سیاست کیوں نہ کی جائے؟ -‌‌ آصف محمود

ارشاد ہوا زینب کی لاش پر سیاست نہ کی جائے ۔ سوال یہ ہے کہ کیوں نہ کی جائے؟ اگر ایک معصوم بیٹی کی لاش پر سیاست نہ کی جائے تو پھر کس پر سیاست کی جائے؟ کیا حکمرانوں کے سر پر اُگ آنے والے تازہ بالوں پر سیاست کی جائے؟ کیا ان کی قیمتی پوشاکوں پر دیوان لکھے جائیں اور ان کی مونچھوں کے پیچ و خم پر قصائد کہے جائیں؟

ذرا اس بیانیے کو غور سے سمجھنے کی کوشش کیجیے ۔ کیا اہل درباربین السطور یہ بات تسلیم نہیں کر رہے کہ سیاست اصل میں بے ہودہ قسم کی شعبدہ بازی اور تماش بینی کا نام ہے اس لیے اس نازک اور دردناک موقع پر اس بے ہودگی، شعبدہ بازی اور تماش بینی سے اجتناب فرمایا جائے ۔سیاست اگر ان کے نزدیک واقعی عبادت، خیر خواہی اور درد دل کا نام ہوتا تو وہ اس سے اجتناب کی دہائی نہ دیتے ۔

یہ تو معاملہ ہی بنیادی طور پرفرسودہ سیاست اور ناکارہ طرز حکومت کا معاملہ ہے ۔ زیادہ گہرائی میں نہیں جاتے چند سادہ سی باتوں پر غور کر کے دیکھ لیتے ہیں۔

کیا آپ نے حفاظتی کیمرے کی وہ ویڈیو دیکھی ہے جس میں زینب اپنے ممکنہ قاتل کا ہاتھ پکڑ کر جا رہی ہے۔ یہ تصویر اتنی دھندلی ہے کہ کسی کا چہرہ ٹھیک طریقے سے نہیں دکھائی دیتا۔ یہ صرف ایک شہر کا قصہ نہیں ۔سارے ملک کا یہی حال ہے ۔ اسلام آباد میں لگائے گئے کیمروں کا بھی یہی حال ہے ۔ بیرسٹر فاروق اقبال خان کی گاڑی کو ایف ایٹ میں کسی نے ٹکر ماری ۔ سارا منظر کیمرے میں محفوظ ہے لیکن اتنا دھندلا کہ پوری کوشش کے باوجود ٹکر مارنے والی گاڑی کا نمبر نہیں پڑھا جا رہا ۔ بیرسٹر صاحب چیخ چیخ کر تھک گئے کہ یہ صرف ان کی گاڑی کا مسئلہ نہیں ہے یہ دارالحکومت کی سیکیورٹی کا بہت سنگین مسئلہ ہے ۔ لیکن کہیں شنوائی نہ ہوئی ۔ سوال یہ ہے یہ کیمرے ہمارے شہروں کی خاک حفاظت کریں گے جن میں کوئی تصویر ہی واضح نہ آتی ہو ۔ یہ ناکارہ کیمرے کس نے منگوائے؟ ان پر کتنے پیسے خرچ کیے گئے؟ کیا اتنے پیسوں میں ان سے بہتر کیمرے دستیاب نہیں ہو سکتے تھے؟ کیا کسی نے یہاں بھی کمیشن کھایا؟لیکن یہ سوال سیاست قرار پائیں گے اور ارشاد تازہ ہے لاش پر سیاست نہ کی جائے۔

آگے چلیے ۔ جو دھندلی سی تصویر اس ویڈیو میں ہمیں نظر آ رہی ہے اس میں اتنا تو پتا چل رہا ہے کہ زینب کے ساتھ جانے والے آدمی نے ڈاڑھی رکھی ہوئی ہے لیکن حکومت نے جو خاکہ جاری فرمایا ہے اس میں ملزم کی ڈاڑھی نہیں ہے ۔حالانکہ یہ ایک بنیادی اصول ہے کہ ملزم کا خاکہ اس کے عمومی حلیے میں بنایا جائے تاکہ معاشرے میں اس کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے لوگ خاکہ دیکھ کر پہچان جائیں کہ یہ فلاں آدمی ہو سکتا ہے ۔ مزید احتیاط کے لیے اضافی خاکے بنائے جا سکتے ہیں کہ ملزم کلین شیو ہو تو یوں دکھائی دے گا اور اگر داڑھی رکھ لے تو اس کا حلیہ کچھ یوں ہو گا لیکن بنیادی خاکہ اس کے عمومی حلیے کے مطابق ہو گا ۔ لیکن آپ اس خاکے پر سوال اٹھائیں گے تو یہ سیاست قرار پائے گا اور ارشاد تازہ ہے کہ لاش پر سیاست نہیں ہوتی ۔ لاش پر صرف بغلیں بجائی جاتی ہیں کہ حکمران اتنے خدا ترس ہیں کہ ساری رات سو نہیں سکے اور صبح سویرے مقتول بیٹی کے گھر پہنچ گئے ۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا عمران خان وعدے پورے کر سکیں گے؟ سید معظم معین

ہماری سیاست کا تو المیہ ہی یہی رہا ہے کہ اس نے کبھی عام آدمی کو اپنا موضوع نہیں بنایا، یہ ہمیشہ سے بالادست طبقے کا کھیل رہا ہے جس میں ہر فریق کی نظر اسی طرح اقتدار پر ہوتی ہے جیسے گدھ کی نظر کسی مردار پر۔سیاست اس سے بے نیاز ہی رہی کہ عام آدمی کے مسائل کیا ہیں اور وہ کتنے دکھ اوڑھ کر جی رہا ہے؟ عام آدمی کو کسی ہسپتال میں دوا ملے یا وہ ہسپتال کی روہ داری میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جائے، بچے تعلیم حاصل کر سکیں یا پرائیویٹ اداروں کے قصابوں کے حوالے کر دیے جائیں، تھانے مظلوم کی داد رسی کر سکیں یا وحشت کدوں کا روپ دھار لیں، سیاست نے کبھی ان معاملات کو اپنا موضوع نہیں بنایا۔سیاست وسائل کے ساحل پر داد عیش دیتے ایک ایسے آسودہ طبقے کی کنیز کا نام ہے جسے اس آدمی کے دکھوں کا کوئی اندازہ ہی نہیں جسے ہر سہ پہر پیاس بجھانے کے لیے کنواں کھودنا پڑتا ہے۔آج جب ایک بچی کا دکھ معاشرے کے سینے میں پیوست ہو گیا ہے اور اس نے سماج کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں اور ایک عام آدمی کا دکھ سیاست کا موضوع بننے لگا ہے تو دسترخوان کی گدھوں نے دہائی دینا شروع کر دی ہے لاش پر سیاست نہ کی جائے۔کیوں حضور! کیوں نہ کی جائے؟

لاش پر شعبدہ بازی ہو سکتی ہے، لاش پر ٹویٹ ہو سکتا ہے، لاش پر فوٹو سیشن ہو سکتا ہے، لاش پر یہ اعلان عام ہو سکتا ہے کہ حاکم وقت اتنا دکھی ہے کہ رات کو سو نہیں سکا، لاش پر منادی ہو سکتی ہے کہ حاکم پو پھٹتے ہی مقتول بیٹی کے گھر دلاسا دینے پہنچ گیا، لاش پر انگلی لہرا لہرا کر کارروائی ڈالی جا سکتی ہے لیکن کوئی سوال کر لے جناب سینکڑوں نوٹس اس سے پہلے آپ لے چکے، سینکڑوں مظلومین کے گھر جا کر آپ کارروائیاں ڈال چکے، سینکڑوں افسران کو معطل کر کے آپ قوم کے شعور اجتماعی کے ساتھ مذاق کر چکے تو اس وقت کسی کارروائی دالنے کی بجائے آپ کو ڈھنگ کا کوئی کام کرنا چاہیے تھا تو اسے سیاست قرار دے دیا جائے گا اور ارشاد تازہ یہ ہے کہ لاش پر سیاست نہ کی جائے؟

یہ بھی پڑھیں:   کیا عمران خان وعدے پورے کر سکیں گے؟ سید معظم معین

جان کی امان پاؤں تو پوچھوں کہ لاش پر سیاست کیوں نہ کی جائے؟ کسی روز جائیے اور کسی ایچ او سے پوچھیے کہ جب تم کسی گھناؤنے جرم میں کسی کو گرفتار کرتے ہو تو اس کا پہلا سفارشی جو تمہارے پاس آتا ہے یا تمہیں فون کرتا ہے وہ کون ہوتا ہے؟کیا وہ سیاست دان نہیں ہوتا؟کوئی پولیس افسر آپ کا دوست نہیں تو اپنی یادداشت پر زور دیجیے کیا یہ خبر آپ نے متعدد دفعہ نہیں پڑھی کہ ملزم کو چھڑانے کے لیے معززین شہر تھانے پہنچ گئے۔ یہ معززین شہر کون ہوتے ہیں؟ کیا یہ مقامی سیاست دان نہیں ہوتے؟کیا یہ درست نہیں کہ حلقے کی سیاست کن ٹٹوں، لچوں اور بد معاشوں کی سرپرستی کے بغیر اب ممکن نہیں رہی؟کیا یہ بھی غلط ہے کہ اکثر جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی علاقے کی کوئی سیاسی شخصیت کر رہی ہوتی ہے؟کیا تھانوں میں ایس ایچ اوز کے تبادلے اور تعیناتی سیاسی شخصیات کی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر نہیں ہوتیں؟ کیا خود وزیر اعظم کے حکم پر شارق اقبال کو اس جرم میں صوبہ بدر نہیں کر دیا گیا تھا کہ اس نے ایک ایم این اے کا تابع مہمل بننے سے انکار کر دیا تھا؟کیا عمومی تاثر یہی نہیں کہ قصور میں اس سے پہلے ہونے والے واقعے کے ملزم کو بھی سیاسی پشت پناہی حاصل تھی؟

پولیس کو اہل سیاست نے اپنی لونڈی بنا لیا، تھانوں کے زور پر یہ سیاست کرتے ہیں، جھوٹے مقدموں کے ذریعے یہ دباؤ ڈالتے ہیں، ان کی سفارش پر ہونے والی بھرتیوں نے ادارہ برباد کر دیا، ہزاروں پولیس اہلکار صرف ان کی حفاظت پر مامور ہیں، یہ جدھر کا رخ کرتے ہیں پولیس خلق خدا پر ادھر کے سارے راستے بند کر دیتی ہے۔عوام جائے جہنم میں ان کی پروٹوکول ڈیوٹیاں سلامت رہنی چاہییں۔اس کے بعد جب حادثہ ہو جائے تو ارشاد ہوتا ہے سیاست مت کیجیے ۔

سیاست ضرور کی جانی چاہیے بلکہ سیاست کی زمام کار پیشہ ور سیاست بازوں کے ہاتھ سے چھین لی جانی چاہیے۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • بالکل ٹھیک لکھا۔ حادثے سے چند دن پہلے ہی انہی طرح کی باتیں میں نے اپنے مضمون میں بیان کی تھیں کہ ہماری تمام جماعتوں کی سیاست کا محور کیا ہے۔عوام کے مسئلوں کے حل کرنے کے لئے دور کی کوڑی لاتے ہیں کہ دیکھوں عدل بحال کرنے نکلا ہوں۔ یہ دیکھو ووٹ کی حرمت بحال کرنے نکلا ہوں۔ یہ دیکھو چیف جسٹس بحال کرنے نکلا ہوں۔ یہ دیکھو دھرنا دے رہا ہوں دھاندلی پر کیونکہ میں ہار گیا تھا۔ جب کہ وہ اژدھے نما مسائل جو عوام کو ڈسنے اور کسنے والے بڑے منہ کھول کر کھڑے ہوتے ہیں انپر کوئی دباؤ نہیں بنتا۔
    https://daleel.pk/2018/01/08/72427