زینب کو بچانے کی تیز رفتار حکمت عملی - اختر عباس

یہ بہت تکلیف دہ دن تھا۔ معصوم صورت مظلوم زینب کی میت سامنے پڑی تھی اور لاہور سے جانے والے قادری صاحب پوری بے رحمی کے ساتھ دعا کے نام پر بد دعائیں مانگ رہے تھے۔ ان کے جملے آگ لگانے جیسے تھے اور وہ اسی کام کے لیے وہاں آئے تھے، ہجوم کو دیکھ کر بڑے بڑے اپنا توازن کھو بیٹھتے ہیں، مگر یہی لمحہ ہوتا ہے جب آپ ایک حقیقی راہنما بنتے ہیں یا ایک وقتی اشتعال میں جمع ہونے والوں کے جتھے دار، جو اپنے پر غم اور دکھ کے لیے کوئی راستہ ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کا بالعموم حادثے سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہومگر وہ بڑھ چڑھ کر اپنے پرخلوص غصے کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ نہ وہ اپنے غصے کی آخری حد کو جانتے ہوتے ہیں اور نہ اس کی شدت دکھانے کے بعد اس کے نقصات سے آگا ہ ہوتے ہیں۔

یہ جلوس ایران میں مہنگائی کے خلاف ہو یا قصور میں زینب کی موت پر دعا کے بجائے احتجاج اور سرکاری دفاتر پر حملے کا خوگر، نہ کبھی مہنگائی کم ہوتی ہے اور نہ مرنے والی کو زندگی واپس ملتی ہے البتہ یہ ضرور ہوتا ہے کہ کچھ معصوم اور جذباتی لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، راہنمائی آگ لگانے میں نہیں بجھانے اور کسی حل کی طرف لے جانے کانام ہے۔ یہ کیسی راہنمائی اور ناراضی ہے کہ ٹی وی کی سکرین پر خبر دیکھی، لوگوں کا ہجوم دیکھا، ان کا غم و غصہ محسوس کیا اور وہاں جا پہنچے، کم سے کم پانچ سیاسی راہنماؤں کے بیان میرے سامنے ہیں، مجال ہے کسی نے ایک لفظ بھی جرم اور مجرم کے بارے میں کہا ہو، اس کے مستقل حل کی طرف راہنمائی کی بات کی ہو، صرف سرخیاں ملاحظہ ہوں’’یہ حکومت کی ناکامی ہے، یہ شریفوں کے منہ پر طمانچہ ہے، قاتل اعلیٰ سے شہدائے قصور کا بھی انتقام لیں گے، شریفوں نے پنجاب پولیس کو خراب کر دیا ہے۔‘‘جس شیطان نے یہ کام کیا وہ یہ سب کہیں کسی کونے میں چھپا یہ دیکھ اور پڑھ کر مسرور ہو رہا ہوگا کہ کسی کو بھی اس کے گناہ پرغصہ نہیں ہے۔ سبھی کو ہی اپنی ادنیٰ سیاسی سوچ کو جھنڈا بنا کر لہرانے سے ہی فرصت نہیں۔

یہ جو اب خبر بنوانے بھاگے چلے آتے ہیں، ان کو یہ خبر کیوں نہیں ہوئی کہ اسی قصور شہر کی بارہ بچیاں کچھ ہی عرصے میں عزت اور جان سے گئیں، ایک ہی شہر میں اور ایک ہی طرح کے واقعات سے؟ تب آپ کہاں سوئے تھے؟ چونکہ لوگ احتجاج کے موڈ میں نہیں تھے، چونکہ مسئلہ کو آگ نہیں لگی تھی، چونکہ لاش دستیاب نہیں تھی اور براہ راست کوریج نہیں تھی، اس لیے آپ بھی نہیں آئے اور آپ کے اندر برپا عوامی ہمدردی کا طوفان بھی کہیں سویا رہا۔ یہ کیسی راہنمائی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر کسی حادثے اور سانحے کی منتظر رہتی ہے؟ ایسی خبر یں آپ کو خبروں میں زندہ رکھتی ہے؟ اس احتجاج میں مرنے والے دو یا تین لوگوں کے غم زدہ خاندانوں پر اب کیا بیتے ہیں؟ ان کے بچے کس مشکل اور عذاب کا شکار ہوں گے؟ ان کو احتجاج کے نام پر جلوس میں آگے لگانے،ڈی سی آفس پر حملہ کروانے اور گولی کا شکار بنوانے والوں سے کبھی تو پوچھا جانا چاہیے ۔

معصوم صورت زینب کے مجرم کو ڈھونڈنے، اس پاس اس کا کھرا ناپنے، اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے بیٹھ کر سنجیدگی سے سوچ بچار کرنے کی بجائے ڈسٹرکٹ ہسپتال پر حملہ کرنے، پورا دن ڈنڈوں سے مسلح ہو کرڈاکٹروں اور عملے کو تکلیف دینے اور ان کا شکار کرنے کے لیے اندر گھس آنے اور نہ پا کر واپس چلے جانے کو آپ کیا کہیں گے؟ اسے معمولی سی بات کیسے سمجھ سکتے ہیں؟ ایسی منصوبہ بندی کرنے والے کہاں سے آتے ہیں؟ کون ہوتے ہیں؟ اپنے ہی شہر کے اپنے ہی لوگوں کے بچے جس بے رحمی سے ہر حادثے کے بعد بسوں، کاروں کو آگ لگاتے ہیں اور پھر ان کا جانتے بوجھتے ہوئے لوگوں اور شہروں کویرغمال بنانے کی اجازت دیے رکھنے کا چھوٹا سا نتیجہ یہ ہے کہ ایک چھوٹے سے شہر کے بچے بھی ڈنڈوں اور جتھوں کی مدد سے ساری لاء انفورسنگ ایجنسی کو آگے لگانے کی ہمت اور حکمت رکھتے ہیں۔یہی عالم رہا تو لاء اینڈ آرڈر کے نام پر کل کوئی سپاہی حکم کے باوجود بھی آگے نہیں بڑھے گا، وہ کیوں ہجوم سے مار بھی کھائے، اپنی آنکھ نکلوائے، پسلی تڑوائے اور پھر معطلی اور برطرفی کی بے عزتی بھی جھیلے؟

اپنی زینبوں کو بچانا ہے تو کسی ادارے کی عزت اور احترام نہ سہی، اس کی وقعت اور ڈر ہی باقی رہنے دیں، ان کو یوں ٹکہ ٹوکڑی نہ کریں۔ ان کی ٹاسکنگ میں بچوں کی حفاظت اور اس کے لیے حساسیت (sensitivity)پیدا کریں،اس حوالے سے خصوصی سیکشن اور ٹریننگز دلوائیے، پولیسنگ کے معمول کے کام میں اس پہلو کو بطور خاص شامل کریں، موجودہ پولیس کو ختم آپ کر نہیں سکتے، پوری اصلاح ہونا بھی ممکن نہیں تو اس میں کچھ معاشرتی کاموں کا اضافہ تو ہو سکتا ہے کہ جس کہ رپورٹنگ بھی ہو اور اس کی پوچھ بھی۔ دہشت گردوں کی طرح اب اس مسئلے پر بھی ہمیں زیرو ٹالرنس پر جانا چاہیے۔ ایسے کیسز میں عدالتوں میں صفائی کے وکلا ء کو پیش ہونے کی اجازت دینے پر بھی غور کر لینا چاہیے جو نظام ظلم کی برقراری اور استواری میں بلاجھجک کام آتے ہیں۔ ان کیسز میں فیصلے پولیس مقابلوں کی سپیڈ سے ہی ہوں گے تو قابو پایا جاسکے گا ورنہ یہ جنسی جرم ایک مکروہ وائرس کی طرح بڑھتا اور پھیلتا جائے گا چونکہ اس کے پیدا ہونے کی آماج گاہیں اب گھر گھر اور ہر موبائل میں موجود ہیں،اتنی زیادہ روشن خیا لی ہے کہ ہم بربادی کے دروازے بھی بند کرنا بھول گئے ہیں۔

Comments

اختر عباس

اختر عباس

اختر عباس مصنف، افسانہ نگار اور تربیت کار ہیں۔ پھول میگزین، قومی ڈائجسٹ اور اردو ڈائجسٹ کے ایڈیٹر رہے۔ نئی نسل کے لیے 25 کتابوں کے مصنف اور ممتاز تربیتی ادارے ہائی پوٹینشل آئیڈیاز کے سربراہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • خبر سسک سسک کے مارنے والے مسائل پر نہیں ایسے اندوہناک واقعات پر بنتی ہے۔ جب ہم کسی کے زینب بننے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔
    اس مسئلے کا حل APS کی طرح فوجی عدالت میں چلنا چاہیئے ۔ ہاں ملزم پر جرم ثابت ہونا انتہائی ضروری ہے ورنہ کہیں ظلم پر ظلم نہ ہوجائے۔