بات تو سچ ہے مگر - عدنان طارق

کسی معصوم کلی کو مسل دینے والے بھیڑیے کو آخری بار کب نشان عبرت بنایا گیا؟

جواب میں خاموشی۔

کسی کو یاد ہو کہ ایسے پھولوں کی خوشبو ، کہ جو ابھی کھل بھی نہ پائے تھے، نوچنے والے درندوں کو کبھی سزا دی گئی ہو؟

دوبارہ خاموشی۔

اس طرح کے انسانیت سوز مظالم کا شکار بننے والوں کو انصاف فراہم کر کے ان کے زخموں پر مرہم آخری مرتبہ کب رکھا گیا؟

ایک بار پھر خاموشی!

ایسے لاتعداد سوال ہیں جن کے جواب میں ہمارے پاس خاموشی کے سوا کچھ نہیں ہوتا کیونکہ پاکستانی قوم پر قسمت 1947ء سے آج تک کبھی بھی اتنی مہرباں نہیں ہوئی کہ ان کی آنکھیں کسی ظالم کو سزا ملنے اور مظلوم کی دادرسی ہونے کا منظر دیکھ سکیں اور تقدیر ہم جیسی احساس سے عاری، اخلاق سے نا آشنا، تربیت سے نا بلد، عمل سے کوسوں دور قوم پر مہربان ہو بھی کیوں؟

اگر صرف مثال دینے کی بات ہو تو فوراً سے پہلے حضرت عمرؓ کی دیتے ہیں کہ جو دریا کنارے کتے کے مرنے پر بھی خود کو ذمہ دار ٹھہراتے تھے لیکن اوقات ہمارے ارباب اقتدار کی یہ ہے کہ جانوروں کو تو چھوڑیں انسانوں کی زندگی چلے جانے پر بھی ان کے ڈھیٹ کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔

قانون بنانے والی اسمبلیاں ہوں، قانون نافذ کرنے والے ادارے ہوں یا حکومت کرنے والے لوگ، بلا تفریق تقریباً ہر سیاسی جماعت کے، جب بھی کسی مجرم کو طاقتور شخصیت کی پشت پناہی حاصل ہو یا وہ خود اس جرم میں ملوث ہو تو ہر جرم کے بعد گزشتہ 70 سالوں میں ان سب کا یکساں رد عمل سامنے آتا ہے اور آ رہا ہے۔

سب سے پہلے شدید الفاظ میں واقعے کی مذمت کی جاتی ہے۔

معاملہ نازک ہو جائے تو سانحے کی جگہ پر جا کر ہمیں دکھانے کے لیے تصاویر بنوا لی جاتی ہیں۔

اگر زیادہ جوش آ جائے تو مجرموں سے آہنی ہاتھوں سے نپٹنے کے عزم کا اظہار کیا جاتا ہے۔

انسانیت کا درد پھر بھی انگڑائی لے لے تو مظلوم کو انصاف ملنے تک چین سے نہ بیٹھنے کی قسم کھائی جاتی ہے۔

سیاسی امیج کو تب بھی خطرہ ہو تو ایک ایسی کمیٹی بنا دی جاتی ہے جس کی رپورٹ کبھی منظر عام پر نہیں آتی۔

اور آخر میں جب بات ذرا ٹھنڈی ہو جائے تو کیس کی فائل ہمیشہ کے لیے بند ہو جاتی ہے یا کروا دی جاتی ہے۔

لیکن ہر بار ایک تبدیلی ضرور آتی ہے اور وہ یہ کہ ہر کہانی میں ظالم اور مظلوم کا کردار ادا کرنے والے چہرے مختلف ہوتے ہیں۔

نو سال کی طیبہ، چھ سالہ طوبیٰ … اور بھی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ اس دفعہ سات برس کی ننھی زینب اور اس کے ساتھ……

ایسا جرم کرنے والے گھٹیا لوگوں، ان کے سہولت کاروں اور اب ان مجرموں کو بچانے کی کوشش کرنے والوں کو کچھ کہنے کے لیے میرے پاس تو الفاظ نہیں۔ غیرت والوں کے لیے اک فقرہ ہی بہت ہوتا ہے لیکن اگر کسی میں غیرت ہی نہ ہو تو ایک جملہ کیا؟ ہزاروں الفاظ بھی ان کے لیے کم پڑیں گے۔ ان بے شرموں کو شرم آئے یا نہ آئے لیکن اس بات کا مجھے یقین کامل ہے کہ ظالم کے مقدر میں سزا لکھی ہے۔ اب اگر یہ سزا ہمارا قانون نہیں دیتا تو جلد یا بدیر قدرت دے گی لیکن ایسے لوگوں سے میرا منتقم رب انتقام ضرور لے گا۔

اس معصوم بچی سے وابستہ لوگوں کو میں بھلا کیا دلاسہ دوں۔ پنجابی میں کہتے ہیں "جیدی پیڑ اوہی جڑے باقیاں لئی تماشا" یعنی جس کا درد ہو صرف اسی کو محسوس ہوتا ہے اور باقی لوگوں کے لیے محض تماشا ۔

اس لمحے مجھے اپنا آپ بھی ایک تماشائی جیسا ہی لگ رہا ہے مگر میں یہ دعا کرتا ہوں کہ زینب کی ذات سے جڑے لوگوں کی زندگی میں وہ سورج ضرور طلوع ہو کہ جب وہ اس جرم میں ملوث ہر مجرم کو بیچ چوراہے لٹکتا دیکھیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */