سیکرٹ - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

سخت سردی کا موسم ہے، ہڈیوں کو کاٹتی سردی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اپنے سرد پڑتے جسم کو گرم کیسے کرے؟ کمرے میں جلتا گیس کا ہیٹر بند تھا۔ لحاف میں اپنے پیر سکیڑتے ہوئے اس نے زیرلب گیس والوں کو کوسا۔ شام پیٹ بھر کھانا تو کھایا تھا لیکن رات گئے بھوک دوبارہ آنتوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہی تھی۔ کپکپاتے ہاتھوں سے اس نے سگریٹ کو جلتے لائٹر کے شعلے کے قریب کیا۔ لمحہ بھر میں سگریٹ کا پرلا کنارا سرخ دکھنے لگا۔ طویل کڑوے کش کے ساتھ سگریٹ کی سلگتی آنکھ چمکتی اور پھر بجھنے لگتی۔ سرد تاریک کمرے میں سرخ اکلوتی آنکھ اور اس سے اٹھتا گاڑھا سفید دھواں پراسرار سا لگ رہا تھا۔ باہر گلی میں ایک خارش زدہ کتے کی زخمی چیخ سنائی دی جسے اس نے اونچی آواز میں جھڑک کر چپ کروا دیا۔ رات دوستوں کے ساتھ دیکھی فلم کے مناظر ذہن میں گھومنے لگے گویا سرخ دہکتے شعلے میں زندگی سمٹ آئی۔ تنفس تیز ہونے لگا اور کش لینے کا درمیانی وقفہ کم سے کم ہونے لگا۔ بےچین ہو کے اس نے بیڈ پر مکا مارا اور لحاف میں گول مول ہونے لگا۔ لحاف گرم ہونے لگا تھا لیکن جسم کی سردی بھگانے کے لیے اسے کچھ اور درکار تھا۔ اس کے ذہن میں ماں باپ سے ہوا آخری جھگڑا گھومنے لگا۔ جب اس نے اکیلے پن سے تنگ آ کر دوسراہٹ کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ جسے سنتے ہی ماں باپ کو پتنگے لگ گئے تھے۔ باپ نے استہزایہ انداز میں پوچھا تھا کیوں جی دو روٹی کمانے کے قابل تو ہو لے پہلے پھر دوسرے جی کو لانے کی بات کرنا اور ماں نے بھی بڑے بہن بھائی کے نام یاد دلا کر اسے شرم کرنے کا کہا تھا۔

شرم! وہ چیخ پڑا کس بات کی شرم؟ مجھے اکیلا نہیں رہنا، مجھ سے تنہا نہیں رہا جاتا۔ لیکن یہ چیخیں اندر ہی دم توڑ گئیں کہ معاشرہ اسے بڑے بہن بھائی سے پہلے اپنی شادی کے معاملے پر لب کھولنے کی اجازت نہ دیتا تھا۔ انتہائی غصے سے وہ سامنے پڑی اسٹیل کی بالٹی کو ٹھوکر مارتا دروازے کو زور سے بند کرتا گھر چھوڑ کر نکل آیا کہ اب دو روٹی کما ہی لی جائے۔ دل میں طوفان تھا، دماغ غصے سے ابلتی ہانڈی بنا ہوا تھا۔ تمام عمر میرا کون سا بوجھ میرے باپ نے اٹھایا ہے؟ بولنے کے قابل ہوا تو خیراتی ادارے میں داخل کروا دیا۔ تمام دن سبق رٹتے اور گلی گلی چندہ اکٹھا کرتے گزر جاتی اور رات کو سب بڑے کمرے میں ٹیڑھے ترچھے سو جاتے۔ اسے جانے کیا یاد آیا کہ پھر راستے میں موجود پتھر ٹھوکروں میں اڑانے لگا۔ وہ بڈھا استاد جو گدھ لگتا تھا، ہر رات ہال میں سونے والے کسی بچے سے جسم دبواتا۔ ہر رات کسی نئے بچے کی باری آتی اور اگلے دن عموماً وہ بچہ باقی ساتھیوں کے ساتھ کام پر نہ جاتا۔ شاید بڈھے گدھ کو تمام رات اتنا دبانا پڑتا تھا کہ اگلے دن تھکا ہارا شاگرد نیند سے نہیں جاگتا تھا اور چند روز گھسٹ گھسٹ کر چلتا رہتا۔

جس روز اس کی ڈیوٹی بڈھے گدھ کے ساتھ لگی، وہ سب جان گیا۔ وہ جان گیا کہ نائٹ ڈیوٹی کا مطلب کیا تھا؟ وہ جان گیا کہ چال میں لڑکھڑاہٹ کیوں آتی تھی؟ وہ جان گیا کہ ہال میں کچھ لڑکے جوڑی بنا کے کیوں سوتے تھے؟ کیوں دوسرے لڑکے اور استاد ان لڑکوں کو عجیب سے اشارے کیا کرتے تھے؟ دوچار دفعہ کی نائٹ ڈیوٹی کے بعد اس کا جسم جاگ گیا۔ اسے بھوک کی مختلف اقسام میں فرق سمجھ آنے لگا اور پھر ایک رات اس نے ایک ننھے یتیم طالبعلم سے اپنی نائٹ ڈیوٹی لی۔ چھوٹا ناتجربہ کار بچہ درد اور خوف سے چیخ پڑا اور اس چیخ نے اس کا راز کھلنے کے ڈر سے اسے سہما دیا۔ راز کھلنے سے بچانے کے لیے اس کے ہاتھ خودبخود بچے کے ہونٹوں پر جم گئے۔ اندھیرے اور خوف میں کچھ سمجھ نہ آیا کہ اس کے ہاتھ نے منہ کے ساتھ ساتھ ناک بھی بند کر رکھا تھا۔ جب بچے نے تڑپنا اور مزاحمت کرنا چھوڑا تب اس نے دھیرے سے اپنے ہاتھ اس کے منہ سے ہٹائے اور دھیمی آواز میں بچے کو شور مچانے سے منع کیا اور کروٹ بدل کے فوراً ہی سو گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کوئی کام تو ماں باپ کے لیے بھی رہنے دیں! - جویریہ سعید

اگلے روز سب بچے جاگے لیکن ننھا بچہ اتنا خوفزدہ تھا کہ سویا ہی رہا۔ ویسے بھی نائٹ ڈیوٹی والے بچے کو نیند زیادہ آیا کرتی تھی۔ اس نے اطمینان کی سانس لی اور اپنے روز مرہ کے کاموں میں مصروف ہو گیا۔ کچھ دیر بعد جب تمام شاگرد صحن میں سبق رٹ رہے تھے۔ چھوٹے بچے کے پریشان ماں اور ماموں اندر آئے رونے دھونے کی آوازیں اور پھر بچے کا ماموں چھوٹے بچے کو دونوں ہاتھوں پر اٹھائے آنسو بہاتے غم سے نڈھال بہن کو سنبھالتے باہر چلا گیا۔ اسے اس رات بڈھے گدھ نے پھر نائٹ ڈیوٹی پر بلا لیا۔ اس رات اس سے چھوٹے بچے کے ساتھ کیا ہوا کیسے ہوا؟ جیسے سوالات کیے گئے۔ وہ ہر سوال کے جواب میں یہی کہتا رہا کہ میں سو رہا تھا مجھے کچھ پتا نہیں۔ بڈھے گدھ نے اس کی گردن کے پیچھے زور سے ہاتھ مارا اور خود ہی سی کر کے اپنا ہاتھ جھٹکنے لگا۔ اسے احساس ہوا کہ بڈھا گدھ کمزور ہے اور اس کی مار سے اس کا کچھ نہیں بگڑتا۔

اس خیال نے اس کا حوصلہ بلند کر دیا اور وہ اپنے بیان پر مزید قائم ہو گیا۔ بڈھے گدھ نے اس کی طاقت سے خائف ہوتے ہوئے اسے بس وارننگ دی اور چھوڑ دیا۔ اب وہ ہوشیار تھا۔ سو اپنے جاگتے جسم کو سلانے کے لیے اس نے اپنی جوڑی بنا لی۔ اس وقت اپنے والدین سے لڑبھڑ کے وہ اپنے اسی جوڑی دار کے پاس قصور جا رہا تھا۔ اس کے جوڑی دار نے گئے سال شادی کر لی تھی لیکن اسے امید تھی کہ وہ اسے بھولا نہیں ہو گا۔

قصور میں اس کے جوڑی دار نے اسے دیکھ کر گرم جوشی کا مظاہرہ کیا اپنے گھر کے مہمان خانے میں اسے ٹھہرایا۔ پرانی یادیں بھی تازہ کی گئیں لیکن جوڑی دار رات اس کے ساتھ ٹھہر نہیں سکتا تھا، اسے اپنے گھر میں جانے کی جلدی تھی۔ اب یہ تھا اور اس کی سوچیں تھیں۔ دن تو ادھر ادھر گھوم کے گزر جاتا لیکن رات کو جاگتے جسم کو سلانا مشکل تھا۔ دو ماہ سے اس کا جوڑی دار بھی بیوی بچے کو لے اپنی سسرالی شادی میں شرکت کے لیے جا چکا تھا۔ گھر اس کے حوالے تھا۔

جیسے تیسے رات گزاری اور سورج کے نکلتے ہی پنجرے سے چھوٹے جانور کی طرح وہ باہر کو بھاگا۔ گلی میں ایک کا مہمان سب کا سانجھا ہوتا تھا سو اسے بھی گلی کے تمام گھر والے جوڑی دار کے مہمان کی حیثیت سے جانتے تھے۔ گلی میں کھیلتے بچے اسے ماموں کہتے۔ اس نے ایک تھڑے پر دھوپ میں بیٹھ کر ٹھٹھرتے جسم کو گرم کرنا چاہا۔ سامنے گھر سے چھوٹی بچی عینی باہر آئی ماموں، چاچی نے چائے کا پیالہ اور باقر خانی بھیجی ہے، جلدی سے کھا لو تو میں برتن واپس لے جاتی ہوں۔ چائے کا پیالہ عینی کے ہاتھ سے پکڑتے اس کی سرد انگلی نے بچی کے گرم ہاتھ کا لمس محسوس کیا اور جیسے دھوپ میں اونگھتے گدھ کو جھٹکا سا لگا۔ اوہ یہ بھی تو، یہ کیوں نہیں؟ اس نے ناشتہ مکمل کیا عینی وہیں کھیلتی رہی۔ عینی کو برتن واپس کرتے ہوئے اس نے دس روپے کا نوٹ بھی عینی کو انعام کے طور پر دیا۔ عینی ہنسی خوشی برتن واپس لے گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   گمشدہ بچے اور سیکس مافیا - خالد ایم خان

گدھ نے اٹھ کر کپڑے جھاڑے اور گلی سے باہر آوارہ گردی کرنے نکل کھڑا ہوا۔ لاشعور میں انگلی کا گرم لمس کسی اضطراب کو جگا رہا تھا جو شعور کی گرفت میں نہیں آتا تھا۔ شام واپسی پر وہ غیر ارادی طور پر عینی کے لیے ٹافیاں لے گیا۔ عینی نے اچھے سے مہمان ماموں سے مزے مزے کی ٹافیاں لیں ماموں کو پیار سے جھپی ڈالی اور گھر کو چلی گئی۔ اس رات گرم لحاف میں سلگتے سرد جسم کے ذہن میں ایک ہی نام تھا عینی عینی… لیکن گدھ شکار کو ٹھنڈا کر کے کھاتا ہے وہ بھی اس طرح شکار کرنا چاہتا تھا کہ شکاری کا نام کوئی نہ بوجھ پائے۔

اگلے دو تین روز بھی ماموں نے عینی کو ٹافیاں اور غبارے دلوائے اور اس میلے کا احوال سناتا رہا جہاں بڑے اچھے جھولے لگے ہوئے تھے۔ عینی جھولوں پر جانے کے لیے مچل مچل گئی لیکن امی ابو تو عمرہ کرنے گے ہوئے تھے اور چاچی عینی کو کہیں جانے نہیں دیتی تھی۔ اس لیے ماموں سے میلے میں تیز تیز چلتے جھولوں کی خوابناک کہانی سن لیتی اور ٹافی کھا لیتی۔ ماموں نے اس سے وعدہ کیا کہ اگر رات کو چاچی کے سونے کے بعد عینی باہر آ جائے تو ماموں اسے راتوں رات میلہ گھما کر واپس چھوڑ جائیں گے اور کسی کو پتا بھی نہیں چلے گا، بالکل جیسے کسی کو ماموں کی دلائی ٹافی کا پتا نہیں چلا۔ عینی پرجوش تھی اور پھر وعدے کی رات آ گئی۔ عینی جھوٹ موٹ کی سوتی بن گئی۔ چچی نے گھر کے دروازے کھڑکیاں چیک کیے اور جلد ہی چچی کے خراٹے باہر تک سنائی دینے لگے۔ اب عینی آرام سے اٹھی۔ کھڑکی کھول کر باہر نکلی۔ ماموں کے دروازے پر دستک بھی نہ دینا پڑی۔ ماموں گلی کی آہٹ پر دھیان رکھے ہوئے تھے، فوراً سے باہر آ گئے۔ ماموں کے چہرے پر ہلکی ہلکی داڑھی خوب سج رہی تھی۔ ماموں نے عینی کا ہاتھ پکڑا اور گلیوں گلیوں اسے میلے پر لے گئے۔ جہاں عینی کسی ایسے جھولے پر بیٹھ گئی، جو اسے آسمانوں سے پرے لے گیا۔

ماموں کو اکیلے واپس آنا پڑا۔ اگلے روز جب عینی کی تلاش شروع ہوئی تو ماموں بھی سب کے ساتھ مل کر عینی کو ڈھونڈتا رہا۔ ہاں میلے پر جانے کا ذکر اس نے کسی سے نہیں کیا کیونکہ وہ تو عینی اور ماموں کا سیکرٹ تھا، جسے دونوں نے ہمیشہ نبھانا تھا۔ بالکل ویسے ہی جیسے عینی سے پہلے والی بچیوں کا راز آج تک نبھا رہا تھا۔

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں