ننھی معصوم پریوں کا باپ سوال اٹھاتا ہے - احسن سرفراز

زینب تو ایک استعارہ ہے جو ہمارے معاشرے میں پھیلی درندگی، ہوس اور ناہلی کو آشکار کر گئی۔ ہر آنکھ اشکبار ہے، ہونا بھی چاہیے، کیونکہ واقعہ ہی اتنا دردناک ہے جو ذرا سی بھی انسانیت رکھنے والے پتھر دل کو بھی پگھلا دے۔ لیکن اب کیا اس واقعے میں موجود درد کو ہی پھیلاتے رہنا اور مزید آنسو بہانا مسئلے کا حل ہے؟ بلاشبہ اس واقعے نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، تین معصوم بچیوں کا باپ ہونے کی وجہ سے مجھے اپنی بچیوں کے مستقبل کی فکر دامن گیر ہے، ہر فرد سے ڈر لگنے لگا ہے۔ میری ایک بچی پریپ اور ایک دوئم کلاس میں پڑھتی ہے جبکہ ایک اس سال سکول داخل ہو گی۔ پریپ میں پڑھنے والی بچی اور دوسری کلاس میں پڑھنے والی بچی کی چھٹی کے اوقات میں ایک گھنٹے کا فرق ہے۔ وہ ایک گھنٹہ میں قریبی مسجد میں ظہر کی نماز وغیرہ میں گزارتا ہوں اور اس دوران اپنے بچی کو مسجد کے ایک کونے میں بٹھا دیتا ہوں۔ نماز کے دوران بھی دل دھڑکتا رہتا ہے، فوراً نماز ختم کرتے ہی پہلی نگاہ اسی پر ڈالتا ہوں۔

کچھ دن پہلے انٹرنیٹ پر انڈیا کی بنی ایک کارٹون فلم نظر آئی جس میں بچوں کو ان کے والدین کے علاوہ حساس جسمانی اعضاء کو چھونے والے کسی بھی شخص کے خطرے کے بارے بہت مؤثر طریقے سے سمجھایا گیا تھا کہ کیسے انہیں والدین سے دور اجنبی شخص کے ساتھ نہیں جانا، کیسے انہیں ہر بات اپنے والدین کو بتانی ہے، کیسے اگر انہیں کوئی حساس جسمانی اعضاء پر چھوئے تو انہیں بھرپور قوت سے چیخنا ہے اور فوراً بھاگ کر والدین کو سب کچھ بتانا ہے اور کیسے والدین کو بھی اس بات کو اگنور نہیں کرنا اور مذکورہ شخص کی حرکت کا ضرور نوٹس لینا ہے۔ میں نے تینوں بچیوں کو وہ کارٹون فلم دکھائی اور ان کے معصوم سوالات کا جواب دیا۔ زینب کے واقعے پر بھی ان معصوم ذہنوں میں پیدا ہونے والے بیشمار سوالات کا کل سے اپنے تئیں جواب دے رہا ہوں اور انہیں سمجھا رہا ہوں۔ لیکن ذہن میں کئی طرح کے سوال ہیں جنہیں یہاں صرف سوچ کے چند زاویے وا کرنے کے لیے چھوڑے جا رہا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   ’’چونیاں ،قصور بچوں کا کیا قصور ! ذمہ دار کون ؟‘‘نسیم الحق زاہدی

1- قصور کے علاقہ میں نوّے کی دہائی میں بھی دو سو کے قریب بچوں سے زیادتی کی خبریں پھیلی تھیں۔ ایک سال پہلے ایک منظم گروہ کا انکشاف ہوا تھا جو بچوں کے ساتھ زیادتی کی فلمیں بنا کر بیرون ملک سمگل کرتا تھا، ان فلموں سے سینکڑوں بچوں سے زیادتی کا انکشاف ہوا۔ آخر ایک مخصوص علاقہ ہی اس قسم کی خباثت کا بھرپور شکار کیوں نظر آتا ہے؟

2- کیا کوئی ایسا کلچرل مسئلہ تو نہیں کہ ایک مخصوص علاقے میں اس قبیح فعل کے بارے آہستہ آہستہ حساسیت کم ہو چکی ہو یا ختم ہوتی جارہی ہو؟

3- مجھے یوں لگتا ہے کہ اگر بچی کا بہیمانہ قتل نہ ہوتا تو یوں سارا شہر سراپا احتجاج نہ بنتا، اس سے پہلے درجن بھر بچوں سے زیادتی کے کیس مقامی تھانوں میں رپورٹ ہوئے تو اس وقت نہ عوام ہی نے ایسی حساسیت دکھائی اور نہ پولیس نے مجرموں کا سراغ لگانے میں دلچسپی دکھائی، آخر ایسی حساسیت اس وقت کیوں نہ دکھائی گئی؟

4- اگر یہ گناہ وہاں اتنا عام ہوتا جارہا ہے تو لازماً تھڑوں اور بیٹھکوں میں اس پر بات بھی ہوتی ہوگی اور اسے انتہائی کمتر جرم سمجھنے والوں یا معمولی بات گرداننے والوں کے محاسبے اور معاشرے میں اس شیطانیت کے قلع قمع کے لیے کیا اقدامات اٹھانے چاہییں؟

5- یہ گھناؤنی حرکات اور شیطانیت دنیا کے ہر معاشرے میں پائی جاتی ہے، اس سے پہلے پوپ کو پادریوں کی طرف سے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات پر باقاعدہ معافی مانگنا پڑی۔ ہمارے ہاں مدارس اور سکولز بھی اس قسم کے واقعات کے حوالے سے بدنامی سمیٹتے رہے ہیں، یعنی جہاں دوسروں کا بچوں سے والدین کی نظر سے دور رہ کر زیادہ تعلق ہوتا ہے وہاں ایسے شیطان بھی زیادہ پائے جاتے ہیں۔ تو کیا مدارس اور سکولز کے اساتذہ کی کونسلنگ اور والدین کو بچوں کی حفاظت کے حوالے سے سنجیدہ تربیت دینے کی ضرورت نہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں - رابعہ انعم

6- کیا اس گھناؤنے فعل کو فساد فی الارض اور دہشت گردی کے زمرے میں شامل کرکے مجرموں کو سرعام پھانسی دینے جیسی سزائیں دینے کے حوالے سے قانون سازی کی ضرورت نہیں؟

7- کیا معاشرے میں اس گھناؤنے فعل کے حوالے سے 'زیرو ٹالرنس' پیدا کرنے کی ضرورت نہیں؟ کیونکہ اکثر واقعات دبا دیے جاتے ہیں اور ایسی حرکتیں کرنے والے ہمارے ہی اردگرد کے رشتہ دار یا جاننے والے ہو سکتے ہیں۔ آئندہ کیا اس قسم کی معمولی ٹھرک بھی اگر کسی فرد میں دیکھیں تو اس کا شدید محاسبہ کرنے کی ضرورت نہیں؟

8- کیا جنسی بے راہ روی کی بنیاد بننے والے ذرائع ٹی وی، فلم، مخرب الاخلاق ویب سائٹس و لٹریچر وغیرہ کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور ان پر پابندی لگانے کی ضرورت نہیں؟

9- کیا زینب کا واقعہ آرمی پبلک سکول پر دہشت گردوں کے حملے کی طرح ہمارے معاشرے کو بے حیائی اور شیطانی افعال کے خلاف متحد کر پائے گا؟

10- کیا ماہرین نفسیات، و دیگر سماجی شعبوں کے ماہرین کو اس طرح کے قبیح افعال کرنے والے افراد کی ذہنیت پر کوئی سنجیدہ تحقیقی کام سائینسی انداز سے کرکے اپنی سفارشات نہیں پیش کرنا چاہیے اور ان سفارشات کی روشنی میں ہمارے ہاں بھی لٹریچر، مختصر فلمز و کارٹون کے ذریعے بھرپور آگاہی مہم نہیں چلنی چاہیے؟

مندرجہ بالا سوالات کی طرح کے بہت سے سوالات ترتیب دیے جا سکتے ہیں لیکن اصل کام تو ان کا جواب تلاش کرنا ہے، لیکن جب تک جواب تلاش نہیں کیے جاتے، ہم جیسے عامی اور معصوم بچیوں کے باپ تو معصوم کلیوں کے مستقبل سے خوفزدہ ہو کر سوال ہی اٹھا سکتے ہیں۔

Comments

احسن سرفراز

احسن سرفراز

احسن سرفراز لاہور کے رہائشی ہیں. سیاست اور دیگر سماجی موضوعات دلچسپی کا باعث ہیں. ان کے خیال میں وہ سب کی طرح اپنے رب کی بہترین تخلیق ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ رب کی تخلیق کا بھرم قائم رہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.