انکل نما گدھ - ام محمد سلمان

بولتے کیوں نہیں میرے حق میں

آبلے پڑ گئے زباں میں کیا؟

ابھی تھوڑی دیر پہلے سوشل میڈیا پر زینب کی تصویر کے ساتھ یہ شعر لکھا ہوا دیکھا تو قلم خود بے اختیار چل پڑا۔

پیاری زینب! تم فکر نہ کرو یہاں سب لوگ تمہارے حق میں بول رہے ہیں اور بہت زیادہ بول رہے ہیں بس بول بول کر اپنا فرض ادا کررہے ہیں۔ مگر اس دھرتی کی مائیں آج بھی اتنی ہی بے فکر اور بے پروا بیٹھی ہیں۔ میرے اردگرد گلیوں میں سڑکوں پہ تفریح گاہوں میں، تقریبات میں.... ہر جگہ بچیاں آج بھی انہی نا مکمل کپڑوں میں ہیں۔ کوئی ٹائٹس پہنے، کوئی تنگ جینز پہنے، کوئی شارٹس پہنے، کوئی بغیر آستینوں کی قمیض پہنے۔۔۔۔ اور کوئی ایسا تنگ لباس پہنے کہ آٹھ دس سال کی بچی بھی دعوت نظارہ دیتی ہوئی نظر آئے۔ وہ معصوم بچیاں جو خود نہیں جانتیں ہم نے کیا پہنا ہے اور کیوں پہنا ہے؟

ایک قصور ہی کا کیا کہنا زینب ... یہاں تو روز ہی کہیں نہ کہیں ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں۔ ہم نے خود اپنی معصوم بچیوں کو تماشا بنا دیا ہے۔ فیشن کی یہ دوڑ نجانے کہاں جاکر رکے گی جس نے ہمیں ہماری اقدار سے بیگانہ کردیا ہے۔

پیاری زینب! تم نے بہت دکھ اٹھایا ہے نا؟ تم اللہ سے کہو کہ اس زمین پر بسنے والے ہر بھیڑیے کو نیست و نابود کردے۔ وہ لوگ جنھوں نے تمہارا معصوم بچپن چھین لیا تمہیں موت کی نیند سلا دیا اور جو متواتر ہمارے چمن کی کلیوں کو مسل رہے ہیں، اُن درندوں کو نشانِ عبرت بنا دے کیونکہ ہم تو تمہارے اور تمہارے جیسی سینکڑوں معصوم بچیوں کے لیے کچھ نہ کر سکے۔ ہماری پولیس ہماری حکومت اور انتظامیہ سب بے بس ہیں۔ تمہیں نہیں پتا زینب، یہ سب بیچارے بہت کمزور ہیں ان کے اندر طاقت ہی نہیں ظلم کو مٹانے اور ظالم کو سزا دینے کی۔ یہ اپنی کرسیوں اور عہدوں کے غم میں رو رو کے چلا چلا کے بھاگ دوڑ کر کر کے اس قدر ہلکان ہوچکے ہیں کہ اب مزید کچھ کرنا ان کے بس میں نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سانحہ قصور، چند گزارشات - محمد عمیر

ہاں پیاری زینب تم تو اس دربار میں پہنچ چکی ہو جو سب سے اعلیٰ و ارفع ہے جو سب کا بادشاہ ہے جو آن کی آن میں کایا پلٹ سکتا ہے۔ ہاں زینب! میری بچی! تم ہماری طرف سے معذرت قبول کر لو۔ تم اپنا مقدمہ بس احکم الحاکمین کی بارگاہ میں پیش کرو۔

پیاری زینب! تم نے تو ابھی اس دنیا کو ٹھیک سے دیکھا بھی نہ ہوگا تو اس کی چالوں کو کیا سمجھ سکتی تھیں بھلا؟ لیکن پیاری زینب! تم اپنے جیسی دوسری معصوم بچیوں کو آسمان سے کسی فرشتے کے ہاتھ پیغام بھجوادو کہ اے میری بھولی بھالی سکھیو! تم کبھی کسی انکل کے دھوکے میں نہ آنا، تم کبھی کسی چیز کا لالچ نہ کرنا۔ تمہیں ٹافیوں، بسکٹ اور چاکلیٹ کا جھانسہ دےکر یہ "انکل نما گدھ" تمہیں کھا جائیں گے۔

میں دیکھتی ہوں ناں اوپر آسمانوں سے اپنے ماں باپ کا رونا تڑپنا!

دیکھو تم کبھی ایسا نہ کرنا جو غلطی مجھ سے ہوگئی اسے تم نہ دہرانا تم اپنے پیاروں کو ایسے نہ تڑپانا!

اے میری معصوم بھولی بھالی سکھیو! دیکھو تم خود اپنی حفاظت کرنا، کبھی کسی اجنبی کے ساتھ نہ جانا چاہے کوئی تم سے کتنا ہی لاڈ دکھائے کتنا ہی لالچ دے اور تم ہمیشہ ایسے کپڑے پہننا جو تمہیں اچھی طرح ڈھانپ لیں۔ تم ننگے بازوؤں کے ساتھ بازار میں نہ پھرنا۔ تم اپنی ماؤں سے کہہ دینا، ہمیں ایسے کپڑے مت پہناؤ جو ہمیں بے توقیر کر دیں۔ ہمیں عزت والا لباس پہناؤ۔ عزت "بے ہودہ فیشن" میں نہیں بلکہ اللہ کا حکم پورا کرنے میں ہے۔ اے میری پیاری بہنو! مجھ سے وعدہ کرو کہ تم ہمیشہ پورا اور شرعی لباس پہنو گی اور تم بغیر شدید ضرورت کے گھر سے باہر نہ نکلو گی اور اگر جانا ہی پڑے تو کسی اپنے کے ساتھ جاؤگی اور تم جب بھی گھر سے نکلو حفاظت کی دعا ضرور پڑھ لیا کرنا۔

بسم اللہ توکلت علی اللہ لا حول ولا قوة الا بالله

اللہ کے نام کے ساتھ میں نے اللہ پہ بھروسہ کیا اور بے شک نیک کام کرنے کی طاقت اور برائی سے بچنے کی قوت اللہ ہی کی طرف سے ہے۔

Comments

ام محمد سلمان

کراچی میں مقیم اُمِّ محمد سلمان نے زندگی کے نشیب و فراز سے جو سبق سیکھے، ایک امانت کے طور پر دوسروں کو سونپنے کے لیے قلم کو بہترین ساتھی پایا۔ اُن کا مقصد ایسی تحاریر لکھنا ہے جو لوگوں کو اللہ سے قریب کریں اور ان کی دنیا و آخرت کی فلاح کا سبب بنیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں