی سی او کے اس دفتر کے سامنے غصے میں بپھرے ہوئے قصوریوں کا جم غفیر جمع ہو گیا جہاں ایک دن پہلے زینب کے چچا سے ڈی سی اورصاحب بہادر ملنے پر بھی تیار نہ تھے۔ زینب کا چچا باہرفریادی بنا کھڑا رہالیکن اندر باہر کی سردی رجا سکی، نہ ننھی زینب کے گھر والے۔ اندرمعتدل درجۂ حرارت میں چائے کی چسکیوں کے ساتھ بے حس افسران میٹنگ کرتے رہے۔ ان افسران میں ڈسٹرکٹ پولیس افسر ذوالفقاراحمد بھی تھا جوکچرا کنڈی میں پڑی لاش دیکھ کر بھی اپنی گاڑی سے باہر نہیں نکلاکہ باہر بہت بدبو ہے۔ یہ بات سیلانی ادھر ادھر سے سن کر نہیں کہہ رہا، دس جنوری کی رات آٹھ بجے کے ایک نیوز شو میں زینب کے چچا نے شو کے میزبان عمران خان کو بتایا کہ لاش کچرا کنڈی میں پڑی تھی اور ڈی پی او کہہ رہا تھا یہاں بڑی بدبو ہے، میں نیچے نہیں اتر سکتا۔ تم یوں کرو کہ لاش ڈھونڈنے والے سپاہی کو دس ہزار انعام دے دو، میں اسے تعریفی سند بھی دوں گا۔

سیلانی اس واقعے کی تفصیلات جاننے کے لیے بے چین تھا۔ اس نے بوجھل دل سے نمائندہ امت لاہور منصور اصغر راجہ کو فون کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ قصور میں ہونے والا اس نوعیت کا پہلا نہیں بارہواں واقعہ ہے۔ ان جنسی حملوں میں بارہ بچیاں جان گنوا چکی ہیں، صرف ایک لڑکی ایسی ہے جو خوش قسمتی سے بچ گئی۔ منصور اصغر ’’واٹس اپ ‘‘اور پی آر او رپورٹر نہیں ہے، تحقیقاتی رپورٹر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دو ماہ پہلے کائنات نام کی بچی کو بھی ایک شخص ورغلا کر ساتھ لے گیا تھا، اس نے پارک میں کھیلتی کائنات سے کہا کہ اس کے پڑوسی نے قرض لے رکھا ہے اور اب وہ دروازہ نہیں کھول رہا، تم ذرا میری مدد کرو، اس کا دروازہ کھلوا دو۔ پھر وہ بہلا پھسلا کر کائنات کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر ساتھ لے گیا اور اندھیرا ڈھلنے کا انتظار کرنے لگا۔ وہ اسے کسی زیر تعمیر عمارت میں لے جانا چاہتا تھا لیکن کائنات ہشیار نکلی، اس نے شور مچا دیا اور اس کا یہ شور ہی اس کی عزت اور زندگی کی ضمانت بن گیا، وہ درندہ اسے چھوڑ کر فرار ہوگیا۔ منصور راجہ کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے وہ شخص پہچانا گیا۔ فوٹیجز میں دیکھا جا سکتا تھا کہ وہ کائنات کو موٹرسائیکل پر بٹھا کر لے جا رہا ہے اسے پکڑ لیا گیا لیکن اسے خاموشی سے مقامی ایم پی اے کے دباؤ پر چھوڑدیا گیا جبکہ قصور پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے ایسا کچھ ہوا ہی نہیں۔

سوشل میڈیا پرزینب کی تصویریں جنگل کی آگ کی طرح پھیلیں تو کسی نے عارف والا کی ایک اور ننھی کلی کی کھیتوں میں پڑی لاش کی تصویر بھی سامنے رکھ دی۔ اس پانچ سالہ بچی کے ساتھ بھی کسی جنسی درندے نے زیادتی کرکے مار دیا تھا۔ بچی کا چہرہ کیچڑ میں لت پت تھا، جس پر کرب کے آثار نقش ہوگئے تھے۔ منصور اصغر کا کہنا ہے کہ میں کچھ عرصے سے دیکھ رہا ہوں کہ بچیوں کے اغواء کی چھوٹی چھوٹی خبریں کچھ زیادہ ہی پڑھنے کو مل رہی ہیں، ان ہی کے درمیان کسی ویران جگہ سے کسی بچی کی لاش ملنے کی خبر بھی سامنے آجاتی ہے۔ یہ بچیاں غریب بے وسیلہ لوگوں کی’’ مریم‘‘ ہوتی ہیں، اس لیے پولیس کی کارروائی موقع معائنہ سے آگے نہیں بڑھتی۔ اس ملک میں ججوں اور لیڈروں کے اغواء ہونے والے بچے ہی زندہ سلامت بازیاب ہوتے ہیں، غریبوں کو تولاشیں ہی ملتی ہیں، زینب کے والد کو بھی اپنی گڑیا کی لاش ہی ملی۔

منصور اصغر راجہ کی طرح سیلانی بھی نوٹ کر رہا ہے کہ معاشرے میں بڑی تیزی سے اباحیت پھیل رہی ہے۔ ٹیلی ویژن کے ڈرامے، فلمیں، جنسی طلب کو بھڑکاتی ہوئی آگ بنا ہی رہی تھیں کہ اس پر انٹرنیٹ نے کیمیکل چھڑکنا شروع کر دیا ہے۔ رہی سہی کسر سستے انٹر نیٹ پیکجز اور اینڈرائیڈ سیل فونز نے پوری کر دی ہے۔ اب کوئی بھی شخص اسمارٹ فون کی اسکرین پر کہیں بھی، کچھ بھی، بلا روک ٹوک دیکھ سکتا ہے۔ اس پھیلائی جانے والی اباحیت کا نتیجہ سب سے زیادہ عریاں فلمیں دیکھنے والی قوم کے اعزاز کی صورت میں مل چکا ہے۔ یہ پورن ویب سائٹس لیپ ٹاپ، کمپیوٹر، سیل فون پر سیکنڈز میں کھل جاتی ہیں جو دیکھنے والے کو اپنا عادی بنا کر نارمل زندگی سے پرے لے جاتی ہیں۔ ان فلموں سے زیادہ جذبات کو بھڑکانے والا مواد کہانیوں کی صورت میں موجود ہے۔ نیٹ پر عریاں کہانیوں کی ان ویب سائٹس پر جانے والوں کی تعداد کسی کی سوچ میں بھی نہ ہوگی۔ ایک ریسرچ کے دوران سیلانی کو ایسی ہی ایک ویب سائٹ پر جانے کا اتفاق ہوا تو کہانیوں کے پڑھنے والوں کی تعداد دس پندر ہزار میں نہیں تیس، تیس لاکھ میں تھی۔ جذبات بھڑکانے والی یہ کہانیاں اور عریاں فلموں تک آسان رسائی، معاشرے کی دم توڑتی قدروں اور ہماری بے حس مجرمانہ چپ نے آج زینب جیسی کلیوں کو کچرے کے ڈھیر پر پہنچا دیا ہے۔

سیلانی کا سوال ہے کہ زینب کا قاتل پکڑا بھی جائے تو کیا دیگر زینبیں محفوظ ہوجائیں گی؟ اس جنسی جنون کو روکنے کے لیے سوسائٹی کو اٹھنا ہوگا، حکومت کو مجبور کرنا ہوگا کہ وہ انٹر نیٹ پرسے عریاں مواد ہٹائے اور ماؤں کو بھی اپنے بچوں بچیوں کا سمجھانا ہوگا، بتانا ہوگا کہ کسی کوپاس آنے اور ’’شفقت ‘‘کا مظاہرہ نہ کرنے دیں اور کوئی زیادہ ہی شفقت کا اظہار کرے تو ماں کو آکر بتائیں۔ بچوں کو سمجھاناہوگا کہ کسی اجنبی کے ساتھ کہیں نہ جائیں، چاہے وہ گرم توے پر بیٹھ کر ٹسوے بہائے یاچچا ماموں بن کر ٹافیوں، چاکلیٹوں، آئسکریموں کا لالچ دے اس سے کچھ بھی نہیں لینا۔ پولیس ہماری کس جوگی ہے؟ ہمیں اندازہ ہے، اس کے نزدیک صرف اسمبلیوں میں پہنچنے والے ہی وہ باعزت شہری ہیں جن کے لیے سرکار ا نہیں ہرماہ تنخواہ دیتی ہے۔ ان کے ذمے صرف ان ہی کی سیکیورٹی ہے، باقی سب کے لیے کچھ بھی ہوجانا ’’مقدر کا لکھا ‘‘ہوتا ہے۔

زینب کے والد بھی ہم ہی میں سے ہیں اوریہ بات وہ بھی جانتے ہیں تب ہی تو انہوں نے کہا بھی کہ ہم کیڑے مکوڑے ہیں، سیکیورٹی تو حکمرانوں اور ان کے بچوں کی ہوتی ہے۔ سیلانی ٹھنڈی سانس لے کر رہ گیاایک بار پھر اس کی آنکھیں بھر آئیں سفید کفن میں پھولوں کے ہار پہنے آنکھیں موند کر سوئی ہوئی ننھی زینب کو دیکھنے کایارا کس میں ہے؟ اللہ ہر زینب کی حفاظت کرے، خدا کرے کہ کچرے کے ڈھیر سے ملنے والی یہ آخری زینب ہو۔ سیلانی یہ سوچتے ہوئے دھندلائی ہوئی آنکھوں سے کفن میں لپٹے پھول کو پھولوں کا ہار پہنے سویا ہوا دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا!

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.