سانحۂ قصور: قسامت کا اصول نافذ کیجیے - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

سانحۂ قصور پر ہر آنکھ اشک بار ہے۔ کئی دوست سخت ترین سزائیں نافذ کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پوری حکومتی مشینری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ مجرم/مجرموں کا تعین کر کے ان کا جرم عدالت میں ثابت کرے اور پھر اسے/انھیں قرار واقعی سزا دی جائے۔

تاہم کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ مجرموں کے خلاف ثبوت نہیں ملتا، یا نہیں ڈھونڈا جاتا، یا نہیں پیش کیا جاتا، یا نہیں قبول کیا جاتا۔ پھر ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟ عدمِ ثبوت کی بنا پر مجرم یا مجرموں کا بچ جانا قابلِ فہم ہے، شک کا فائدہ ملزم کو دینا بھی انصاف کا لازمی تقاضا ہے، لیکن کیا مظلوم کا خون رائیگاں جائے گا؟

اسلامی قانون نے اجتماعی ذمہ داری کا جو نظام دیا ہے، اس کے اہم اجزا میں دیت اور قسامت کے تصورات بھی ہیں، جن کو پوری طرح نافذ کیا جائے تو یقیناً ایسے گھناؤنے جرائم کی راہ روکی جاسکتی ہے۔

دیت کے متعلق یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اسلامی قانون کی رو سے قتلِ عمد یا طرفین کے درمیان صلح کے نتیجے میں طے پانے والی دیت کا ادا کرنا قاتل کی ذمہ داری ہے، لیکن قتلِ خطا اور قتل کی دیگر اقسام میں دیت کا ادا کرنا قاتل کے اعوان و انصار کی، جنھیں اصطلاحاً "عاقلہ" کہا جاتا ہے، ذمہ داری ہوتی ہے۔ امام سرخسی یہ وضاحت کرتے ہوئے کہ عاقلہ کی یہ ذمہ داری انفرادی ذمہ داری کے عام اصول کے خلاف نہیں ہے، فرماتے ہیں کہ اس طرح کے واقعات میں فعل کا ارتکاب کرنے والے سے جو کوتاہی یا لاپرواہی سرزد ہوتی ہے، اس کے پیچھے یہ خیال ہی کارفرما ہوتا ہے کہ میرے اعوان و انصار مجھے بچانے کےلیے موجود ہیں، اور ان کے ہوتے کوئی مجھے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ ہر شخص کو اپنے خاندان اور متعلقین میں وہ بےوقوف اور غیر محتاط لوگ معلوم ہوتے ہیں جو غفلت یا لاپرواہی کی وجہ سے دوسروں کو نقصان پہنچاسکتے ہیں، اور اگر اس کے باوجود ایسے شخص کو وہ نہیں روکتا تو گویا وہ اسے اس غلط کام کی اجازت دیتا ہے۔ وہ مزید واضح کرتے ہیں کہ اعوان و انصار پر ایسے شخص کے فعل کے نتائج کی اجتماعی ذمہ داری ڈالی جائے تو وہ اسے حماقتوں سے روکتے ہیں، جس کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ معاشرے میں جرائم میں کمی آتی ہے بلکہ ایک دوسرے کی مدد اور انسانی ہمدردی کے جذبے کو بھی تقویت ملتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   زینب کے مجرم - حافظ یوسف سراج

قسامت کا تصور انھی دو اصولوں پر مبنی ہے: ایک یہ کہ انسانی خون رائیگاں نہیں جائے، اور دوسرا جرائم کی روک تھام کےلیے اجتماعی ذمہ داری۔ چنانچہ شرعی نصوص کی بنیاد پر فقہاے کرام نے طے کیا ہے کہ اگر کسی علاقے میں لاش ملے اور قرائن سے معلوم ہوتا ہو کہ اسے قتل کیا گیا ہے، تو اس علاقے پر جن لوگوں کا تسلط ہو، ان سے قسمیں لی جائیں گی کہ نہ انھوں نے یہ قتل کیا ہے اور نہ ہی انھیں اس قتل کے متعلق کچھ معلوم ہے۔ قسمیں اٹھاچکنے کے بعد ان کی ذمہ داری ختم نہیں ہوجائے گی، بلکہ ان پر لازم ہوگا کہ وہ اس مقتول کی دیت ادا کریں۔

واضح رہے کہ مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان میں دیت کا تصور تو ہے، لیکن عاقلہ کے بغیر، اور قسامت کا تصور سرے سے مفقود ہے۔
کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ہم اسلامی قانون کے ان تصورات کو اپنے معاشرے میں نافذ کرنے کی کوشش کریں؟

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.