پنجاب کا نوحہ - احسن سرفراز

صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں بچوں سے منظم زیادتی کا ویڈیو سکینڈل سامنے آیا لیکن ملزمان کو کیفرکردار تک نہ پہنچایا گیا جس کا نتیجہ اب معصوم و مظلوم زینب کے ساتھ زیادتی کے بعد اندوہناک قتل کی صورت میں سامنے ہے۔ فیصل آباد میں مبینہ طور پر مریضہ سے گینگ ریپ کا واقعہ رپورٹ ہوا، کمسن گھریلو ملازماؤں سے بدسلوکی کے واقعات تواتر سے سامنے آتے رہے۔ ہسپتالوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے، بیڈ نہ ہونے کی وجہ سے خواتین ہسپتال کی پارکنگ اور رکشوں میں بچے جننے پر مجبور ہوئیں۔ سرکاری سکولز میں صرف وہی اپنے بچے داخل کرواتا ہے جس کے پاس پرائیویٹ سکولز میں بچے پڑھانے کی حیثیت نہیں۔ پولیس کلچر کی یہ حالت ہے کہ شریف آدمی اپنی داد رسی کے لیے بھی تھانوں کی حدود میں داخل ہونے سے ڈرتا ہے اور بااثر افراد کا آسرا تلاش کرتا پھرتا ہے۔ ڈاکے، چوریاں، فراڈ، قتل، اغوا برائے تاوان اور سٹریٹ کرائمز کی وارداتیں بھی عام ہیں۔

پنجاب کے بعض علاقے علاقہ غیر کا منظر پیش کرتے ہیں جہاں بااثر حکومتی سیاسی شخصیات باقاعدہ رسہ گیروں اور جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کرتی ہیں۔ صوبہ بھر میں گورننس کا یہ حال ہے کہ فرد واحد خود کو خادم اعلیٰ کہتے ہوئے دراصل بادشاہ کی حیثیت رکھتا ہے، اس کی انگلی کی جنبش ہی محض گورننس کا استعارہ ہے۔ آپ پنجاب میں بڑی بڑی مونچھوں والے وزیر قانون کے علاوہ شاید ہی کسی اور وزیر کا نام جانتے ہوں گے۔ پورے صوبے میں لگتا ہے کہ ایک نام نہاد خادم اعلیٰ اور وزیر قانون ہی حکمران نظر آتے ہیں۔ پورے صوبے کا بجٹ ایک شہر پر لٹانے کو ہی گورننس کی معراج سمجھا جاتا ہے۔ فوٹو سیشن اور اشتہار بازی سے چند عوامی فلاح کے منصوبوں کے سرخی غازے کے پیچھے گورننس کی تمام خامیوں کو چھپایا جاتا ہے۔ صوبہ بھر میں حکمران جماعت بلدیاتی کلین سویپ کرنے کے باوجود بلدیاتی منتخب نمائندگان ہر قسم کے اختیارات سے محروم ہیں۔

ریسکیو 1122 جیسے انقلابی منصوبے کا حال یہ کر دیا گیا کہ اب اس محکمے کی طرف سے رمضان میں زکوٰۃ و صدقات کے اخبارات میں اشتہار تک چھپوائے گئے۔ سستی روٹی، ڈولفن فورس اور پولیس کی وردیاں بدلنے کے نام پر سرکاری خزانے کو بے دریغ ضائع کیا گیا۔ اپنے ایک سیاسی مخالف کی بیرون ملک آمد کا خوف ان حکمرانوں پر ایسا چھایا کہ اسکے پرامن حامیوں پر اس کی رہائش گاہ کے باہر سرکاری اجازت سے بنائی گئی روکاوٹوں کو ہٹانے کے نام پر سیدھی گولیاں برسا دی گئیں۔ دن دہاڑے چودہ جیتے جاگتے انسانوں کو حاملہ خواتین سمیت خاک و خون میں تڑپا دیا گیا اور ستر ستر سال کے بزرگوں کو سڑکوں پر گھسیٹ کر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ شام کو نام نہاد خادم اعلیٰ نے دن بھر چلنے والے ظلم سے اظہار لاتعلقی کر ڈالا اور بعد ازاں اس واقعے پر ہائیکورٹ کے جج کی انکوائری رپورٹ کو منظر عام پر آنے سے اب تک روکا جا رہا ہے۔ وزیر قانون سرعام ٹی وی پر قادیانیوں اور عام مسلمانوں میں معمولی فرق کے فتوے دیتا رہا اور کہتا رہا کہ یہ فرق بھی محض چند مولویوں کا ڈالا ہوا ہے۔ اس مکروہ کردار کے باوجود تمام تر قتل و غارتگری اور بیہودہ بیانات دینے والی اس وزیر کو ہٹانے کے بجائے وزیر اعلیٰ نے سینے سے چمٹا رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اسموگ سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر

اب یہی خادم اعلیٰ اپنے تاحیات نااہل بھائی کے بجائے وزارت عظمیٰ کا امیدوار بھی ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوش قسمتی یہ ہے کہ مقابلے میں سب سے بڑی سیاسی جماعت بھی بدترین لوٹوں اور چوروں کا گروہ ہے اور اس کا لیڈر بھی ایک فکری و اخلاقی طور پر بانجھ غیرسنجیدہ شخص ہے جسے جائز کام بھی ڈھنگ سے کرنے نہیں آتے۔ جو اہل قوتیں میدان میں موجود بھی ہیں تو انھیں طاقتور پیشہ ور الیکٹیبلز کا ساتھ حاصل نہ ہونے کی وجہ سے عوام ووٹ دینے کے قابل نہیں سمجھتے۔

میں پنجاب کا رہائشی ہونے کی بدولت پوری ایمانداری سے سمجھتا ہوں کہ پرویز الہٰی کا دور اس صوبے کا گورننس کے اعتبار سے سب سے سنہری دور تھا۔ اس دور میں حقیقتاً وزیراعلیٰ، بیوروکریسی اور صوبائی کابینہ میں ٹیم ورک سامنے آیا۔ طاقتور اور مؤثر بلدیاتی نظام کی بدولت گلی محلے کی سطح پر زبردست ترقیاتی کام ہوئے۔ ریسکیو1122، پولیس وارڈنز، ہائی وے پر جگہ جگہ پولیس چیک پوسٹس کے ذریعے ڈاکوؤں کی وارداتوں پر کنٹرول، بچیوں کے لیے تعلیمی وظائف، مفت تعلیم، مفت کتابوں اور ہسپتالوں میں مفت ایمرجنسی سہولیات کی فراہمی جیسے انقلابی اقدامات اٹھائے گئے۔ صوبہ بھر میں پہلی بار سرکاری سکولوں کی حالت زار بہتر بنانے اور انرولمنٹ بڑھانے کے لیے ایسے اقدامات کیے گئے کہ اقوام متحدہ کا تعلیم کے فروغ کے لیے کام کرنے والا ادارہ تک اس کی تعریف کرنے پر مجبور ہوا۔ سڑکیں، انڈر پاسز وغیرہ اس دور میں بھی بھرپور بنے۔ بہرحال کرپشن ہر دور کی طرح اس دور میں بھی بھرپور ہوئی اور اس سے اوپر سے لے کر نیچے تک کے بلدیاتی نمائندے حصہ بقدر جثہ مستفید ہوتے رہے، نیز پرویز مشرف کو دس سال تک وردی میں منتخب کروانے کا نعرہ پرویزالہٰی کو شکست کی صورت بھگتنا پڑا۔

بہرحال پاکستان کا بڑا بھائی کہلوانے والا پنجاب بھی عام آدمی کے لیے کسی بھیانک خواب سے کم نہیں، جہاں بہ نسبت باقی پاکستان کے سڑکوں اور پلوں وغیرہ کی صورت ظاہری چکا چوند تو خوب ہے لیکن عام آدمی صحت، تعلیم، روزگار اور انصاف جیسی بنیادی سہولیات سے کوسوں دور ہے۔ کاش میرے پاکستان کو ایسا حکمران جلد میسر آئے جو عام آدمی کے دکھ درد کو سمجھتا ہو اور اسے حل کرنے کا سچا جذبہ بھی رکھتا ہو، جو کردار، خوف خدا رکھنے اور عوامی امانتوں کی حفاظت کے حوالے سے ایک مثال بن سکے۔ جس کے پاس اسی کی طرح کے اہلیت، قابلیت اور خوف خدا رکھنے والے لوگوں کی ایک ٹیم بھی ہو جوکہ ایک اسلامی و خوشحال پاکستان کے خواب کو عملی جامہ پہنا سکے۔ آمین

Comments

احسن سرفراز

احسن سرفراز

احسن سرفراز لاہور کے رہائشی ہیں. سیاست اور دیگر سماجی موضوعات دلچسپی کا باعث ہیں. ان کے خیال میں وہ سب کی طرح اپنے رب کی بہترین تخلیق ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ رب کی تخلیق کا بھرم قائم رہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.