پردہ کیا ہی نہ کرو - ام الہدیٰ

آج امتحانات کا پہلا دن تھا... سینٹر پہنچتے ہی مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ آج پھر اپنے پردے کا امتحان ہونے والا ہے۔ طلبہ و طالبات کو ایک ہی ہال میں بٹھایا گیا تھا۔ باہر سے شناخت کروا کر ہال میں داخل ہونے کے بعد ہال کے اندر 3 مختلف خواتین invigilators نے باری باری آکر نقاب اتروا کر شناخت کا مطالبہ کیا۔ ارد گرد نظر دوڑانے پر معلوم ہوا کہ یہ خصوصی توجہ حاصل کرنے والے صرف ہم ہی ہیں لیکن کیونکہ اب تو اس VIP protocol کی عادت ہو چکی ہے۔ آج بالکل بھی غصہ نہیں آیا، ہاں! البتہ جب تیسری بار نقاب اتروانے کا مطالبہ ہوا تو میں نے کہہ دیا کہ آپ سب خواتین ایک بار ہی آکر میرا دیدار فرما لیں، بار بار مجھے پرچہ حل کرتے ہوئے disturb کر رہے ہیں۔ آج نقاب کے لیے تضحیک کا نشانہ نہیں بنایا گیا، البتہ ایک حجابی خاتون نے ایک انتہائی "خوبصورت" مشورہ ضرور دے دیا "تو بچے! آپ نقاب کیا ہی نہ کرو... No problem at all!" بار بار ایسے واقعات سے گزرنے کے پیش نظر آج بغیر ناراض ہوئے یا پریشان ہوئے، اس خاتون کو میں نے یہ تو کہہ دیا کہ "میم! پرابلم ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ کرنے والا تو عرش پر موجود ہے، کیا آپ گارنٹی دیتی ہیں کہ مجھے قیامت کے دن اس کے سامنے یہ کہہ کر چھڑوا لیں گی کہ no problem؟" اور وہ خاموشی سے آگے بڑھ گئی۔

مگر پھر پیپر کے بعد ہال سے باہر آکر ایک طالبہ نے پوچھا کہ "کیوں کرتی ہیں آپ پردہ؟" اس طالبہ نے بھی حجاب کر رکھا تھا۔ میں نے اس کے سوال کے جواب میں سوال کیا کہ "آپ حجاب کیوں اوڑھتی ہیں؟" تو اس کا جواب تھا کہ "پتہ نہیں، بس ایسے ہی۔ میرے پاس کوئی خاص وجہ تو نہیں ہے!" اور پھر یہ مکالمہ وجوہات کے ساتھ کچھ طویل ہوگیا جن میں یہ بات شامل تھی کہ امہات المومنین اور صحابیات نے "یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ" سے جس پردے کو مراد لیا تھا، اس میں چہرے کا پردہ شامل تھا، بس!!

یہ بھی پڑھیں:   حجاب.....عورت کا آہنی حصار.!! ثمینہ اقبال

آج کے دن نے مجھے ایک بات سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ پچھلے برس کا واقعہ بھی ذہن سے گزرا تو کڑیاں کچھ اس طرح سے ملتی ہیں کہ میرے احتجاج کے خلاف بولنے والوں کا موقف یہی تھا کہ پاکستان میں 90 فیصد خواتین کسی نہ کسی شکل میں حجاب اوڑھتی ہیں۔ ان مخالفین کا اعتراض بالکل بجا ہے، بے شک ایسا ہی ہے، مگر کوئی سروے اس پر بھی ہو کہ ان 90 فیصد میں سے کتنے فیصد ایسی ہیں جو اس روایت کو حکم ربّی سمجھ کر اپنائے ہوئے ہیں؟ کتنے فیصد جانتی ہیں کہ قرون اولیٰ نے اس حکم کو کیسے سمجھا تھا؟ کتنے فیصد حجابی خواتین کے لیے یہ کہنا بہت آسان ہے کہ "نہیں کرتے حجاب/نقاب...۔ جب موجودہ دور کی یہی requirement ہے، تو پھر No problem!

اللہ ہمیں اپنی روایات کی حقیقت اور اصل صورت کو جان کر اپنانے کی توفیق عطا فرمائے اور پھر علم آنے کے بعد ہمارے دل کو اس عمل پر ثابت قدمی بھی عطا فرمائے۔ آمین!

ٹیگز

Comments

ام الہدی

ام الہدی

ام الہدیٰ ایم فل لنگویسٹکس کی طالبہ ہیں۔ پبلک اسپیکر ہیں۔ لکھنا، اور سوشل میڈیا کے آلٹرنیٹ استعمال کو فروغ دینا مشغلہ ہے۔ سوال اٹھانے سے پہلے مسائل کی وجوہات کو اجاگر کرنا اور ان کے سدِباب کی کوشش کرنا ان کا عزم ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.