سرخ گلاب - دعا عظیمی

اس نے سوکھی نہر کنارے اُگے گہرے مونگیا ہوتے گرد آلود پتوں میں اٹکے سرخ گلابوں کو شوق سے دیکھا، گائیڈ نے بیک مرر سے نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی نگاہوں کی حرکت کو نوٹ کیا، گاڑی کی خاموش فضا میں خوشبو کاجھونکا اترا اور نیم گلابی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں کے کناروں پر پھیلتی گئی۔ اس کی تو عادت تھی خوش رہنے کی اور زندگی اسےخوش رہنے کےچھوٹے چھوٹے مواقع بڑی فراخدلی سے فراہم کرنے کو تیار رہتی۔ اس کا دماغ سرخ گلابوں کے حسن سے باہر نکلنے کو تیار ہی نہیں تھا۔ وہ دیر تک کائنات میں پھیلے رنگوں کو دل پر اترتے دیکھتی رہی۔ بے شک آخری بار سرخ گلابوں کی پتیاں اس نے اپنے والد کی قبر پہ ڈالنے کے لیے خریدی تھیں، پر اسےیاد رہتا کہ کیسے ماموں سبحان مامی کے لیے سرخ گلاب تحفے میں لایا کرتے اور کبھی موتیے کے گجرے ایسے میں مامی کے چہرے پہ کیسا گلال اترتا کہ ساراگھر گلابی خوشی میں نہا جاتا اور ممانی جھینپ جاتیں۔ وہ لاہور گھومنا چاہتی تھی، اس لیے اس نے پڑھے لکھے ڈرائیور کا بندوبست کیا تھا جو گائیڈ کے فرائض بھی انجام دیا کرتا تھا۔

نہر سے گاڑی مال کی طرف رواں دواں تھی، اسے وہ مال دیکھنے کا شوق تھا جس پہ سیٹیاں بجاتے ہوئے اوور کوٹ پہنے ایک کردار کہانی سے نکل کر نصاب میں اتر کر ہر یاداشت میں محفوظ ہو گیا تھا، اس کے پاس تین دن تھےجس میں اس نے ورکشاپ اٹینڈ کرنی تھی اور ساتھ ساتھ سیر بھی۔ وہ ہوٹل کے قریب تھے، یکایک اسے محسوس ہوا جیسے خوشی کا احساس تیز سے تیز ہوتا جا رہا تھا، اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ڈوپامین کی ان لہروں میں اچانک بیشی کیوں تھی؟ کیا شہرزندہ دلاں کا اثر تھا؟ عرصے بعد گھر سے نکلنے کی خوشی تھی؟ یا پھر گائیڈ کی نظر کا قصور تھا؟ وہ سب جھٹک دینے کا ہنر جانتی تھی۔ اس نے پل بھر میں اپنے ذہن کو ہر خیال سے جھٹک دیا۔ اس سے پہلے بھی اس نے کراچی سے انسٹیٹیوٹ آف مائنڈ سائنسز کی ورکشاپس اٹینڈ کی تھیں۔ پروفیسر صاحب کی ساری باتیں دل کو لگتی تھیں، کسی حد تک وہ سب ٹھیک کہتے تھے، تھوڑی بہت مشقوں سے اپنے آپ کو بہتری کی طرف تبدیل کیا جا سکتا تھا۔ ذہن کی خوابیدہ طاقتوں پہ پوری دنیا میں ریسرچ ہو رہی تھی، مگر اس کی دنیا تو بہت چھوٹی سی تھی۔ امی ابو اور وہ! اکلوتی لاڈلی، پھولوں اور رنگوں کے سوا اس نے کچھ دیکھا کب تھا؟ والد کی ناگہانی موت نے زندگی کا کڑوا گھونٹ پلایا تھا۔ اس کے بعد بہت دنوں تک اس نے پھولوں کو چھوا، نہ دیکھا، نہ محسوس کیا۔ دکھ کی گہری کھائی سے نکلنے کی کوشش میں ہاتھ پاؤں مارے اور کافی حد تک کامیاب ہوگئی تھی۔ گاڑی پھر سے طے شدہ راستوں پہ رواں تھی۔ مناظر کسی فلم کی طرح متحرک تھے۔ خوشی رنگ بدل بدل کے دل کو محظوظ کر رہی تھی، اس نے گاڑی کا شیشہ اتارا اور ٹھنڈی ہوا کے لمس کو محسوس کیا۔ گلابوں کی خوشبو کدھر سے آرہی تھی؟ اگلی سیٹ پر ایک خوبصورت بکے تھا۔ اچانک اسے یاد آیا خاور کو تو پھول آور خوشبو سے الرجی ہے۔ اس کی نگاہ کا تاثر بھی بہت ہی سپاٹ ہے، کیا میں پھول اور خوشبو کے بغیر آسانی سے زندہ رہ لوں گی؟ یہ سچ تھا کہ وہ اتنی خوبصورتی سے پھولوں کو کینوس پہ اتارتی کہ اصلی کا گمان ہونے لگتا، بس اتنی سی کسر ہوتی کہ ان سےخوشبو نہیں پھوٹتی تھی۔

مائنڈ سائنسز سے اتنا ہی تو سیکھنا تھا کہ ذہن اس نقلی پھول سےخوشبو سونگھنے کا ہنر سیکھ لے۔ اب اتنی سی بات پہ رشتہ تو نہیں توڑا جا سکتا تھا ناں کہ لڑکے کو پولن سے الرجی ہے۔ گاڑی جیل روڈ پہ ریس کورس کےقریب سے گزری۔ پھولوں کی نمائش لگی ہے، کیا آپ دیکھنا چاہیں گی؟ مؤدبانہ آواز گونجی۔ نہیں مجھے پھولوں سے الرجی ہے، گاڑی تیز چلائیں، ورکشاپ کے بعد سیدھا بہاولپور، مجھے اور کچھ نہیں دیکھنا، اس نے حکمیہ انداز میں کہا، اور آنکھیں موندے پھولوں کی نمائش دیکھنے لگی۔ خوشی کی لہروں کا رنگ دیکھتے ہی دیکھتے لال سے گلابی گلابی سے نیم گلابی اور نیم گلابی سے سفید میں بدلتا گیا۔ ایک دم وہ مسکرائی، خیال کے پھول نہ کبھی زرد ہوں گے، نہ مرجھائیں گے کہ ان کے موسموں کا اختیار اس کے ہاتھ میں تھا۔ مائنڈ ٹریننگ ہر حال میں جینے کا انداز سکھاتی تھی، وہ اپنی انگلی میں پہنی نشانی سے کھیلنے لگی، گاڑی منزل کے قریب تھی۔

Comments

دعا عظیمی

دعا عظیمی

دعا عظیمی شاعرہ ہیں، نثرنگار ہیں، سماج کے درد کو کہانی میں پرونے کا فن رکھتی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے سوشل سائسنز میں ماسٹر کیا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.