انسانی شخصیت کی تعمیر - حافظ محمد زبیر

مجھے محسوس ہوتا ہے کہ انسانی شخصیت کی تعمیر تین مراحل میں ہوتی ہے۔ پہلا مرحلہ تو پیدائشی ہے کہ ہم میں سے ہر شخص کچھ خصلتیں (personality traits) پیدائشی طور اپنے ساتھ لے کر آتا ہے، چاہے وہ اچھی ہوں یا بری۔ کوئی پیدائشی طور نرم مزاج ہے اور کوئی پیدائشی طور غصے والا مزاج رکھتا ہے۔ یہ پیدائشی خصلتیں انسان کو عموماً وراثت میں ملتی ہیں جو جینز (genes) کے ذریعے آباء واجداد سے ٹرانسفر ہوتی چلی آ رہی ہوتی ہیں۔ اپنی شخصیت کی اس تعمیر میں میرا کوئی حصہ نہیں ہے البتہ اس کی اصلاح میں میں کچھ کردار ضرور ادا کر سکتا ہوں۔

دوسرا مرحلہ پیدائش سے بلوغت یا شعور کی عمر تک کا ہے۔ اس مرحلے میں انسان بہت کچھ بنتا اور بگڑتا ہے اور اس کے بننے اور بگڑنے میں ایک اہم کردار اس کے ماحول کا ہوتا ہے۔ پس ایک شخصیت تو وہ ہے جو انسان لے کر آیا ہے اور دوسری وہ ہے جو اس کے ماحول نے بنائی ہے۔ اس کے والدین، اس کے بہن بھائی، اس کے محلے دار، پڑوسی اور رشتہ دار اس کی شخصیت کی تعمیر کر رہے ہوتے ہیں۔ میری یہ شخصیت بھی میں نے نہیں بنائی، ماحول کے اثر سے یا اس کے ردعمل میں بنی ہے۔

مثال کے طور پر ایک انسان بچپن میں کتوں سے ڈر گیا تو اب کتوں کا ڈر وہ زندگی بھر اپنے ساتھ لیے پھرے گا کہ یہ اس کے لاشعور میں بیٹھ گیا ہے۔ یہ ڈر اور خوف وہ پیدائشی طور اپنے ساتھ نہیں لے کر آیا ہے۔ اسی طرح ایک بچی اپنے بچپن میں اپنے والد کا اپنی والدہ کے ساتھ برا رویہ دیکھ کر مرد بیزار ہو گئی تو یہ مرد بیزاری شادی کے بعد بھی اس کی شخصیت کا کسی نہ کسی درجے میں حصہ رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   شخصیت سازی زندگی کے آئینے میں - مدیحۃالرحمن

انسان کی شخصیت کی تعمیر کا تیسرا مرحلہ اس کی شعور کی عمر کے بعد شروع ہوتا ہے۔ انسان شعور کی عمر کے بعد بھی بہت کچھ بنتا اور بگڑتا ہے، اس کی سادہ سی مثال وہ گناہ گار شخص ہے جو سچی توبہ کرنے کے بعد نیک بن جاتا ہے جیسا کہ کسی ڈاکو نے توبہ کر لی اور تسبیح ہاتھ میں پکڑ لی۔ انسانی کی شخصیت کی تعمیر چونکہ اس کے شعور کے سامنے ہو رہی ہوتی ہے لہٰذا اسے اپنی اس شخصیت کا بخوبی علم ہوتا ہے، جب اس شخصیت کا علم ہے تو اس کی اصلاح بھی کر سکتا ہے۔

جہاں تک پیدائشی شخصیت کا معاملہ ہے تو انسان کو عموماً اس کا بھی شعور ہوتا ہے لیکن انسان اس کے سامنے عام طور پر یہ کہہ کر ہتھیار ڈال دیتا ہے کہ میں پیدائشی طور ایسا ہوں، اپنی اصلاح نہیں کر سکتا۔ لیکن پیدائشی خصلتوں کا ازالہ (elimination) نہ سہی تو امالہ (tilt) ضرور ممکن ہے۔ البتہ جو بچپن سے شعور کے عمر کی شخصیت ہے جو عموماً ماحول کے اثر کے تحت تیار ہوتی ہے، وہ انسان کے لاشعور کا حصہ ہوتی ہے لہٰذا اس کو جانچنے کے لیے فرائیڈ کی سائیکو اینالسس کی تھیوری سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ عام طور پر جب آپ کو اپنا آپ سمجھ نہیں آ رہا ہوتا تو وہ آپ کی شخصیت کا یہ مرحلہ ہوتا ہے جو خود آپ کے سامنے بھی نہیں ہے یعنی آپ کے لاشعور میں ہوتا ہے۔

شخصیت کی پہلے مرحلے کے بارے حدیث میں آتا ہے کہ آدم علیہ السلام کی مٹی زمین کے مختلف حصوں سے لی گئی تو کسی جگہ سے زمین سخت تھی اور کہیں سے نرم تو یہ سختی اور نرمی آدم کی اولاد میں بھی آ گئی اور شخصیت کے دوسرے مرحلے کے بارے حدیث میں ہے کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے والدین اسے یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ شخصیت کے تیسرے مرحلے کے بارے حدیث میں ہے کہ گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے کہ جیسے کبھی گناہ کیا ہی نہ ہو۔

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.