عقیدہ ہی انسان کی اصل ہے - عاطف الیاس

کیا آپ اس شخص کا مذہب بتا سکتے ہیں ؟

ہوسکتا ہے کہ آپ اسے ایک مسلمان، سکھ یا یہودی سمجھیں۔ لیکن آپ کے یہ سب اندازے غلط ہیں۔ یہ ڈینیل کلیمن ڈینیٹ ہے۔ یہ ایک فلاسفر اور ادیب ہے۔ عقیدے کے لحاظ سے ملحد (Atheist) یعنی خدا کا منکر ہے۔

اسے الحادی فلسفے کے چار بڑوں فلاسفروں میں شمار کیا جاتا ہے یعنی "فور ہارس مین آف دا ایتھی ازم" میں سے ایک یہ بھی ہے۔

میری ذاتی رائے میں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی انسان کا ظاہر صرف اس کی وجودی پہچان کا ذریعہ ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اگرچہ مذاہب کی مخصوص شناختی علامات بھی ہیں لیکن وہ بھی صرف روایتی مذاہب یا عقائد کی حد تک ہیں۔

تو پھر انسان کی اصل پہچان کیا ہے؟ بلکہ اس میں اضافہ کرلیجیے کہ انسان کی اصل کیا ہے؟

تو جواب ہے : عقیدہ!

عقیدہ ہی انسان کی اصل پہچان ہے، اصل شخصیت ہے۔ یہ وہ بنیادی فکر ہے جو یہ سوالات اُٹھاتی ہے کہ کائنات کس نے پیدا کی؟ کیوں پیدا کی؟ ہم کون ہیں؟ یہاں کیوں ہیں ؟ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ زندگی کیسے گزارنی ہے؟ مرنے کے بعد کیا ہوگا ؟ کائنات کا انجام کیا ہے ؟ وغیرہ وغیرہ

ان سوالوں کے جواب ہی وہ بنیادی فکر یعنی عقیدہ ہے جو انسان کی اصل ہے اور اس کی پہچان ہے اور یہی بنیادی فکر دو ایک ہی جیسے رنگ، نسل اور زبان بولنے والے انسانوں کے درمیان فرق پیدا کرتی ہے۔

ایک انسان عقیدے کے لحاظ سے مسلمان، یہودی، سکھ، عیسائی، ہندو، بدھ، جین، سیکولر اور ملحد ہوسکتا ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ ایک انسان کسی عقیدے کے بغیر ہو۔

مثلاً جو شخص یہ کہے کہ میں ہرمذہب کا احترام کرتا ہوں لیکن زندگی اپنی مرضی اور آزادی سے گزارتا ہوں تو وہ بھی سیکولر عقیدے کا حامل ایک لبرل شخص ہے۔

روایتی مذاہب کا انکار کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ عقیدے کی ڈور سے کٹا ہوا ہے۔ وہ شخص بھی ایک عدد عقیدے کا مالک ہے۔ اور اگر وہ یہ کہتا ہے کہ میں کسی عقیدے پر یقین نہیں رکھتا تو یہ بیان صریحاََ غلط ہے اور دھوکے پر مبنی ہے۔

سو ظاہر سے دھوکہ مت کھائیے! عقیدے کی پرکھ کیجیے!

کہ عقیدہ ہی انسان کی اصل ہے!

ٹیگز

Comments

عاطف الیاس

عاطف الیاس

عاطف الیاس ایک نجی کالج میں پڑھاتے ہیں. لکھنے پڑھنے، پھرنے پھرانے اور ٹریکنگ کے شوقین ہیں. عالم، فاضل یا دانشور جیسے الفاظ انھیں زیب نہیں دیتے اس لیے محض اپنی طالب علمانہ رائے کا اظہار کرتے ہیں، لیکن بالیقین نظریاتی طور پر عالم اسلام اور تمام انسانیت کے مسائل کا حل اسلام کے عملی نفاز میں دیکھتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.