ضرورتِ تربیت… مہد سے لحد تک - شاہد شفیع

زینب بیٹی اپنے کریم رب کی بارگاہ میں پہنچ گئی اور میرا ایمان ہے اُس شفیق وکریم رب کی رحمت نے اُسے اپنی آغوش میں لیا ہوگا۔ عدالت لگے گی… زینب کا گِلہ بھی سامنے رکھا جائے گا، اربابِ اقتدار کے سامنے بھی اور دیگر اربابِ اختیار کے سامنے بھی۔

معاشرہ کسی ان دِکھی، کسی ہوا میں معلق شے کا نام نہیں ہے۔ یہ مجھ سے، آپ سے، ہم سب سے مل کر بنتا ہے اور یہ اُسی وقت پنپتا اور نشوونما پاتا ہے کہ جب اس کے افراد کما حقہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اپنے کاموں کو سرانجام دیں۔

زینب کا قاتل کون ہے؟ … یقیناً اس کا سیدھا سا جواب یہی ہے کہ جنہوں نے یہ مکروہ فعل کیا ہے، وہی اس کے قاتل ہیں۔ گویا کہ اس بات پر سب کا اتفاق ہے۔ اب اگلا سوال یہ ہے کہ وہ کون سے عوامل ہیں کہ جن کی وجہ سے قاتل نے ایسا گھناؤنا قدم اٹھایا۔ یہ سوال اور اس کے جواب کی تلاش بہت اہمیت کا حامل ہے۔ دور جانے کی ضرورت نہیں اپنے دائیں بائیں نظر ڈالیے، ان ذرائع کو تلاش کیجیے جو کسی بھی انسان کو منفی رجحانات کی طرف راغب کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ سرِدست ان ذرائع میں جس کا سب سے زیادہ موثر کردار ہے وہ ہے آپ کا میڈیا یعنی سوشل میڈیا، الیکٹرونک میڈیا، پرنٹ میڈیا کہ معاشرے کی اکثریت اپنے وقت کا بیشتر حصہ جس پر صرف کرتے ہیں اور معاشرے کے افراد کے اذہان پر ان کے تعمیری اور تخریبی اثرات تیزی سے اثر پزیر ہوتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے اس فکری میدان میں ان تمام ذرائع سے ایسے پروگرامز، تحریریں، پیغامات عام کیے جائیں جو بتدریج لوگوں کے مزاج میں تحمل، برداشت، رواداری، حیاء اور دیگر عناصر، جو کسی بھی متوازن معاشرے کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں، پروان چڑھائیں۔ اگرچہ کہ یہ کام طویل دورانیے کا ہے مگر یاد رکھیے مستقل تقاطر پتھر میں بھی سوراخ پیدا کردیتا ہے اور تربیت کے مراحل کسی بھی معاشرے میں بتدریج ہی طے ہوتے ہیں اور اسلام کے مزاج میں بھی انقلاب سے زیادہ تدریج کا پہلو نمایاں ہے۔

یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ جس معاشرے کا ہم حصہ ہیں اس کی تعمیرِ نو کے لیے فکری اور عملی جہاد کریں اور اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اپنا حصہ ڈالیں۔ ہمارے قلم سے، ہمارے منہ سے نکلنے والی ہر بات پر ہم اپنے رب کے سامنے جوابدہ ہیں۔ اربابِ اختیار اگر تساہل سے کام لے رہے ہیں تو حتی المقدور انہیں ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلانا ہم پر لازم ہے۔

الیکٹرانک میڈیا اگر اپنا کردار ٹھیک طور پر ادا نہیں کر رہا تو معاشرے کے سلیم الفطرت افراد پر لازم ہے کہ وہ یکجا ہو کر آواز اٹھائیں۔

ہمارے سکولز، کالجز، یونیورسٹیوں کے نصابات اگر بے راہ روی کے دروس واسباق پر مشتمل ہیں تو ان کی تطہیر کے لیے ہم سب پر لازم ہے کہ ایسی تجاویز پیش کی جائیں جو قابل عمل ہوں اور نسل نو کی تربیت کے لیے فائدہ مند ہوں۔

ہم سب نے ملکر اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے حصے کا کام کرنا ہے تو ان شاءاللہ وہ وقت دور نہیں کہ جب ہم ایک اچھی تہذیب کے ساتھ ایک اچھے تمدن کے ساتھ پروقار، محفوظ انداز سے بقیہ سفر طے کریں۔

سلامت رہیں!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */