حکومت وقت سے اپیل - ظہور احمد

قصور جیسے واقعہ پر ہر آنکھ اشک بار ہے۔ ہر شخص کی یہ خواہش ہے کہ ایسے لوگوں کو کڑی اور سخت سزا دی دی جائے لیکن ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ایسے واقعات اچانک سے پیش نہیں آتے، ان کے پیچھے سالہا سال کی برائی چھپی ہوتی ہے۔ ایک ایسا ذہن جس کے ناپاک خیال میں بنت حوا صرف اور صرف اس کے استعمال کے لیے ہے، یک بیک نہیں بنتا بلکہ اس کو بنانے میں نہ جانے کتنی ویب سائٹس، کتنے ناول، کتنی فلموں کا عمل دخل ہوتاہے۔ آج اگر ایسے مجرم کو سزا بھی دے دی گئی ، جو کے ضرور ملنی چاہیے، تو صرف اس ایک سزا سے باقی ذہن پاک نہیں ہوں گے۔ جب تک بڑائی کی جڑ کو ختم نہیں کیا جائے گا ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام مشکل ہی نہیں ناممکن صورت حال اختیار کرتی جائے گی۔

اگرچہ اس کا صحیح مکمل اور کامل طریقہ یہی اور صرف یہی ہے کہ اسلام کو انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کیا جائے لیکن جب تک یہ نہیں ہوپاتا کم از کم حکومت وقت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسا مؤثر قدم اٹھائے جس سے مکمل طور پر معاشرہ پاک اور صاف ہو نے میں مدد مل سکے۔ میری حکومت وقت سے درمندانہ اپیل ہے کہ:

1۔بے حیائی پر مبنی تمام ویب سائٹ مکمل طور پر بین کی جائیں۔

2۔بے حیائی پر مبنی تمام مواد ضبط کیا جائے چاہیے وہ کسی بڑے ادیب کا ہی لکھا ہوا کیوں نہ ہو۔

3۔ایسے تمام دوکانداروں کو سخت سزا دی جائے جو ایسا مواد اپنی دکانوں میں سجائے بیٹھے ہوں

4۔یوٹیوب کو مکمل کنٹرول کیا جائے۔ اگر انگریز اردو نہیں پڑھ سکتے تو آپ تو پڑھ سکتے ہیں؟ لہٰذا یوٹیوب پر موجود بے حیائی پر مبنی ہر قسم کا مواد مکمل طور پر بین کیا جائے۔

5۔ایسے تمام حربے جن سے بری ویب سائٹ کو کھولا جاسکتا ہوں ایسا انتظام کیا جائے کہ اس کا امکان بھی نہ رہے۔

6۔ انڈین فلموں پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔

7۔تمام پاکستانی ڈرامے جو بے حیائی کا پیش خیمہ ہیں، ان پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔

8۔اس کے علاوہ ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو بے حیائی پھیلانے والے تمام عناصر اور مواد کی کڑی نگرانی کرے، انہیں کیفرکردار تک پہنچائے۔اور ایسا کردار ادا کرے جس سے معاشرہ مکمل طور پر پاک صاف ہوسکے۔

عوام کے کرنے کے کام

بچوں کی آگاہی مہم اس سلسلہ میں بچوں کو برائی سے بچانے کے لیے علم اور شعور دینا بھی ضروری ہے جس میں تعلیم اور تربیت دونوں شامل ہیں۔ اس سلسلہ میں چند باتوں کے طرف توجہ دی جانی چاہیے

1۔مثلاً بچوں کی ایسی عادتوں کی روک تھام کی جائے جس سے وہ کسی کے پاس چیز دیکھ کر اس کے کہنے پر اس کے ساتھ چل پڑیں۔

2۔بچوں کو ضروری جنسی تعلیم دی جائے جس کا تعلق حقیقی جنسی تعلیم سے نہ ہو بلکہ یہ ایک پیش خیمہ ہو جس سے بچوں کو برائی سے بچانے میں مدد لی جاسکے۔ یہ بات صرف ایک خاص تناظر میں کہی جارہی ہےاور وہ یہ ہے کہ آج کل کچھ اداروں کی طرف سے ایسی ویڈیوز دیکھی گئی ہیں جن میں بچوں کو ایسی تعلیم دی گئی ہے۔

3۔بچوں کی اجنبی افراد سے میل جول پر کڑی نظر رکھی جائے اور اجنبی افراد بچوں سے کیا کہتے ہیں؟ اکیلے میں بچوں سے اس سلسلہ میں پوچھ بھی لیا جائے تاکہ احتیاط ممکن ہوسکے۔ حکومت اور عوام کی اس جانب مکمل توجہ سے شاید ہم اس قابل ہوسکیں کہ معاشرہ سے اس برائی کو مکمل ختم کیا جاسکے۔ اللہ ہمارا حامی وناصر ہو!