میں تھی زینب - افشاں فیصل شیوانی

میں بہت خوش تھی امی ابو سے رات فون پر بات ہوئی تھی، امی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ میرے لیے بہت سے تحائف لائیں گی۔ میں نے ان سے کہا کہ میں انہیں بہت یاد کرتی ہوں مگر چاچا کو بالکل تنگ نہیں کرتی، وقت پر اسکول اور مدرسہ جاتی ہوں۔ابو بہت خوش ہوئے اور بہت سی دعائیں دینے لگے اور میں نے سوچا کہ کچھ ہی دن باقی ہیں پھر امی ابو واپس آ جائیں گے اور…!

مگر اگلے دن جب میں مدرسہ جانے کے لیے گھر سے نکلی تو راستہ میں مجھے وہ انکل مل گئے۔ انہوں نے مجھے بہت پیار سے بلایا اور مجھے بہت پیار سے اپنے ساتھ چلنے کے لیے کہا۔ میں جانا نہیں چاہتی تھی مگر وہ انکل جانے کیسے مجھے بہلا کر، میرا ہاتھ پکڑ کر میرے ساتھ چلنے لگے اور ایک ٹافی انہوں نے میرے منہ میں ڈال دی۔اس وقت مجھے ڈر نہیں لگ رہا تھا مگر آگے چوک پر جب ایک اور انکل ساتھ چلنے لگے تو میں ڈر گئی مگر اس وقت پتہ نہیں کیسے مجھے نیند آنے لگی اور پھر…!

وہ ایک گندہ کمرا تھا میں چارپائی پر پڑی ہوئی تھی اور کمرے میں اندھیرا بھی تھا مجھ سے اٹھا نہیں جا رہا تھا۔ میں زور زور سے امی کو آوازیں دینے لگی پھر دروازہ کھلا اور وہ انکل اندر آئے میں ان سے پوچھنا چاہتی تھی کہ مجھے یہاں کون لایا ہے؟ مگر وہ بہت غصے میں لگ رہے تھے وہ میرے قریب آ کر بیٹھ گئے اور… اور مجھے ہاتھ لگانے لگے، کمر پر،چہرے پر،مجھے اچھا نہیں لگ رہا تھا ایسے لگ رہا تھا میرے اوپر کو ئی کیڑا رینگ رہا ہے۔ میں نے کہا انکل مجھے گھر جانا ہے اور انکل نے… وہ انکل نہیں تھے، وہ انسان جیسے دکھتے تھے مگر وہ کوئی اور تھے۔ شاید جانور یا شیطان ایسا ہوتا ہو گا، اس نے مجھے تھپڑ مارا اور پھر جو کچھ اس نے کیا۔ یہ ایسے کیوں کرتے ہیں، کیوں کر رہے تھے؟ مجھے پتہ نہیں مگر مجھے بہت زیادہ درد ہو رہا تھا۔ مجھے امی یاد آ رہی تھی، مجھے امی کے پاس جانا تھا مگر وہ مجھ پر سوار تھا۔ آہ… وہ اکیلا نہیں تھا دو یا تین شیطان اور تھے۔ مجھے سب ایک جیسے لگے ان سے بدبو آتی تھی، وہ جو چاہتے کرتے اور پھر مجھے زبردستی کچھ کھلا کر کمرے میں بند کر کے چلے جاتے اور مجھے نیند آ جاتی۔ میں روتے روتے سو جاتی۔ مجھے بہت مارا بھی انہوں نے اور مجھے بہت درد ہوتا رہا پھر اس دن کسی ایک کو مجھ پر ترس آ گیا اور اس نے میری گردن دبانی شروع کی، پہلے تو بہت درد ہوا مگر پھر آخر سارے درد ختم ہو گئے اور پھر وہ مجھے کوڑا کے ڈھیر پر پھینک گئے جیسے میں کوئی کچرا تھی۔

میں اب وہاں جا رہی ہوں جہاں ایسے لوگ نہیں ہیں۔ مگر مجھے پتہ ہے امی ابو مجھے بہت یاد کریں گے۔ میں جانا نہیں چاہتی، مجھے امی ابو کے ساتھ رہنا ہے، پڑھنا چاہتی ہوں میں، مگر اب میں ان کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ نجانے ان لوگوں نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ امی مجھے رانی بیٹی کہتی تھیں اور وہ مجھے کچرا بنا کر پھینک گئے، اب لوگ شور کر رہے ہیں، میرے نام کی دہائی دے رہے ہیں کہ زینب کو انصاف ملنا چاہیے۔میرے ساتھ ان گیارہ لڑکیوں کو بھی آج یاد کیا جا رہا ہے جو مجھ سے پہلے اس درندگی کا شکار بنی مگر یہ سب چند دنوں کی باتیں ہیں، ابھی بہت سے لوگ میری موت کا فائدہ اٹھائیں گے، کچھ سیاستدان اپنی سیاست چمکائیں گے۔ ٹی وی پر میرے لیے پروگرام ہوں گے اور پھر سب بھول بھال جائیں گے۔

مجھے امی سے کچھ کہنا ہے، امی! آپ کی رانی بیٹی کو انہوں نے بہت تکلیف دی، امی میری عمر تو نہیں تھی اتنا درد برداشت کرنے کی؟ امی میرا کیا قصور تھا جو مجھے یہ سزا ملی؟ کیوں میرا یہ حشر کیا ان لوگوں نے؟ کیوں میرے بچپن کا اور میری موت کا تماشہ بنا دیا گیا؟ میں چلاتی رہی، روتی رہی مگر میرے محافظ سوتے رہے۔ امی اچھا ہے کہ میں اب یہاں نہیں رہوں گی، یہ جگہ انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں۔ یہاں کوئی زینب، کوئی عائشہ، کوئی حوا کی بیٹی چاہے کسی عمر کی کیوں نہ ہو، محفوظ نہیں ہے۔ ہر گلی کے نکڑ پر بھیڑیے شکار کے انتظار میں بیٹھے ہیں اور میرے لیڈر اپنی ذاتی لڑائیوں میں مصروف ہیں۔ امی ہم اس قوم کا مستقبل ہیں نا؟ تو انہیں بتائیں ہمیں میٹرو بس،سڑکیں، پولیس اسٹیشن سے پہلے جینے کا حق چاہیے،محفوظ مستقبل چاہیے۔ محفوظ آج چاہیے، امی میں تو اپنے خوابوں کے ساتھ بہت سا درد سہہ کر مٹی تلے جا سوئی مگر میرے ملک میں اور بہت ساری زینب، عائشہ، عافیہ غیر محفوظ ہیں۔ امی ان کو بچانا ہے تو پھر اس کو ضرور سزا دلوانا جس نے میرے ساتھ یہ سب کیا تاکہ آئندہ کوئی بھی ابن آدم کسی بنت حوا کو اپنی درندگی کا نشانہ بنانے کی ہمت نہ کر سکے۔