یہ پوائنٹ سکورنگ نہیں ہے - جویریہ سعید

کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ معصوم کلی پر بات کرنا پوائنٹ سکورنگ کے لیے ہے۔
جناب! معاشرے کے زندہ ہونے کی علامت ہے یہ!
ابھی احساس اتنا نہیں مر گیا کہ کسی مظلوم کی نچی ہوئی لاش دیکھ کر روح کپکپا نہ جائے اور دل بےقرار چند آنسو اور چند آہیں اور کچھ درد و خفگی میں ڈوبے الفاظ بھی کہنے سے قاصر ہو۔

کچھ کہتے ہیں ماں باپ کا قصور کہ بچی کو اوروں پر چھوڑ کر نفلی عبادت کے لیے کیوں گئے؟
جناب! خدارا جن توپوں کا رخ بھیڑیوں کی طرف ہونا چاہیے، آپ اپنی نکتہ آفرینی سے ان کا رخُ زندہ لاش بن جانے والے ماں باپ کی طرف پھیرنے کا کار خیر انجام نہ دیں۔ جن دوسری کلیوں کو مسلا گیا، جن مظلوموں کو دردناک انداز میں قتل کیا گیا، ان سب کے ماں باپ کیا عمرہ پر گئے ہوئے تھے؟ عجیب محلہ کی کٹنیوں والی نفسیات ہے جو موت، طلاق، معذوری، حادثے ہر موقع پر پرسےکے لیے آنے والے ہجوم میں غم سے چور خاندان کی طرف انگلی اٹھاتی ہے کہ ضرورکچھ انہوں نے ہی کیا ہوگا جبھی ایسا ہوا۔ ورنہ ہمارے ساتھ کیوں نہ ہوگیا؟

کچھ کا کہنا ہے نفوس کی گھٹن مذہبی پابندیوں کی وجہ سے ہے۔
جناب! یہ لاکھوں کا بزنس کرنے والی فحش ویب سائٹس، یہ ٹیلنٹ کے بجائے عریانی کی کروڑوں روپوں میں ادائیگی کرنے والی”شوبز انڈسٹری“ آپ کے خیال میں سائنس اور آرٹ کی خدمت کے لیے ہے؟ چمکتی اسکرینوں کے سامنے بیٹھے ہوؤں کے سفلی جذبات انگیز کر کے، ان کی شہوت کی بھوک میں آگ لگا کر معاشروں میں کھلا چھوڑ دیں گے تو آپ کے خیال میں عورت کو پردے کی قید سے نکال کر آزادانہ اختلاط کی اجازت دے دینے سے ان کی وحشت کی آگ بجھ جائے گی؟

جی ہاں!
جن کے سفلی جذبات بھڑکے ہوئے ہوں، صرف ان کی جنسی گھٹن ہی ڈھکی چھپی عورت کو دیکھ کر بھڑکتی ہوگی۔ عام انسانوں کی نظریں تو عموماً جھک جایا کرتی ہیں۔

سیدھی طرح سے درندوں کو پکڑیں جو آپ کی ناک کے نیچے کھل کھیل رہے ہیں، مجمع کے سامنے سنگسار کیجیے کہ ان کے ڈکرانے کی آوازیں دل میں شیطینیت پالنے والے ہر کان تک پہنچیں۔ ایک کڑک دار وارننگ کی طرح۔ قانون کی نکلی ہوئی خبردار کرتی آنکھوں کی طرح، کہ ”سوچا بھی تو یہ ہوگا تمہارے ساتھ!“

سیدھی طرح سے غلاظت کا کاروبار کرنے والوں کو سزا دیجیے، چاہے وہ گندی گلیوں میں چلنے والے ہوٹل ہوں، انٹرنیٹ کیفے ہوں یا شوبز کی چمکتی دنیا کے ”معززین“ جنھوں نے برہنگی اور شہوت کے مظاہرے کو آرٹ بنا کر ملین ڈالر کی رنگارنگ انڈسٹری بنائی ہے۔ ان کو سمجھائیے کہ جن سفلی جذبات کو آپ کی حسین اداکارائیں اور اداکار چمکتی اسکرینوں پرمریضانہ ذہنوں میں بھڑکاتے ہیں، اس آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ان گیدڑوں کو وہ اداکار تو ملتے نہیں، ان کو کمزور شکار ہماری چھوٹی بچیاں ہی نظر آتی ہیں۔

ادھر ادھر کی بات کر کے توجہ کو نہ بھٹکائیے۔ ایک ہی بات کیجیے۔ح قیقی مجرموں اور ان کے ”سہولت کاروں“ کو سزا دیجیے، سنگسار کیجیے۔

وہ بہادر کہاں ہیں جو ماورائے عدالت لوگوں کو لاپتہ کر دیتے ہیں؟
وہ سورما کہاں ہیں ہیں جو جعلی مقابلوں میں قتل کر دیتے ہیں؟

ہماری روح کے کان معصوم کلی کی دردناک چیخوں سے پھٹے جاتے ہیں۔
آپ مجرم کو سنگسار کیجیے کہ ہمارے جسم کے کان اس کے ڈکرانے کی آوازیں سن سکیں۔

Comments

جویریہ سعید

جویریہ سعید

جویریہ سعید کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں. طب اور نفسیات کی تعلیم حاصل کی ہے. ادب، مذہب اور سماجیات دلچسپی کے موضوعات ہیں. لکھنا پڑھنا سیکھنا اور معاشرے کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دیتے رہنا ان کے خصوصی مشاغل ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.