ہمارا زخمی مستقبل - خدیجہ افضل مبشرہ

کل قصور کی بارہویں مقتولہ زینب کے بعد ابھی آج دن میں دوسری خبر پڑھ رہی ہوں قصور جیسی ہی درندگی کی۔ ایک 16 سالہ لڑکی کی لاش سرگودھا کے کھیتوں سے ملی اور ایک گیارہ سالہ بچے کی لاش پتوکی سے۔ دونوں کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔

کچھ باتیں ہم سب کو فوری سمجھنی ہوں گی اور اپنے بچوں کو بھی سمجھانی ہوں گی۔ والدین سے درخواست ہے کہ خدارا اپنے بچوں کو اکیلے گھروں سے باہر مت جانے دیں۔ ماں باپ بہن بھائی دادا دادی نانا نانی کے علاوہ بچے کو کسی کے ساتھ مت بھیجیں۔ خود جائیں ساتھ لے کر جہاں لے جانا ہو۔

یہ دنیا انسانوں کا بسیرا نہیں رہی، یہاں ہر طرف بھیڑیے تاک میں بیٹھے ہیں۔ جہاں کوئی شکار ملا وہیں بھنبھوڑ ڈالا۔ نہ عمر دیکھتے ہیں نہ جنس۔ اللہ کے بعد اپنے بچے کی حفاظت ماں باپ کی ذمہ داری ہے، چھوڑ دیں سب کام، سب سے پہلے اپنے بچے کی حفاظت یقینی بنائیں۔ اسے سکھائیں کہ بیٹا! آپ بہت معصوم ہیں مگر یہ دنیا آپ کو بھی نہیں چھوڑنے والی۔ اسے بتائیں کہ آپ بھلے ایک بچے ہیں مگر آپ کو اگر بچپن سے آگے تک کا سفر طے کرنا ہے تو اپنے بچپن کو دل میں دفن کرنا ہو گا، بڑا ہونا پڑے گا۔ ننھی سی عمر میں ہی اپنے آپ کی ذمہ داری خود سنبھالنا سیکھنی پڑے گی۔ تکلیف دہ ہے یہ بات کہ بچوں سے ان کا بچپن چھن جائے گا مگر ان کی زندگی، اور جسمانی و ذہنی حفاظت کی خاطر انہیں یہ سب سمجھانا سکھانا پڑے گا۔ انہیں بتائیں کہ کسی پہ بھروسہ مت کرنا، کسی سے کچھ بھی لے کر مت کھانا، کسی کے کسی لالچ میں مت آنا۔ یہ درندے اتنے ظالم ہیں کہ کھلونے دلانے کا لالچ دے کر تمہاری معصومیت اور بچپن سے ہی کھیل جائیں گے اور کھیل کر بھی دل نہیں بھرے گا ان کا۔ اس کے بعد یہ تمہیں کسی پلاسٹک کے کھلونے کی مانند ہی توڑ بھی ڈالیں گے۔ تمہارے بدن کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے پھینک دیں گے تمہیں!

کل سے دل بہت تکلیف میں ہے اور ایک میرا ہی دل کیا بلکہ پورا پاکستان اس وقت رو رہا ہے۔ مگر اس سے بھی بڑی تکلیف یہ ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کو شروع سے ہی کسی پر بھروسہ نہ کرنے کی عادت سکھانی ہوگی۔ جس دین نے مسکرانے کو صدقہ قرار دیا، ہمیں اس حکم سے آنکھیں موند کر اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہو گا کہ کوئی آپ کو مسکرا کر بلائے تو اس کو جواب نہیں دینا، اس کی طرف بالکل نہیں جانا۔

جس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے راستے میں کھیلتے بچوں سے شفقت کا سبق سکھایا اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے بچوں کو یہ سکھانا ہو گا کہ راستے میں گھروں سے باہر کھیلو ہی مت اور اگر کبھی کوئی کھیلنے کے لیے تمہاری جانب آئے بھی تو وہاں سے بھاگ جانا۔

جس دین نے چچا ماموں کو بچیوں کے لیے محرم بنایا ہمیں اسی دین کا پیروکار ہوتے ہوئے اپنی بیٹیوں کو یہ سکھانا ہو گا کہ باپ اور بھائی کے علاوہ کسی مرد رشتے پہ اعتبار مت کرنا۔

جس دین نے یہ سکھایا کہ مسلمان کا حق ہے دوسرے مسلمان پر کہ اس کی عزت جان اور مال پر حملہ نہ کرے، اسی دین پر چلتے ہوئے خود کو یاددہانی کرواتے رہنا ہو گی کہ ہماری جان عزت اور مال ہمارے علاوہ کسی کے ہاتھوں محفوظ نہیں ہے۔

جن نصابی کتابوں میں ہم بچپن سے پڑھتے آئے کہ بچے قوم کا مستقبل ہوتے ہیں، جی کرتا ہے کہ ان سب میں اس جملے کے بعد یہ لکھ دوں کہ ایک قوم ایسی بھی تھی جو اپنے مستقبل کو اپنی حیوانیت کی بھینٹ چڑھا کر قتل کردیتی تھی یا زخموں سے چور چور کر کہ سسکنے کے لیے زندہ چھوڑ دیتی تھی۔

بیٹوں کی مائیں خصوصاً جوان بیٹوں کی مائیں اپنے بچوں پہ نظر رکھیں۔ وہ انٹرنیٹ پر کیا دیکھتے ہیں؟ کس صحبت میں بیٹھتے ہیں؟ ان کا مزاج اور رویہ گھر والوں کے ساتھ کیسا ہے؟ سب دھیان میں رکھیں۔ اگر آپ کو کچھ غیر معمولی تبدیلی محسوس ہو تو اپنے بچوں سے بات کریں۔ ان کے مسائل جانیں اور ان مسائل کے حل میں ان کی مدد کریں۔ آپ کی غفلت یا معاشرے کی باتوں کے خوف سے انجان بنے رہنا دوسروں کے کتنے ہی بچوں کی زندگیاں تباہ کر سکتا ہے۔

جہاں تک ہو سکے بچوں کے ساتھ مارپیٹ اور تشدد سے احتراز بھرتیں۔ مارپیٹ بچوں کو شدت پسند بنا دیتی ہے اور دماغی طور پر بچوں کو مفلوج کر دیتی ہے۔ ایسے بچے بڑے ہو کر اپنی محرومی کا بدلہ اپنے سے کمزوروں سے لینا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر آپ پڑھے لکھے ہیں اور خود یہ محسوس کر سکتے ہیں کہ آپ کا جنسی رجحان نارمل سے ہٹ کر ہے تو خود اپنی مدد کریں۔ اپنے مرض کی تسکین کے لیے اس معاشرے میں مزید ذہنی مریض مت پیدا کریں۔ آئندہ نسلوں کو زخموں سے چور کر کہ ہم اس معاشرے کی ترقی کا خواب نہیں دیکھ سکتے۔

حکام بالا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے استدعا ہے کہ ان مقتول اور مظلوم بچوں کو اپنے بچے سمجھ کر ان کے مجرموں کو پکڑیں اور فوری سرعام پھانسی یا سنگسار کرنے کی سزا دیں۔ ورنہ غلاظت اور تعفن کے یہ بھبکے ہمارے معاشرے کو اتنا بدبودار بنا دیں گے کہ ہمارے بچوں کا اس ماحول میں سانس تک لینا ممکن نہیں رہے گا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */