[نظم کہانی] بھیڑیے کی اپنے بچے کو نصیحت - محمد عثمان جامعی

کہا اک بھیڑیے نے اپنے بچے سے

”مِرے بالک!

نہیں باہر اکیلا جا

یہ پاکستان ہے بیٹا

درندوں سے سوا

اس ملک میں مخلوق بستی ہے

اور اُس مخلوق کا بھی

آدمی عنوان ہے بیٹا

یہاں ہم سے بھی بڑھ کر

ایسے کچھ سفاک رہتے ہیں

جو زینب جیسے پھولوں کو

مسل کر مار دیتے ہیں“