موم کی گڑیا - ابوالوفا محمد حماد اثری

میں اسے منافقت سمجھتا ہوں! دوغلا پن، ابن الوقتی، سنت ابن ابی ، ابن سباء کی سنت۔

تیرے دل میں اگر دکھ نہیں ہے تو یوں ٹسوے بہانے کی ضرورت کیا ہے؟ جب بھی کوئی زور زبردستی، زیادتی، پریشانی، پشیمانی اورعصمت دریدگی کا واقعہ سنائی دیتا یا خبر سنائی پڑتی کہ کسی معصوم کلی کو بھنبھوڑ دیا گیا ہے۔ بیٹیوں بالیوں کے ابے رنج و محن اور مصائب و آلام میں ڈوبے دکھائی دیتے، ان کے چہروں پہ کرب کی چھائیاں نظر آتیں، کسی ظالم نے ان کی خوشیوں کی دیوار میں کھنڈت ڈال دی ہوتی اور اسے دیوار گریہ بنا دیا ہوتا، تو میں ازراہ ہمدردی اس کے حق میں بولنے کی کوشش کرتا۔

میرا دوست مجھے اس طرح کی باتیں کہہ کر ٹوک دیتا اورمیری زبان پہ تالے توپ دیتا، یوں منافقت کے ٹسوے نہ بہاؤ، کہیں دل سے پوچھو دکھی بھی ہے یا نہیں؟ لیکن آج صبح سے وہ بولایا پھرتا تھا۔ آنکھ کا پتلا نم، دیدے اپنے پیالوں سے امڈنے کو بے تاب، بدن کا رواں رواں کانٹوں کا گٹھا بن چکا تھا۔

پوچھا، یارا! کیا ہوا؟ ریت کی طرح پپوٹے میں کھٹکتے اس کے آنسو پلکوں کی حد کو توڑ گئے۔

کہتا تھا، “یار! زینب امین کی شکل اپنی زینب مقبول سے کس قدر ملتی ہے؟ ویسی ہی معصومیت، وہی نین نقش وہی موم کی گڑیا اور وہی۔۔۔” دھاڑیں مار مار کے رونے لگا۔

ہاں یارو! آج دل کے اندر کوئی ہنڈیا سی ابل رہی، پتہ ہے کیوں؟ زینب امین کی شکل واقعی زینب مقبول سے ملتی ہے۔