قصور میں بچی پر قیامت، قصور کس کا؟ حافظ یوسف سراج

قصور میں پھول سی ننھی پری پر قیامت بیت جانے کا یہ پہلا دردناک واقعہ نہیں، اس سے پہلے قومی سطح پر ہمارے سر جھکا دینے والا معصوم بچوں کے ساتھ گھناؤنے عمل کی ویڈیوز بنانے والا شرمناک واقعہ بھی یہیں کہیں سے سامنے آیا تھا۔ بہت شور اٹھا تھا۔ اس سے کہیں زیادہ۔ مجرم مگر بااثر تھے، ہاتھ لگتے ذرا پتہ کر لیجیے گا، انھیں کس عبرتناک انجام سے دوچار کیا گیا؟ اگر ان مجرموں کو عبرت کا نشاں بنا دیا گیا ہوتا تو شاید آج ہماری یہ بچی کوڑے پر عصمت دریدہ ہو کر مردہ پڑی ہونے کے بجائے اپنے صحن میں مسکرا رہی ہوتی۔ ایسا نہ ہوا، چنانچہ نازک بدن کو اذیتوں کے کئی پل صراطوں سے گزار کر مار دینے کا یہ واقعہ پھر اسی ضلع قصور میں سامنے آیا۔

چند باتیں بڑی واضح ہیں۔
1- قانون عملا اشرافیہ کی رکھیل ہو چکا اور عام آدمی کے لیے اس کے پاس سوائے سفاکی، دھکوں اور نفرت کے کچھ نہیں۔

2- ہمارے حکمران کوئی بھی ہوں، ان کی پہلی ترجیح عوام کا مفاد اور قانون کا نفاذ نہیں ، حکمرانی کی کاٹھی ڈال کر عوام اور قانون پر شاہی سواری کرنا ہے۔

3_ انٹرنیٹ اور میڈیا کے چنگل میں پھنسے ہمارے بچوں اور بڑوں کے لیے استاد ، اسکول ، نصاب، والدین اور معاشرے کے پاس اتنا وقت اور ایسا کوئی پروگرام نہیں کہ وہ اپنی آئندہ نسل کی روحانی اور اخلاقی تربیت کر سکیں۔ وہ ان کے لیے مادی آسائشات کمانے نکلتے ہیں تو پھر صرف دردناک سانحات پر رونے کے لیے ہی پلٹتے ہیں۔

4- کوئی بھی سانحہ ہو جانے پر ہم میڈیا اور سوشل میڈیا کو دیوارِ گریہ بنا کے ماتم تو بہت کرتے کراتے ہیں۔ لیکن اس سے سبق سیکھ کر آئندہ کے لیے کوئی ایسا لائحہ عمل مرتب نہیں کرتے کہ جس سے دوبارہ ایسے سانحات دیکھنے نہ پڑیں۔ ہم کسی سانحے کی وجوہات تک کھوجنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہم ماننے کو تیار نہیں کہ محض ماتم سے غم غلط ضرور ہو جاتا ہے، حالات و حادثات پر مگر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

یہ بھی پڑھیں:   بصیرت سے بصارت تک - ثناء آغا

یاد رکھیے!
اگر آپ کو اپنا گھر ، اپنے بچے، اپنے عزیز اور اپنا معاشرہ پیارا ہے تو حکمرانوں سے جو پہلی چیز ہمیں مانگنی ہے، وہ ہے عوامی مفاد اور بلا امتیاز قانون پر عملداری، اور خود ہمارا اپنے آپ سے اخلاص۔

ٹیگز

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.