وہ ہماری بے حسی عیاں کرگئی! - جمال عبداللہ عثمان

میری بھتیجی ملائکہ غالباً پانچ یا چھ سال کی تھی۔ شام کا وقت تھا، لاڈ سے اسے گود میں اُٹھایا۔ نجانے کیا شیطانی شرارت سوجھی۔ سامنے پانی کا خالی کولر پڑا تھا، ملائکہ کا سر کولر کے اندر ڈال دیا۔ وہ گھبراہٹ سے چیخ پڑی، یہ حالت دیکھ کر میرے ہاتھ کانپ گئے۔ معلوم ہوا کہ بچی کا سر کولر کے اندر پھنس کر رہ گیا ہے۔ بڑے بھائی نے دیکھا تو بھاگے بھاگے آئے۔ بچی کا سر تو بخیروخوبی کولر سے نکل آیا۔ چھ سال سے زائد گزرچکے ہیں، وہ چند لمحے مگر یاد کرتا ہوں تو آج بھی جسم کے اندر خوف کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے۔

ایک دن تین سالہ رملہ میرے ساتھ کھیل رہی تھی۔ میں نے مضبوط تلوے کا جوتا پہن رکھا تھا۔ کھیلتے کھیلتے میرا پاؤں اس کی نازک اُنگلیوں پر پڑگیا۔ وہ چیخی تو روح کو گھائل کرگئی۔ آج بھی رملہ کی وہ چیخ کانوں میں سنائی دیتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ زندگی کی آخری سانس تک کان اس چیخ کو نہیں بھول پائیں گے۔

گھر والے اجازت نہیں دے رہے تھے۔ لیکن کراچی میں موٹر سائیکل کے بغیر زندگی ادھوری ہوتی ہے۔ بڑی مشکل سے رضامندی حاصل کی اور پہلے دن بائک پر بیٹھا تو یہی دُعا کی: خدایا! وہ دن کبھی نہ دکھانا کہ میرے ہاتھوں کسی کھیلتے یا شرارت کرتے معصوم بچے کو نقصان پہنچے۔ بڑے بھائی نے گاڑی خرید کر دی تب گاڑی میں بیٹھتے ہی دِل سے پہلی دُعا یہ نکلی: الٰہی! تیرا کمزور بندہ ہوں۔ آزمائش کا وقت متعین نہیں، لیکن تیری بارگاہ میں التجا ہے کہ وہ وقت کبھی نہ آئے جب ڈرائیونگ کے دوران غلطی سے بھی کسی معصوم بچے کی معمولی خراش کا سبب بنوں!

میڈیا کے ساتھ وابستگی اختیار کیے 17 سال ہونے کو ہیں۔ دل پتھر سا ہوگیا ہے۔ موت، قتل، دھماکوں میں بس اعدادوشمار کی حد تک ہی دلچسپی رہ گئی ہے۔ لیکن سات سالہ معصوم زینب کی موت نے طویل عرصے بعد آنکھیں نم کردی ہیں۔ معصوم زینب کی سی سی ٹی وی فوٹیجز دیکھیں تو کلیجہ منہ کو آگیا۔ نجانے اسے کس ”چیز“ کا لالچ دے کر بہلایا گیا ہوگا۔ کیسی خوشی خوشی مقتل کی جانب جارہی ہے! رملہ یاد آگئی ”چیز“ کے بہانے وہ کیسے اپنی ہر ناراضی بھول جاتی ہے۔

معصوم زینب! کہنے کو بہت کچھ ہے، لکھنے کو مگر کچھ نہیں!!! تم جاتے جاتے کس طرح اس معاشرے کی سنگ دلی اور بے حسی کو عیاں کرگئی!

Comments

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان نے صحافتی زندگی کا آغاز کراچی سے کیا۔ مختلف روزناموں کے ساتھ وابستہ رہے۔ چار کتابوں کے مصنف ہیں۔ آج کل ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ بطورِ پروگرام پروڈیوسر وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.