لکھنے کے لیے پڑھنا کیوں ضروری ہے؟ - حمنہ عمر

علم اور کتاب کا تعلق آفاقی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی تعلیم وتربیت کے لیے انبیاء کو مبعوث کیا تو ان کے ہاتھ اپنی مخلوق کے لیے جو خوبصورت ترین تحفہ بھیجا وہ آسمانی کتب اور صحائف تھے ۔

مطالعہ کتب انسان کی ذہن کو بالیدگی اور تازگی فراہم کرتا ہے، اسے شعور حیات کی نت نئی منازل سے آشنا کرتا ہے اور اس کے لیے علم و آگہی کے دروازے کھول دیتا ہے۔ یوں علم کی پیاس بڑھتی ہے اور طالب علم سیرابی کی ہم رنگ لذتوں سے آشنا ہوتا چلا جاتا ہے۔

ایک لکھاری کے لیے تو ذوق مطالعہ سفر کا پہلا زینہ ہے۔ جس طرح ایک دریا بہت سے جھرنوں کا پانی اپنے دامن میں سمو کر اپنا سفر شروع کرتا ہے اور پھر وہ جوں جوں بہتا چلا جاتا ہے، بڑے بڑے ندی نالے اس کے دامن کو وسیع کرتے چلے جاتے ہیں اور بالآ خر اسی دریا کے دامن سے کئی چھوٹی بڑی نہریں نکلتی ہیں جو بنجر زمینوں کو سیراب کرتی چلی جاتی ہیں بعینہ ایک لکھاری اپنے ذوق مطالعہ کی بدولت مختلف افکار و نظریات، علوم و فنون اور تاریخی حقائق کو اپنے دامن میں سمو کر وسعت نظر حاصل کرتا ہے اور پھر اس کے نوک قلم سے پھوٹنے والے علم و حکمت کے چشمے معاشرے کی بنجر زمینوں کو سیراب کرتے چلے جاتے ہیں، اور پھر انہی معاشروں میں شعور کی ہریالی ہر سو لہلہاتی نظر آتی ہے۔

مطالعہ کتب کے نتیجے میں آپ کے اندر مختلف النوع افکار و خیالات کو جانچنے پرکھنے اور ان کا تقابل اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ آپ لکھنے کے نت نئے اسالیب، خوبصورت اصطلاحات و تراکیب اور تحریر کے حسن وقبح کے معیاری تصورات سے آگاہ ہوتے ہیں اور یوں آپ کی تحریر میں چاشنی اور اسلوب میں جان پیدا ہوتی ہے جو قاری کو پڑھنے پر عاغب اور اسے غور فکر پر آمادہ کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کتابوں کی صحبت میں - محمد عامر خاکوانی

مطالعہ کتب کے ساتھ ساتھ کسی بھی نوآموز لکھاری کے لیے ضروری ہے کہ وہ علم و ادب کے کسی ماہر کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرے۔ جو اسے فن کی باریکیوں اور تحریر کی نزاکتوں سے آگاہ کرے۔ جو اس کے فن کو نکھار اور قلم کو معیار کی بلندیوں تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ جو قلم کی حرمت اس کے دل میں نقش کرے اور جو علم کی گھاٹیوں اور بلندیوں پر اس کے لیے خضر راہ ثابت ہو۔ جو بقول شاعر اسے احساس دلادے کہ

میرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی

میرا قلم تو عدالت میرے ضمیر کی ہے

اسی لیے جو لکھا تپاک جاں سے لکھا

اسی لیے تو لوچ کمان کا اور زبان تیر کی ہے