کیا پبلک فگر کی ہر بات جاننا عوام کا حق ہے؟ حافظ یوسف سراج

آج مجھے جو باتیں کہنی ہیں، اس سے پہلے یہ درخواست یا وضاحت بھی بڑی ضروری ہے کہ مجھے افسوس ہے کہ میں آپ ہی جیسا ایک گنہگار شخص ہوں۔ میں ان باتوں پر عامل ہونے کا دعویدار ہر گز نہیں، البتہ یہ خواہش ضرور ہے کہ کاش ایسا بن سکتا یا اب بن سکوں۔ آپ کو بھی یہ کالم اس لیے نہیں پڑھنا کہ آپ ضرور ہی پڑھ کر اس پر عامل ہی ہو جائیں، البتہ اگر عمل کریں تو یہ ایسی غلط چیز بھی نہ ہو گی۔ کہنا بس یہ چاہتا ہوں کہ ہم جب ایسی چیزوں کا سامنا یا ارتکاب کر رہے ہوں تو ہمیں کم ازکم ان چیزوں کے بارے میں یہ ضرور معلوم رہنا چاہیے کہ ہمارے ان رویوں کی سماجی، انسانی یا دینی حیثیت کیا ہے؟

دراصل، ہمارے ہاں دو معاملات میں اشتعال اتنا زیادہ بھڑک اٹھتا ہے کہ ہم آخری انتہا پر پہنچ جاتے ہیں۔ ان دو معاملات میں ایک مذہبی معاملہ ہے اور دوسرا سیاسی۔ عام طور پر ہم اعلیٰ اخلاقی، سماجی یا مذہبی چیزوں کو ملحوظ رکھتے ہیں یا رکھنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں، ان دو میدانوں میں مگر ہم جونہی مشتعل ہو کے کودتے ہیں اچھے بھلے مذہبی اور سنجیدہ لوگ بھی اپنی حدود بھلا دیتے ہیں۔دراصل مصیبت یہ ہے کہ ہم نے پہلے تو انسانیت کو غیرضروری حد تک مختلف رنگوں اور خانوں میں بانٹ دیا۔ یوں تکریمِ انسانیت یا آدم ؑ کی اولاد ہونے کا جو شرف اور احترام ہم سب کو حاصل تھا، جس سے ہم آپس میں ایک رشتے میں جڑتے تھے، وہ سب ختم ہو گیا اور زندگی جہنم ہو گئی۔ اچھا چلو یو ں ہو گیا تھا تو کم ازکم وہ لوگ جو خود کو مسلمان کہتے اور سمجھتے ہیں، وہ اس مشترکہ احترام ِایمان ہی پر قائم رہتے۔ افسوس ایسا بھی نہیں ہوا، یہاں بھی مختلف مسلکوں اور تنظیموں میں ہم بٹ کے ایک دوسرے سے یکسر کٹ گئے۔ نقظۂ نظر کا اختلاف ہو جانا اور اس بنیاد پر یا انتظامی بنیاد پر جماعت یا تنظیم بنا لینا غلط نہیں۔ لیکن مصیبت یہ ہوئی کہ ان تنظیموں یا جماعتوں کی محبت آہستہ آہستہ عصبیت میں ڈھل گئی۔ یعنی ہماری محبت اور نفرت کی بنیاد صرف یہی چیز قرار پانے لگی اور ہمارے نزدیک انسان اور مسلمان بھی بس اپنے ہی دائرے یا حلقے کے لوگ رہ گئے۔ اصلی مصیبت یہ بھی نہ تھی، اصلی آفت یہ آئی کہ اس کے بعد ہم نے انسانی اور اسلامی اخلاق کے قابل بھی صرف اپنے ہی حلقے کے لوگوں کو سمجھ لیا اور مخالف کے لیے ہم ہر حد سے گزرنے اور ہر پستی میں گرنے کو بخوبی آمادہ ہو گئے۔ مذہبی سے زیادہ اس کا مظہر سیاسی مخالفت میں دیکھنے کو ملا۔ طریقہ ٔ کار کے مختلف ہونے یا کمی بیشی کے گراف میں کچھ فرق کے سوا کوئی سیاسی جماعت خود کو اس آلودگی سے بچا نہیں پائی۔ سوشل میڈیا کی بدولت تو یہ غلاظت اس قدر عام ہو گئی ہے کہ بہت سے شریف لوگ اب سوشل میڈیا سے بھاگنے کی باتیں کرتے نظر آتے ہیں۔ زیادہ دکھ کی بات یہ کہ اولاً یا انتقاماً اس میں کئی مذہبی لوگ بھی شریک ہو گئے، جن کے متعلق لوگ سمجھتے یہ ہیں کہ ان کا طرزِ عمل مذہب کی روشنی میں طے پاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دشنام طرازی، گالی گلوچ عام ہوا اور ذاتی زندگی کو ہدف بنانے کے مقابلے ہونے لگے اور اسے روکنے یا غلط کہنے والے چپ سادھتے چلے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:   فاطمہ سہیل کی بہادری اور کولگیٹ کا اعتماد - افشاں نوید

اب ہمارے نوجوان عام کہتے پائے جاتے ہیں کہ اپنے لیڈر کے بارے ہر بات جاننا، ڈسکس کرنا، اس پر حسبِ خواہش تبصرے اور تجزیے کرنا ہمارا حق ہے۔ صرف مذہبی لوگوں سے میرا سوال ہے کہ کسی کی نجی زندگی میں جھانکنے کا یہ حق آپ کو کس نے دیا؟ کیا آپ دین اور دنیا اور سیاست اور مذہب کو الگ الگ سمجھنے کے داعی ہیں؟ اگر نہیں تو پھر اس کا استثنا آپ کو رسول ِ رحمتؐ نے کب دیا؟ یہ بہت غلط تصور ہے۔ اسلامی اخلاق کی چند موٹی موٹی باتیں ہی اس سوچ کو غلط ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔ پہلی بات، اسلام کہتا ہے کہ دوسروں کے بارے میں اچھا گمان کرو۔ کسی کے بارے منفی مت سوچو۔ دوسروں کی جاسوسی نہ کرتے پھرو، بعض علما نے یہاں تک کہا کہ اگر کسی کو مبہم طرز کا کچھ غلط کہتے کرتے دیکھ سن بھی لو تو اس کی عزت بچانے کی خاطر کوئی تاویل کر لو۔ یہ تو ہوا کہ گناہ کرتے دیکھ لیا۔ سوچیے ہمارے وہ دوست کس اسلام پر عمل پیرا ہیں جو دوسروں کی عزت پر خود سے جھوٹ گھڑتے اور بہتان باندھتے ہیں؟

اسلام کہتا ہے کہ اگر کسی کے متعلق کچھ غلط دیکھ بھی لیا ہے تو اچھی بات یہ ہے کہ اس کے عیب پر پردہ ڈالو، اس عمل کے بدلے اللہ قیامت کو تمھارے عیبوں پر پردہ ڈالے گا۔ اگر یہ نہیں کرنا تو اس کی تو قطعی اجازت نہیں کہ پورے معاشرے میں اسے رسوا کرتے پھرو، بتانا ہے، تو ان لوگوں کے پاس جاؤ، جو اس معاملے پر ایکشن لے سکتے ہوں، مثلاً عدالت یا دوسرے مجاز حکام۔ اس بات کی تو قطعی اجازت ہی نہیں کہ آپ اس بات کو یہاں وہاں بیان کرتے، لکھتے یا شیئر کرتے پھریں۔ بالخصوص ایسی بات تو اور نازک ہے جس میں کسی کی بیٹی بہن کی ناموس کا معاملہ ہو، سورہ ٔ نور کی آیت میں اشاعتِ فحاشی کی ممانعت اور سزا صاف مذکور ہے، اگلی بات یہ کہ بلا تحقیق بات کرنا بھی اسلامی سماجی اور صحافتی اخلاق سے باہر ہے، سرکار مدینہ ؐ کا فرمان ہے، آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے کہتا پھرے، اب یہ جو ہم لکھتے ہیں مبینہ طور پر، اور سمجھتے ہیں کہ صحافت کا حق ادا ہو گیا، سرکارؐ کا فرمان ہے، آدمی کی بدترین سواری یہ ہے کہ وہ کہتا پھرے لوگ یوں یوں کہتے ہیں۔ اسلام تو قطعاً یہ اجازت بھی نہیں دیتا کہ آپ لوگوں کے اندر، ان کے گھروں کے اندر یا ان کی نیتوں کے اندر جھانکتے پھریں اور ان پر فتوے جڑتے پھریں۔ پھر کسی بات کی وضاحت کرنے اور اسے قبول کرنے کا بھی اسلام کہنے والے کو موقع دیتا ہے۔ یہ سب عرض کرنے کا مقصد بس یہ ہے کہ ایسا سب کچھ اگر ہم کر ہی رہے ہوں تو یہ ضرور ہمیں معلوم رہے کہ یہ سب ہماری غلطی ہے، اسلام پر عمل نہیں۔

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.