زینب کے مجرم کون؟ ڈاکٹر غلام اصغر ساجد

میں نے بہت سے پھول دیکھے ہیں، چمکتے رنگ برنگے خوشبو بکھیرتے کتنے سونے لگتے ہیں، ان کی مہک سے جو سکون ملتا ہے وہ ساری تھکاوٹیں خوشیوں میں بدل دیتا ہے … لیکن آج میری وال پر ایک ایسے ہی پھول کا ذکر ہے جسے مسل کر کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا گیا ہے۔ سب دلدوز چیخیں مار رہے ہیں، پورا گلشن سسک رہا ہے، سارے پھول تڑپنے لگے ہیں کہ کسی درندے نے پھول کچل دیا ہے۔ انسانیت کسی پکے ہوئے چھالے کی طرح پھٹ جانے کو تیار ہے۔ ماتم بھی ہے، آہ و فریاد بھی ہے اور انصاف کی آرزو بھی!

وہ زینب … وہ معصوم سا پھول! جس کے چمکنے چہکنے کے دن تھے، گڑیاں، پٹولے اور چھپن چھپائی کھیلنے کے دن تھے۔ ابھی تو وہ پینسل پکڑ کر اپنا نام لکھنا سیکھ رہی تھی۔ اس کے پڑھنے سیکھنے کے دن تھے لیکن انسانی وحشت کا شکار ہو گئی کہ انسانیت تارتار ہو گئی۔ کوڑے پر پڑا اس کا لاشہ چیخ چیخ کر دنیا کو بہت کچھ بتا رہا ہے، فریب کے سارے پردے وہ دنیا والوں کی آنکھوں سے اتار رہا ہے۔ لیکن یہاں تو مستی "اسٹیٹس رائٹنگ" میں صفحات بھرے جا رہے ہیں۔ ہمارے انصافی بھائیوں کو پنجاب حکومت پر اپنی نفرت کشی کا ایک اور موقع مل گیا ہے، ہمارے لبرل بھائیوں کو چار گواہوں اور ڈی این اے ٹیسٹ ثابت کرنے کا واقعہ مل گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر کہرام برپا ہے، ہمارے بہانے ہمارے اسٹیٹس بن رہے ہیں۔ بلاشبہ ہر شخص تڑپ رہا ہے، زینب کے نہیں، اپنے اندر سے نکلتی انسانیت کے غم میں تڑپ رہا ہے۔

آج سے تین سال قبل جب 'سنبل' پھول کچلا گیا تھا تو لکھا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ ساری پاکستانی قوم اپنی تگ و دو سےاس پھول مسلنے والے غیر انسان کو نشان عبرت بنا دے لیکن 'سنبل' کا مجرم، جی ہاں پھولوں کا مجرم، گلابوں کا مجرم! یونہی انسانیت پر وار کرتا رہے گا، آج بھی ہم اس مجرم کی بات نہیں کر رہے بلکہ چور ہی چور، چور کا شور مچا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   قرآن کی عینک - ناہید خان

سنبل ہو یا زینب، مجرم عیاں ہے، اس کے لیے نہ تو چار گواہ چاہییں اور نہ ڈی این اے ٹیسٹ، اور نہ اس پر چھاپہ مانے کے لیے کسی کھوجی کی ضرورت ہے/ کسے نہیں معلوم کہ اقدار اور اخلاق کو بھلا دینے کی بات کون کرتا ہے؟ وہی تو مجرم ہے۔ کون ان نوجوانوں کو آزاد روی اور روشن خیالی کے گھوڑے پر چڑھا کر انسانیت کو پار کرنا سکھا ہے؟ کون ہے جو مادر پدر آزادی کے نعرے لگوا رہا ہے؟ کون حیا باختہ تصاویر سے میرے نوجوانوں کی نفسیات انگیز کر کے نمبر ون سائٹ بنا رہا ہے؟ وہی تو مجرم ہے۔ کون ہے جسے obscene کی آج تک تعریف نہیں مل سکی، کون ہے جو برہنہ و نیم برہنہ عورتیں اور جسماجی نمائش کے لیے ڈریس شوز، نیم عریاں ناچ گانے ، فلموں کے واہیات ڈائیلاگ سکھا سکھا کر انسانیت نکال رہا ہے، کون اباحیت کا وکیل بن کر ہزاروں سنبلوں اور زینبوں کے لیے حیا باختہ نوجوان تیار کر رہا ہے؟ وہی مجرم ہے۔

لیکن کون ہے جو اس مجرم کی بات کرے؟ ان پر ہاتھ ڈالے؟ کیا تم نے انصار عباسی اور اوریا مقبول جان کا حال نہیں دیکھا جس کے لفظ لفظ پر آپ بھی انسانیت کے ٹھیکیدار ماتھے پر شکنیں ڈالے بیٹھے ہیں؟ کیا قاضی حسین احمد کے درد کو نہیں محسوس کیا جو بوڑھا سپریم کورٹ میں ان مجرموں پر ہاتھ ڈالنے گیا تھا لیکن لوٹ کر واپس نہیں آیا؟ آج وہ ڈاکٹر مہدی حسن کہاں ہے؟ ایکسپریس ٹریبیون کا ضیاء الدین کہاں ہے؟ کون ڈھونڈ لائے ان مجرموں کے وکیلوں کو جنہوں نے معاشرے کو مجرموں سے بھر دیا ہے، دکھاؤ انہیں زینب کا لاشہ کہ ان کی حرکتوں کا اختتام کہاں ہوتا ہے؟ دکھاؤ انہیں obscene کی تعریف کیا ہوتی ہے؟ ڈھونڈو یاسر پیرزادہ کو جنہیں اپنے قبیل کے ہر لفظ سے انسانیت اور ہر چینل پر آزادی نظر آتی ہے لیکن اس آزادی پر پلنے والے زینب کے مجرم نظر نہیں آتے۔ ڈھونڈو انہیں شاید زینب کے لیے انصاف مانگنے کا ناٹک کرتے اگلی صفوں میں آئیں کیونکہ یہ سب چور کے شور میں چور چور کرتے ہیں لیکن زینب کے مجرم انہی کی گٹھلیوں پر پل رہے ہیں۔