محفوظ معاشرہ، کیا یہ کہیں موجود بھی ہے؟ - حمیرا اشرف

کیا کہا ہوگا اس معصوم نے؟ کیا کوئی دہائیاں دی ہوں گی؟ کیا وہ جانتی بھی ہوگی کہ اس کے ساتھ یہ کیسا سلوک کیا جارہا ہے؟ وہ تو جانتی بھی نہ ہوگی کہ اس بدسلوکی کا کوئی نام بھی ہے؟ ہاں خوف زدہ ہوئی ہوگی؟ درد سے روئی بھی اور تڑپی بھی ہوگی۔ ماں کو بھی یاد کیا ہوگا بابا کو بھی آوازیں دی ہوں گی۔ شاید خدا رسول کے واسطے نہ دیے ہوں قاتل کو اور دیتی بھی کیسے؟ اس معصوم کو تو اتنی عقل بھی نہ ہوگی اور جو خدا رسول کے واسطے دینے والی ہوتی بھی ہیں تو ان کی سنتا ہی کون ہے؟ ظالم اپنے ظلم سے رک تو نہیں جاتا؟ کیسا درندوں کا معاشرہ ہے، جو اپنی ذرا سی وقتی راحت کے لیے نہ صرف کسی جان کو کرب کی اندھی نہ ختم ہونے والی سیاہ رات میں دھکیل دیتے ہیں تو کبھی جان تک لے لیا کرتے ہیں؟ کون لوگ ہیں یہ آخر؟

سی سی ٹی وی تو بچی کو ہنستے کھیلتے کسی آدمی کے ساتھ ہاتھ تھامے جاتے دکھا رہی ہے۔ پتا نہیں کون ہے وہ ظالم سفاک انسان؟ کوئی رشتے دار ؟کیا کوئی والد، چچا تا یا کا جاننے والا؟ کوئی محلے دار؟ گھر یا اسکول کے آس پاس کا کوئی دکان دار؟کوئی پڑوسی، کوئی قاری، سبزی والا، دودھ والا، کوڑا اٹھانے والا یا کسی سہیلی کا ناتی؟

خدارا! اب بچی پر یہ سماج الزام نہ دھرے کہ اس نے اکسایا ہوگا یا لڑکیوں کو پردے میں بٹھانا چاہیے یا عورت فتنہ ہے خواہ کسی بھی عمر میں ہو وغیرہ۔ شاید ٹافی، کھلونے کا لالچ دے کر یہ ظالم لے چلا ہے بچی کو، یا یہ بہانہ کیا ہے اس معصوم سے کہ تمہارے امی ابو سے ملواتا ہوں، آؤ چلو میرے ساتھ۔ بچے تو معصوم ہوتے ہیں، جانتی ہوں ماں نے کتنی نصیحتیں کی ہوں گی، لیکن بچے کہاں یاد رکھ پاتے ہیں؟ کس دل سے ماں نے اپنے کلیجے کے ٹکرے کو چھوڑا ہوگا گھر، کیا خبر ہوگی کہ ایسا ہوجائے گا؟

یہاں لوگ والدین کے لیے افسوس بھی کر رہے ہیں تو کچھ لوگ بچوں کو چھوڑ کر جانے پر والدین کو آڑے ہاتھوں بھی لے رہے ہیں۔ اس واقعے کی سراسر ذمہ داری والدین پر ڈالنے والے کیا خود کسی بچے کے والدین نہیں؟ کیا وہ والدین کے اولاد کے لیے جذبات سے ناواقف ہیں؟ والدین کی غلطی اتنی ضرور ہے کہ انہوں نے یہ سمجھا کہ بچے انسانوں کے بیچ چھوڑ رہے ہیں لیکن دنیا جنگل سے بھی بدتر ہوچکی ہے۔ ہمارا معاشرہ دورِجاہلیت سے بدتر ہوگیا ہے جہاں لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی دفن کر دیا جاتا تھا، اب دفن نہیں کرتے پہلے جیتے جی مارتے ہیں اور پھر جان سے مارتے ہیں۔

جب والدین نے بچوں کو گھر چھوڑا ہوگا، میں جان سکتی ہوں ان کے دل کی حالت، کیسے تڑپ کر روتی گھر سے گئی ہوگی ماں۔ کیسے بچوں کو اللہ کی امان میں سونپا ہوگا۔ اللہ کے گھر جانے سے پہلے بھی کیسے تڑپ تڑپ کر روئی ہوگی ماں اور وہاں بھی اکثر بیٹھی کیسے آنسو بہاتی ہوگی؟ کیا کیا نہ دعائیں کرتی ہوگی اولاد کی سلامتی، تحفظ اور اچھے نصیبوں کی؟ اب وہ بدنصیب ماں کیسے زندہ ہوگی؟ کیا وہ زندہ ہوگی؟ نہیں، میرا تو یہ خبر سن کر دل بند ہو رہا ہے۔ زینب کی ماں۔ ۔۔ ہائے خدا کسی ماں کو یہ دکھ نہ دے۔

ہر بار جب ایسی کوئی خبر آتی ہے میں سہم جاتی ہوں، میرے سجدے میری دعائیں طویل ہونے لگتی ہیں۔ اپنی بیٹیوں، اپنے بچوں کی حفاظت کی منتیں، ان کے صدقے دیتے، نظر اتارتے، دل سکون میں نہیں آپاتا۔ شگون بے شگونی پر یقین نہ رکھنے والی میں نظر بھر کر بیٹی کو دیکھتے ڈرتی ہوں کہ کہیں میری نظر ہی نہ لگ جائے۔ خراش لگنے پر تڑپ اٹھتے ہیں ہم، گھنٹوں ان کے بابا گود میں لیے بیٹھے ناز اٹھاتے رہتے ہیں۔ دل گھبرا اٹھا ہے یہ سوچ کر ہی کہ زینب کی ماں نے بھی اللہ کے گھر کھڑے ہوکر اپنی بیٹی کے لیے دعائیں مانگی ہوں گی، آنحضور ﷺ کے در پر حاضری دی ہوگی تو زینب کا سلام بھی بھیجا ہوگا۔ کہاں کمی رہی زینب کے ماں باپ کی دعاؤں میں؟

سنا تھا ڈائن بھی سات گھر چھوڑ دیتی ہے۔ اکثر جانور بھی اپنے ہم نسل کو نہیں کھایا کرتے اور ہم انسان۔۔۔؟ کیا واقعی یہ لوگ انسان کہلائے جانے کے مستحق ہیں؟ یہاں تو لڑکیاں عورتیں قبرستانوں میں محفوظ نہیں، ہائے ایسے غلیظ معاشرے میں کیسے اپنے بچوں کی حفاظت کریں ہم؟ قانون اور قانون ساز اداروں سے تو ویسے ہی مایوسی بڑھتی جارہی ہے۔ کبھی کوئی بیٹی، کبھی کوئی بیٹا، کبھی کسی کی جوان اولاد، کبھی اسکول بھیجے گئے بچے، کیوں یہ سب شہادت کا تمغہ سجائے آجاتے ہیں، تو کبھی سفید کفن اوڑھے، کبھی تعفن زدہ لاش کی صورت تو کبھی ٹکڑوں میں بٹے بوری میں بند، کبھی مشعال کی مانند شکستہ و ریختہ، تو کبھی زینب کی طرح پامال روح اور بےجان جسم کی صورت۔ کیوں یہ زندہ ہنستے بولتے اپنے گھر آنگن میں نہیں رہ پاتے۔ کوئی مجھے اس روئے زمین پر کوئی ایسا خطہ لادے جہاں ہم اپنے بچوں کو محفوظ کرسکیں۔ میں جو صدقے دعائیں، دم کر کے اپنے بچوں کو اللہ کی امان میں سونپ کر مطمئن ہوجاتی رہی ہوں اب کیسے خود کو مطمئن کروں!

Comments

حمیرا اشرف

حمیرا اشرف

حمیرا اشرف، ترجمہ نگار، لغت نگار اور لکھاری ہیں۔ اپنے ماحول میں موجود شدت پسند رویوں میں کمی اور انسانوں کے لیے ایک پرامن ماحول کی خواہاں ہیں۔ حمیرا کا پسندیدہ موضوع محبت ہے، انسانی محبت، اور انسان سے محبت۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.