زینب سے زینب تک - اسماعیل احمد

یزید کی محفل میں جب حضرت زینب کبری (علیہا السلام) کی نظر اپنے بھائی امام حسین (علیہ السلام) کے خون آلود سر پر پڑی تو آپ نے ایسی غمناک آواز میں فریاد کی جس سے سب لوگوں کے دل دہل گئے:۔ اے حسین! اے محبوب رسول خدا! اے مکہ و منیٰ کے بیٹے ! اے فاطمہ زہرا سیده النساء العالمین کے بیٹے! اے محمد مصطفی ﷺ کی بیٹی کے بیٹے !

راوی اس واقعہ کو نقل کرتے ہوئے کہتا ہے: خدا کی قسم ! حضرت زینب کی اس آواز سے وہ تمام لوگ رونے لگے جو یزید کے دربار میں بیٹھے ہوئے تھے اور یزید اس طرح خاموش بیٹھا ہوا تھا جس طرح اس کو سانپ سونگھ گیا ہو !!... یہاں پر علی کی شیر دل بیٹی زینب کبری کھڑی ہوگئیں اور بہترین خطبہ ارشاد فرمایا:

سب تعریفیں اس خدا کے لیے ہیں جو کائنات کا پروردگار ہے اور خدا کی رحمتیں نازل ہوں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اور ان کی پاکیزہ عترت و اہل بیت(علیهم السلام) پر۔ اما بعد ! بالاخر ان لوگوں کا انجام برا ہے جنہوں نے اپنے دامن حیات کو برائیوں کی سیاہی سے داغدار کر کے اپنے خدا کی آیات کی تکذیب کی اور آیات پروردگار کا مذاق اڑایا۔ اے یزید! کیا تو سمجھتا ہے کہ تو نے ہم پر زمین کے گوشے اور آسمان کے کنارے تنگ کر دیے ہیں اور آلِ رسول کو رسیوں اور زنجیروں میں جکڑ کر دربدر پھرانے سے تو خدا کی بارگاہ میں سرفراز هوا اور ہم رسوا ہوئے ہیں؟ کیا تیرے خیال میں ہم مظلوم ہو کر ذلیل ہو گئے اور تو ظالم بن کر سر بلند ہوا ہے؟ کیا تو سمجھتا ہے کہ ہم پر ظلم کر کے خدا کی بارگاہ میں تجھے شان و مقام حاصل ہو گیا ہے؟ آج تو اپنی ظاہری فتح کی خوشی میں سرمست ہے، مسرت و شادمانی سے سرشار ہو کر اپنے غالب ہونے پر اِترا رہا ہے۔ اپنی غلط سوچ پر مغرور نہ ہو اور هوش کی سانس لے۔ کیا تو نے خدا کا یہ فرمان بھلا دیا ہے کہ حق کا انکار کرنے والے یہ خیال نہ کریں کہ ہم نے انہیں جو مہلت دی ہے وہ ان کے لیے بہتر ہے ؟ بلکہ ہم نے انہیں اس لیے ڈھیل دے رکھی ہے کہ جی بھر کر اپنے گناہوں میں اضافہ کر لیں اور ان کے لیے خوفناک عذاب معین کیا جا چکا ہے۔ اس کے بعد فرمایا: کیا یہ تیرا انصاف ہے کہ تو نے اپنی مستورات اور لونڈیوں کو چادر اور چار دیواری کا تحفظ فراہم کر کے پردے میں بٹھا رکھا ہوا ہے جبکہ رسول زادیوں کو سر برہنہ در بدر پھرا رہا ہے۔ تو نے مخدرات عصمت کی چادریں لوٹ لیں اور ان کی بے حرمتی کا مرتکب ہوا۔ تیرے حکم پر اشقیاءنے رسول زادیوں کو بے نقاب کر کے شہر بہ شہر پھرایا۔ تیرے حکم پر دشمنان خدا، اہل بیت رسول کی پاکدامن مستورات کو ننگے سر لوگوں کے ہجوم میں لے آئے اورلوگ رسول زادیوں کے کھلے سر دیکھ کر ان کا مذاق اڑا رہے ہیں اور دور و نزدیک کے رہنے والے سب لوگ ان کی طرف نظریں اٹھا اٹھا کر دیکھ رہے ہیں۔ ہر شریف و کمینے کی نگاہیں ان پاک بیبیوں کے ننگے سروں پر جمی ہیں۔ آج رسول زادیوں کے ساتھ ہمدردی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ آج ان قیدی مستورات کے ساتھ ان کے مرد موجود نہیں ہیں جو اِن کی سرپرستی کریں۔ آج آلِ محمد ﷺ کا معین و مددگار کوئی نہیں ہے۔ اے یزید ! کیا تجھے حیا نہیں آتی کہ تو جوانانِ جنت کے سردار حسین ابن علی (علیه السلام) کے دندان مبارک پر چھڑی مار کر ان کی بے ادبی کر رہا ہے؟ اس کے بعد حضرت زینب نے آسمان کی طرف منہ کر بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا !اے ہمارے پروردگار! تو ہمارا حق ان ظالموں سے ہمیں دلا دے اور تو ہمارے حق کا بدلہ ان سے لے۔ اے پروردگار تو ہی ان ستمگروں سے ہمارا انتقام لے اور اے خدا! تو ہی ان پر اپنا غضب نازل فرما، جس نے ہمارے عزیزوں کو خون میں نہلایا اور ہمارے مددگاروں کو تہہ تیغ کر دیا۔ اے یزید ! تو نے جو ظلم کیا ہے یه اپنے ساتھ ظلم کیا ہے۔ تو نے کسی کی نہیں بلکہ اپنی ہی کھال چاک کی ہے اور تو نے کسی کا نہیں بلکہ اپنا ہی گوشت کاٹا ہے۔ تو رسولِ خدا ﷺ کے سامنے ایک مجرم کی صورت میں لایا جائے گا اور تجھ سے تیرے اس گھناؤنے جرم کی باز پرس ہو گی کہ تو نے اولادِ رسول کا خونِ ناحق کیوں بہایا اور رسول زادیوں کو کیوں دربدر پھرایا؟ نیز، رسول کے جگر پاروں کے ساتھ ظلم کیوں روا رکھا؟ اے یزید ! یاد رکھ کہ خدا، آلِ رسول کا تجھ سے انتقام لے کر ان مظلوموں کا حق انہیں دلائے گا اور انہیں امن و سکون کی نعمت سے مالامال کر دے گا۔ خدا کا فرمان ہے کہ تم گمان نہ کرو کہ جو لوگ راہِ خدا میں مارے گئے وہ مر چکے ہیں بلکہ وہ ہمیشہ کی زندگی پا گئے اور بارگاہِ الٰہی سے روزی پا رہے ہیں۔ عنقریب وہ لوگ بھی اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے جنہوں نے تیرے لیے ظلم و استبداد کی بنیادیں مضبوط کیں اور تیری آمرانہ سلطنت کی بساط بچھا کر تجھے اہل اسلام پر مسلط کر دیا۔ ان لوگوں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ ستمگروں کا انجام برا ہوتا ہے اور کس کے ساتھی ناتوانی کا شکار ہیں۔

چودہ صدیوں بعد بھی رسول ِ خدا ﷺ کے عشق کو ایمان ماننے والے ایک خاندان کی زینب کچھ یزیدوں کے ظلم کی بھیںنٹ چڑھ گئی۔ اس ظلم کی ابتدا یزید کے جن سرپرستوں نے کی، یہ وہ تھے جو اپنے چینلز پر بنتِ حوا کو ایک ماڈل کی طرح پیش کرتے ہیں یعنی خوبیاں دیکھ کر استعمال کرو اور پھر پھینک دو۔ جس بری طرح پاکستانی ڈراموں میں جنسی بیماریوں کو تہذیب و تمدن کے لفافوں میں پیک کر کے دکھایا جاتا ہے، عقلمند حیران رہ جاتے ہیں۔ بے شمار پاکستانی تفریحی چینلز پر ایسے حیا باختہ ڈرامے دکھائے جارہے ہیں جہاں پچاس، ساٹھ سالہ افراد کے ساتھ سولہ، سترہ سالہ نوخیز کلیوں کو عشق کی پینگیں بڑھاتے دکھایا جاتا ہے۔ یہی ہوس جب ذہنوں میں خوب راسخ ہو جاتی ہے پھر تمیز عمر اور جنس مٹ جاتی ہے۔ انسان نہ یہ دیکھتا ہے کہ جس کلی کو وہ مسلنے لگا ہے اس نے تو ابھی آنکھیں کھول کر ایک بار اس گلشن کی خوشبو بھی نہیں سونگھی اور نہ ہی وہ اپنی ذاتی تمناؤں کی تکمیل کی راہ میں چھوٹی عمر کے بچوں کو بخشتا ہے۔

ہمارے اربابِ اختیار غور سے دیکھ لیں ہمارے آج کل کے ڈرامے ہمارے لوگوں کو جنسی طور پر متشدد بنا دیتے ہیں۔ پھر اس کے بعد انسان وہی کرتاہے جو قصور اور اس جیسے واقعات میں ہوتا آیا ہے۔ آخر کب تک زینب ہمیشہ یزیدوں کے ظلم اور درندگی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اس کا نشانہ بنتی رہے گی۔ ویسے چودہ صدیوں پہلے کی زینب اور قصور والی زینب میں ایک فرق ہے " یہ زینب تو یزیدوں کے ظلم کے جواب میں کوئی خطبہ، کوئی بات کیے بغیر ہی چلی گئی… اگر یہ زینب زندہ ہوتی تو دیکھتی کہ یزید کے دربار میں زینب پر ہونے والے ظلم پر رونے والی آنکھیں بہت ہیں، یزید کےظلم کو روکنے والا ہاتھ ایک بھی نہیں۔

Comments

اسماعیل احمد

اسماعیل احمد

کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز کرنے والے اسماعیل احمد گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ٹیکسلا میں بطور انسٹرکٹر کمپیوٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی یونیورسٹی آف سرگودھا سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔ سیاست، ادب، مذہب اور سماجیات ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں مطالعے کا شوق بچپن سے ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */