فتنہ گوہرشاہی - ثناء اللہ خان احسن

  • بقول گوہر شاہی نماز، روزہ، حج، زکٰوۃ سے بڑھ کر دل کا اللہ اللہ کرنا ہے۔ مذہب کوئی بھی ہو لیکن اگر دل اللہ اللہ کرتا ہے تو جنت اور بخشش یقینی ہے۔
  • مہدیت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والا گوہرشاہی!
  • کلمہ میں محمد رسول اللہ کی جگہ اس ظالم نے گوہر شاہی رسول اللہ لکھوایا!
  • نا محرم عورتوں سے مصافحہ، معانقہ اور جسم دبوانا درست قرار دینے والا!
  • اپنے چلّے میں مستانی سے ملاقات اور اس کے ساتھ شب باشی کی فحش رو ئیداد تحریر کرنے والا!
  • بھنگ اور چرس کو جائز قرار دینے والا!

گوہر شاہی کے تمام مرید گوہر شاہی کے انتقال کو گوہر شاہی کی موت تسلیم نہیں کرتے بلکہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ گوہر شاہی جسم سمیت روپوش ہوگئے، یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح گوہر شاہی بھی اپنا جسم چھوڑ کر غیبت ِ صغری میں چلے گئے ہیں اور قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ گوہر شاہی بھی دوبارہ آئیں گے۔

فتنہ گوہر شاہی کی ابتداء:

سن 80 کی دہائی میں کراچی کے لوگوں نے جگہ جگہ دیواروں پر اور فٹ پاتھوں پر لگے بورڈز پر ایک گول یا تکونی فولادی شیٹ پر انسانی قلب کی تصویر اور اس کے درمیان اسم ذات اللہ جلی حروف میں لکھا ہوا، اور نیچے فقط گوہر شاہی کا نام کندہ دیکھا۔ روحانیت کے متلاشی یا دین سے لگاؤ رکھنے والے افراد اس کی کھوج میں کوٹری، جامشورو پر واقع آستانۂ گوہر شاہی جا پہنچتے۔ جس کی وجہ سے لوگ ان کی جانب متوجہ ہوتے تھے اور ان کے ساتھ جڑے رہتے تھے۔ وہ ہے روحانی علاج معالجہ۔ یعنی جسمانی اور روحانی بیماریوں کا علاج کیا جاتا تھا ان کے تمام مراکز پر۔ جن میں جن اتارنا اور کالے جادو کی کاٹ اور دم درود وغیرہ شامل تھا۔ یہ بالکل ابتدا کی بات ہے چونکہ مقصد نیک دکھائی پڑتا تھا لہٰذا لوگ متوجہ ہوتے تھے اور فیض یاب ہونے والے بڑے بڑے چندے بھی دیتے تھے تنظیم کو، لیکن اس وقت بھی گوہر شاہی خواتین کے حصے میں مسند نشین ہوکر علاج فرماتے تھے۔ ابتدا پکّے اور مضبوط عقیدے والے تو چند بار کے بعد لاحول بھیج کر تائب ہوجاتے لیکن مقام صد حیرت ہے کہ جانے کیسے مسلمان لوگ اس جیسے ملعون پر بھی ایمان لا کر اس کےاندھے پیروکار بن جاتے ہیں۔ نہ صرف معتقد بنتے ہیں بلکہ اس کی موت کے بعد بھی اس کے شیطانی عقائد کا پرچار کرتے ہیں۔

جن لوگوں نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول اور امت مسلمہ کو گمراہ کرنے کے لیے مہدی ہونے کے جھوٹے دعوے کیے، ان کی خاصی تعداد ہے، جن میں سے چند ایک یہ ہیں: ایران کے محمدعلی باب اور بہاء اللہ شیرازی، جنہوں نے بہائی مذہب کی بنیاد ڈالی اور ان کے پیروکار دنیا کے مختلف خطوں میں موجود ہیں، اور امریکہ کے ماسٹر فادر محمد اور عالیجاہ محمد، جن کا مذہب” نیشن آف اسلام “ موجودہ پیشوا لوئیس فرحان کی قیادت میں پھیل رہا ہے، اسی طرح پاکستان کے علاقہ مکران میں ”ذکری“ مذہب سیکڑوں سال سے چلا آ رہا ہے، جس کا آغاز ملا محمد اٹکی نے مہدی کے دعویٰ سے کیا تھا، اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی میں ایک دعویٰ مہدی ہونے کا بھی تھا۔ انھیں جھوٹے دعویداروں میں ایک نام ریاض احمد گوہر شاہی کا بھی ہے۔

ابتدائی زندگی:

اس کا نام ریاض احمد ہے، والد کا نام فضل حسین مغل تھا جو کہ ایک سرکاری ملازم تھے۔ گوہر شاہی دادا کی طرف نسبت ہے جن کا نام گوہر علی شاہ تھا جو کہ سری نگر کے رہائشی تھے، وہاں ان سے ایک قتل سرزد ہوا، پکڑے جانے کے ڈر سے راولپنڈی آگئے اور نالہ لئی کے پاس رہائش پذیر رہے۔ جب انگریز پولیس کا ڈر زیادہ ہوا تو فقیری کا روپ دھار کر تحصیل گوجر خان کے ایک جنگل میں ڈیرہ لگا یا، جہاں کافی لوگ ان کے مرید ہو گئے اور جنگل کو نذرانے میں پیش کر دیا۔ یہی جنگل ڈھوک گوہر علی شاہ کے نام سے آباد ہوا اور یہیں ریاض احمد گوہر شاہی 25 نومبر 1941ء کو پیدا ہوا۔

تعلیم:

اپنے گاؤں میں ہی مڈل پاس کیا اور پھر پرائیویٹ طور پر میٹرک کیا، اس کے بعد ویلڈنگ اور موٹر مکینک کا کام سیکھ کر اس کی دوکان کھولی ، مگر اس میں کوئی نفع حاصل نہ ہوا۔ حصولِ روزگار کے لیے پریشانی ہوئی تو اس نے سوچا کہ دادا والا کام دھندہ یعنی پیری مریدی شروع کر دی جائے۔ اس کے لیے ابتداء خانقاہ کے چکر لگائے، خود لکھتاہے : ”کئی سال سیہون کے پہاڑوں اور لال باغ میں چلّے اور مجاہدے کیے مگر گوہرِ مراد حاصل نہ ہوا اور پھر بری امام اور داتا دربار بھی رہا، مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ “

مزید لکھتاہے : ” اس کے بعد طبیعت بگڑ گئی۔ بیس سال کی عمر سے تیس سال تک ایک گدھے کا اثر رہا، نماز وغیرہ ختم ہو گئی، جمعہ کی نماز بھی ادا نہ ہو سکی۔ زندگی سینماوٴں اور تھیٹروں میں گزرتی۔ حصولِ دولت کے لیے حلال و حرام کی تمیز جاتی رہی۔ بے ایمانی، جھوٹ اور فراڈ شکار بن گیا۔ (روحانی سفر ص:13 تا 14)

” پھر ایک مرتبہ عزم مضبوط کر کے سندھ کے پسماندہ علاقے جام شورو میں جھونپڑی ڈال کر پیری مریدی شروع کر دی، کچھ کمزور عقیدہ لوگوں کی آمد شروع ہو گئی؛ لیکن قریبی یونیورسٹی کے پرنسپل نے سارا منصوبہ خاک میں ملا دیا اور جھونپڑی اُکھاڑنے کا حکم دیا، ہم نے چپ چاپ اکھاڑ لی (روحانی سفر۔ ۹، ۸)

پھر حیدر آباد، سر ے گھاٹ میں رہنے لگا، ۱پنے آپ کو سید ظاہر کیا جبکہ تھا مغل۔ سندھ کے لوگ چونکہ سید کے نام پہ مرتے ہیں؛ اس لیے اس کی کافی پذیرائی کی۔ یہیں سے شہرت ملی اور 1980ء میں اس نے کوٹری حیدر آباد، سندھ، خورشید کالونی سے ہی ”انجمن سرفروشانِ اسلام“ کی بنیاد ڈالی اور اپنے گمراہ کن عقائد کا پر چار شروع کیا۔ گوہریہ مذہب بہت خطرناک فتنہ ہے علما اسلام اس کو دین سے خارج قرار دیتے ہیں۔ اس فرقے کا طریقہ واردات اس لحاظ سے بہت پر اسرار اور خطر ناک ہے کہ نہ صرف اہلسنّت ہونے کا دعوٰی کرتے ہیں بلکہ اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ احمد رضاخا ن صاحب علیہ الرحمہ کی اتباع اور عقیدت کا بھی دم بھرتا ہے فتنہ گوہر یہ اہلسنّت کو بد نام کرنے اور نوجوانوں کو راہِ حق سے بہکانے کےلیے اہلسنّت کا لیبل لگا کر مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ فتنہ گوہر شاہی اپنے آپ کو "مسلک بریلوی"سے تعلق منسلک کر تا ہے، اوراکثر بار دیکھنے میں آیاہے کہ فتنہ گوہر شاہی کے پیروکار "بریلوی مسلک"کی مساجد میں ختم قرآن اور دیگر محفلوں کے مواقع پربطور نعت خوان فرائض انجام دیتے ہیں اور آخر میں عوام سے پیراور مرشد کے ملفوظات پر مبنی یہ ملعون اور شیطان ریاض احمدلٹریچر ذکر کرکے سادہ لوح مسلمانوں کا ایمان لوٹتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ابتدا میں اس کی تعلیم اور اسم ذات اللہ کا ذکر قلبی و دیگر اعمال انتہائی پکے مسلمان کو بھی متاثر کیے بغیر نہیں رہتے۔ لیکن اس کے بعد جو دیگر خرافات و شرکیہ عقائد کا پرچار کیا جاتا ہے، وہ اس ذکر قلبی اورمراقبہ کے تمام روحانی فوائد پر پانی پھیر دیتا ہے۔ یہ بات یاد رکھیں کہ اس ملعون "ریاض احمد گوہر شاہی" کے نزدیک نماز اور درود شریف کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اس کے گمراہ کن عقائد و نظریات اور باطل دعوے مندرجہ ذیل ہیں۔

اللہ کی توہین: ( استغفراللہ، نعوذ باللہ)

اللہ مجبور ہے اور شہ رگ کے پاس ہوتے ہوئے بھی نہیں دیکھ سکتا ہے۔ مزید فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کے موقع پر حضرت علیؓ کی انگوٹھی اللہ کے ہاتھ میں دیکھی۔

یہ بھی پڑھیں:   الحاد کا فتنہ اور علماء کی کوششیں - محمد احمد

انبیاء اکرام کی توہین:

حضرت آدم کو حسد اور شرارتِ نفس کا مریض قرار دینا، حضرت موسیٰ کی قبر کو جسدِ اطہر سے خالی اور شرک کا اڈا باور کرانا اور حضرت خضر کو قاتلِ نفس گردانتے ہوئے ان کی توہین کرتا ہے۔ (روحانی سفر)

جعلی کلمہ :

کلمہ میں محمد رسول اللہ کی جگہ اس ظالم نے گوہر شاہی رسول اللہ لکھوایا۔ ( حق کی آواز)

قرآن پاک کے بارے میں :

تیس پارے ظاہری قرآن پاک اور دس پارے باطنی ملا کر چالیس پارے ہوئے اور یہ ہم پر عبادات، ریاضات اور مجاہدات کے ذریعے منکشف ہوئے۔ (حق کی آواز، ص:۵۴، ۵۲)

اسلام کے ارکان خمسہ کی توہین:

نماز، روزہ، حج، زکٰوۃ اور دیگر عبادات میں روحانیت نہیں ہے، روحانیت کا تعلق دل کی ٹک ٹک سے ہے۔ (حق کی آواز، ص:۳)

اسلام واحد راہ نجات نہیں ہے، اس ضمن میں لکھا ہے کہ روحانیت سیکھو، خواہ تمہارا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، اور جس نے روحانیت سیکھی چاہے اس نے کلمہٴ اسلام نہیں پڑھا، وہ جہنم میں نہیں جائے گا۔ (مینارئہ نور)

نیز لکھتے ہیں کہ عیسائی، ہندو، سکھ اور یہودی اگر روحانیت سیکھ لیں تو بغیر کلمہ پڑھے اللہ تک ان کی رسائی ہو سکتی ہے۔ (گوہر، ص:۴، سرفروش پبلی کیشنز)۔

نشہ آور چیزوں کے حلال ہونے کے بارے میں لکھا ہے کہ بھنگ، چرس حرام نہیں؛ بلکہ وہ نشہ جس سے روحانیت میں اضافہ ہو حلال ہے خواہ مخواہ ہمارے عالموں نے حرام قرار دے دیا۔ (روحانی سفر)

عورتوں سے مصافحہ، معانقہ اور جسم دبوانا درست ہے، روحانی سفر میں انہوں نے خود ہی اپنے چلے میں مستانی سے ملاقات اور اس کے ساتھ شب باشی کی فحش رو ئیداد تحریر کی ہے۔ (روحانی سفر، ص:۳۲) اور پھر عورتوں سے معانقہ و مصافحہ کو یہ کہتے ہوئے جائز قرار دیا ہے کہ مولویوں نے اس کو حرام کیا ہے۔

چاند اور حجر اسود میں شبیہ اور مہدی ہونے کا دعویٰ:

انجمن سرفروشان اسلام کے حلقے میں یہ بات مشہور کر دی گئی کہ امام مہدی وہ ہوں گے جن کی شبیہ چاند پر نظر آئے گی۔ پھر اچانک پورے پاکستان میں یہ مشہور کردیا گیا کہ گوہرشاہی کی شبیہ چاند پر نظر آ رہی ہے۔ پنجاب کے تعلیمی بورڈ کی جانب سے شائع کردہ تیسری جماعت کی اسلامیات کی کتاب کے سرورق پر شائع شدہ حجر اسود کی تصویر کو الٹا کر دیکھنے سے اس کے شیطانی ذہن مریدوں کو جانے کہاں سے اس میں گوہر شاہی کی شبیہہ نظر آ گئی کہ اس کا بے تحاشہ پروپیگنڈہ کیا گیا۔ اسی طرح چاند میں موجود سیاہ دھبے کو انتہائی بھونڈے طریقے سے جوڑ توڑ کر اسےگوہر شاہی کی شبیہہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسی طرح ہندوؤں کے شولنگ میں بھی گوہر شاہی کی شبیہ ظاہر ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ اس کے اس جھوٹ کی تردید اس وقت کے امامِ کعبہ شیخ محمد بن عبد اللہ نبیل نے بھی کی اور فرمایا کہ اس وقت پورے حرم میں حماد بن عبد اللہ نامی کوئی امام نہیں ہے، جس کا فرضی نام اس شخص نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے لیا تھا اور اس پر فتویٰ ارتداد بھی صادر فرمایا۔ آپ بھی تصاویر میں یہ نام نہاد شبیہات دیکھ کر اندازہ کر سکتے ہیں کہ گوہر شاہی اور اس کے مرید نفسیاتی مریض ہیں کیونکہ علم نفسیات میں بھی ایک بنیادی ٹیسٹ ہے کہ ایک کاغذ یا کپڑے پر روشنائی کا دھبہ مختلف افراد کو دکھا کر پوچھا جاتا ہے کہ ان کو اس دھبے میں کیا نظر آتا ہے اور ہر شخص اپنی سجھ اور میلان کے مطابق جوابات دیتا ہے۔

سوال نامہٴ گوہر میں لکھا ہے :” لوگ اگر ہمیں مہدی کہتے ہیں تو اصل میں جس کو فیض ملتا ہے، وہ ہمیں اتنا ہی سمجھتا ہے(ص:۸) اس کے لیے بے سروپا اور جھوٹے دلائل دیے گئے ہیں۔ چنانچہ لکھا ہے کہ میری تصویر چاند، سورج اور حجرِ اسود پر ظاہر ہو چکی ہے، یہ مہدی ہونے کی علامات میں سے ہے، اور امام حرم حماد بن عبد اللہ نے حجر اسود کی تصویر کی تصدیق کی، اور کہا کہ یہ امام مہدی سے ملتی جلتی ہے۔ اس کے اس جھوٹ کی تردید اس وقت کے امامِ کعبہ شیخ محمد بن عبد اللہ سبیل نے بھی کی اور فرمایا کہ اس وقت پورے حرم میں حماد بن عبد اللہ نامی کوئی امام نہیں ہے جس کا فرضی نام اس شخص نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے لیا تھا اور اس پر فتویٰ ارتداد بھی صادر فرمایا۔

حضرت عیسیٰؑ سے ملاقات کی روداد:

اس کے علاوہ سیدنا عیسیٰؑ سے اپنی جھوٹی ملاقات اپنی کتاب ”حق کی آواز ص:17“ میں ثابت کی ہے۔ ان کا ایک مرید لکھتا ہے کہ دورۂ امریکہ کے دوران موٴرخہ 29 مئی 1997ء نیو میکسیکو کے ایک مقامی ہوٹل میں حضرت سید نا گوہر شاہی سے حضرت عیسیٰؑ نے ظاہری ملاقات فرمائی، مرشد نے 28 جولائی 1997 ء تک اس کو صیغہٴ راز میں رکھا پھر اس سے پردہ اٹھانا مناسب سمجھا اور تفصیلات ارشاد فرمائیں۔ (اشتھار کردہ سرفروش پبلی کیشنز)

اس جھوٹی ملاقات کے بارے میں خود لکھتے ہیں کہ” حضرت عیسیٰؑ چونکہ مہدی کے زمانہ میں وارد ہوں گے، میری ان سے ملاقات ہونا دلیل ہے، اس بات کی کہ میں مہدی ہوں۔ “ اس کے علاوہ اولیاء اللہ کی توہین، حضرت رابعہ بصریہ جیسی پاکباز کو طوائف کہنا، شریعت اور طریقت کو الگ کرنا، حضور کی زیارت کے بغیر امتی نہ ہونے کا قول کرنا اور حضور سے بالمشافہ ملاقات اور علم سیکھنے کا مدعی ہونا اور اپنے لیے معراج اور الہام کا دعویدار ہونا، اس کی زہر افشانیوں میں شامل ہے۔ اپنے ان گمراہانہ عقائد و نظریات اور دعاوی کے اثبات اور ترویج کے لیے اس نے مندرجہ ذیل کتابیں لکھیں :

روحانی سفر، روشناس، مینارۂ نور، تخفة المجالس، حق کی آواز اور تریاقِ قلب وغیرہ۔

پہلے یہ تنظیم انجمن سرفروشان اسلام کے ٹائٹل سے کام کرتی تھی اور اس کے اشتہارات وکتب پر ایک دل کی تصویر ہوتی تھی۔ اب اب ایک کتاب ''دین الہٰی'' کے نام سے ان کی تنظیم کی طرف سے پھیلائی جا رہی ہے۔ کتاب کے ٹائٹل پر بڑا سا دل بنا کر اس میں ہر مذہب کے خصوصی نشانات ہیں۔ دائیں طرف سے اس دل میں داخل ہوں تو سب سے پہلے صلیب کا نشان ہے۔ اس کے نیچے کسی بدھ مذہب کے پگوڈے کا اور اس سے آگے یہودیوں کاچھ کونی ستارہ ہے، آگے گول دائرے میں دو مچھلیوں کو دکھایا گیا ہے غالباً یہ بھی کسی باطل مذہب کا ہی نشان ہے۔ اس کے بعد دو غیر معروف نشانات جو غالباً ہندوؤں کے لگتے ہیں' اس سے آگے اوپر کو ہندؤوں کے ترنگے پرچم ایسا نشان ہے اور پھر اس کے اوپر چاند تارا ہے۔ اس کے اوپر زمین کی تصویرہے اور اس کے اوپر گوہر شاہی کے نام نہاد دین الہٰی کی کتاب ہے۔ جس شخص نے بھی مرزا قادیانی مسیلمہ پنجاب کا لٹریچر پڑھا ہوگا وہی یہ دین الہٰی کتاب کا صفحہ نمبر 40پڑھ کر فورا مرزا قادیانی کے مشہور جھوٹ کو اپنے سامنے دیکھے گا۔ مرزا نے لکھا تھا میں نے دیکھاکہ میں گویامریم ہوں اور اللہ تعالیٰ نے مجھ سے قوت رجولیت (نعوذ باللہ نقل کفر کفرنبا شد )کا مظاہرہ کیا (یعنی جماع کیا) جس سے مجھے حمل ٹھہر گیا جس کی مدت دس ماہ سے زیادہ نہ تھی اور مجھ سے عیسیٰ پیدا ہوا اور میں نے دیکھا کہ میں وہی ہوں'' اب گوہرشاہی بچتے بچاتے بات ایسی ہی لکھ گئے ہیں۔ لکھتے ہیں 35 سال کی عمر میں 15 رمضان 1976ء کو ایک نطفہ نور قلب میں داخل کیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد تعلیم وتربیت کے لیے کئی مختلف مقامات پر بلایا گیا 15 رمضان 1985ء میں جبکہ آپ دنیاوی ڈیوٹی پر حیدر آباد مامور ہو چکے تھے وہی نطفہ نور طفل نوری کی حیثیت پا کر مکمل طو رپر حوالے کردیا گیا جس کے ذریعے دربار رسالت میں تاج سلطانی پہنایا گیا۔ طفل نوری کو بارہ سال کے بعد مرتبہ عطا ہوتا ہے لیکن دنیاوی ڈیوٹی کی وجہ سے یہ مرتبہ 9 سال میں ہی عطا ہوگیا اور اب کچھ دنوں بیشتر ایک شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ مجھ پر بھی وہی فرشتہ نازل ہونا شروع ہوگیاہے جو کہ مرزا غلام احمد قادیانی پر نازل ہوتا ہے کیونکہ اس فرشتے نے مجھے اپنا نام ٹیچی ٹیچی بتایاہے۔

اس کی کتاب ''دین الہٰی'' میں سے اس کی دیگر خرافات اور ان کی حقیقت ملاحظہ کیجیے۔ ‎ص 8 پر سات جنتوں کے نام دیے ہیں حالانکہ جنتیں آٹھ ہیں اور دوزخیں سات ہیں۔ ‎آدم علیہ السلام کو شنکر جی قرار دیا ہے، حالانکہ یہ خالصتاً ہندو دیومالائی کردار ہے اور لکھا ہے کہ جنت کی مٹی سے ان کا جسم بنایاگیا ہے جبکہ اس کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔ متصلاً بعد لکھاپھر روح انسانی کے علاوہ کچھ اور مخلوقیں بھی اس میں ڈال دی گئیں۔ اس کا بھی انہوں نے کوئی حوالہ نہیں دیا اور نہ ہی ان مخلوقوں کی نشاندہی کی ہے۔ پھرلکھتا ہے جب آدم کا جسم بنایاجا رہا تھا تو شیطان نے حسد سے تھوکا تھا جو کہ ناف کی جگہ پر گرا اور اس تھوک کے جراثیم بھی اس جسم میں شامل ہوگئے ہیں۔ بڑی عجیب بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنے ہاتھ سے بنایا اور یہ کہتے ہیں کہ جب انہیں بنایا جا رہا تھا تو شیطان نے ان کی ناف پہ تھوکا۔ ان باتوں کا شریعت سے کوئی حوالہ نہیں دیا۔ اپنے پاس سے ہی یہ چیزیں انہوں نے لکھ دیں۔ پھر اسی پر بس نہیں۔ آگے بغیر کسی حوالے کے صفحہ نمبر 9 پر لکھا ہے کہ ''جب انسان پیدا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ایک ایک شیطان جن بھی پید اہوتا ہے۔ جسم تو صرف مٹی کا مکان تھا جس کے اندر 16 مخلوقوں کو بند کردیا جبکہ خناس اور چار پرندے بھی ہیں۔ …… واہ کیاکہنے یعنی ریاض احمد گوہر شاہی 16 مخلوقوں اور خناس اور چار پرندوں کے مرقع تھے۔ اب فیصلہ کیسے ہو کہ ریاض گوہر شاہی نے یہ جو بغیر حوالے کے باتیں لکھی ہیں ' خود کیں یا خناس کے زیر اثر یہ باتیں ہوئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   فتنہ -لطیف النساء

صفحہ 21 پر ہندوؤں کے ناگ دیوتا کے متعلق دیومالائی کہانی ملاحظہ کریں ''آخری لائن سد سکندری (جو ذوالقرنین نے دیوار بنائی تھی) سمندر میں سکندر کی بیوی جو کہ دراصل ناگن تھی اسے پھینک دیا گیا اس کا نشان اب بھی موجود ہے اسے سد سکندری کہتے ہیں۔ ان کی نسل (یعنی وہ جوسانپ کی شکل میں تبدیل کردیے گئے تھے گوہر شاہی نے یہ نہیں بتایا کہ یہ لوگ تھے کون) بھی اس دنیا میں موجود ہے۔ عام سانپوں کے کان نہیں ہوتے لیکن اس نسل والے سانپ کے کان ہوتے ہیں۔ یاجوج ماجوج کو چینی پہاڑوں میں بند قرار دیا ہے۔ قارئین کرام یہ سبھی باتیں بلاحوالہ اور بالکل بے سروپا ہیں اور انداز بالکل سپیروں والا ہے جو سانپ دکھانے کے بہانے اپنی جعلی دوائیاں بیچتے ہیں اور سانپ کے منہ میں سرمہ رکھ کر بنانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ شام تک لوگوں کی جان نہیں چھوڑتے۔

گوہر شاہی 25 نومبر2001ء کو مانچسٹر میں نمونیا کی وجہ سے انتقال کر گیا۔ گوہر شاہی کی میت پاکستان لائی گئی اور انجمن سرفروشان ِ اسلام کے بین الاقوامی مرکز المرکز ِ روحانی کوٹری میں مدفون کی گئی۔ جہاں اب گوہر شاہی کا مزار بھی واقع ہے۔ تاہم گوہر شاہی کے تمام مرید گوہر شاہی کے انتقال کو گوہر شاہی کی موت تسلیم نہیں کرتے بلکہ اس پر یقین رکھتے ہیں کہ گوہرشاہی جسم سمیت روپوش ہو گیا ہے، یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کی طرح گوہرشاہی بھی اپنا جسم چھوڑ کرغیبت ِصغری میں چلا گیا اور قیامت سے پہلے حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ گوہر شاہی دوبارہ آئے گا، اسی لیے روایتی انداز میں گوہر شاہی کا عرس بھی نہیں منعقد کیا جاتا۔ گوہر شاہی کی بیوہ اور بچے اب بھی کوٹری میں مقیم ہیں۔ ویسے عجیب اتفاق ہے کہ مرزا قادیانی کا خلیفہ مرزا طاہر بھی انگریزوں کے ملک برطانیہ میں مرا اور گوہر شاہی بھی ادھر ہی مرا، نعش میں سے اتنی بدبو آرہی تھی کہ لوگوں کو اس کا چہرہ ہی نہ دیکھنے دیا گیا۔ ایسے مواقع پہ بڑی پہچان ہوجاتی ہے۔ کئی دین کے دشمن مرے، لوگوں کو یہ کہہ کر ان کا چہرہ نہ دیکھنے دیا گیا کہ ان کے چہرے سے نور کی روشنی اتنی خارج ہو رہی ہے کہ کوئی اسے برداشت نہیں کر سکتا اور حقیقتا جن لوگوں کی موت حق پر ہوتی ہے لوگ فخریہ ان کے نورانی اور چمکدار چہرے کے دیدار کے لیے لوگوں کو آواز دے دے کر بلواتے ہیں اور دکھاتے ہیں۔

گوہر شاہی پر کئی بار قاتلانہ حملے بھی کیے گئے۔ پانچ قسم کے سنگین مقدمات گوہر شاہی پر پاکستان میں دائر کیے۔ گوہرشاہی کے معتقدین کی جانب سے چاند، سورج، نبیولا ستارے اور حجر اسود میں گوہر شاہی کی شبیہات کے دعوے کے بعد یہ مخالفت انتہائی شدت اختیار کر گئی۔ پاکستانی اخبارات و جرائد نے بھی گوہر شاہی کے خلاف تحاریر شائع کیں۔ حکومت ِ پاکستان کی جانب سے گوہر شاہی کی کتابوں پر پابندی لگا دی گئی۔ گوہر شاہی اوراُن کے معتقدین کی سرگرمیوں کوروک دیا گیا اور اخبارات و جرائد کو بھی گوہر شاہی کا مکمل بائیکاٹ کرنے کی ہدایت کی گئی. گوہر شاہی اور اُن کے معتقدین پر کئی مقدمات قائم ہوئے۔ انسداد ِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سندھ میں گوہر شاہی اور اُن کے بہت سے پیروکاروں کو توہین ِ رسالت جیسے قانون کے تحت سزائیں سنائیں۔ گوہر شاہی کو سزا عدم موجودگی میں سنائی گئی کیونکہ گوہر شاہی اُس وقت برطانیہ میں تھا۔ گوہر شاہی کو تقریبا ً 59 سال قید کی سزا اورجرمانے کی سزا سُنائی گئی جس کے خلاف گوہر شاہی نے سندھ ہائی کورٹ میں اپیل بھی کی، تاہم اس اپیل پر کسی بھی فیصلے سے قبل گوہر شاہی برطانیہ میں انتقال کر گیا۔

اس کے ان گمراہانہ عقائد و نظریات کو دیکھتے ہوئے اور اس کی صفت دجالیت کو بر وقت بھانپتے ہوئے ملک کے نامور علماء او ردینی مدارس نے اس پر مرتد و کافر، ملحد، زندیق اور ضال و مضل کا فتویٰ صادر کیا، ان میں سرِ فہرست جامعہ فاروقیہ، جامعہ بنوری ٹاوٴن، جامعہ دار العلوم کراچی، جامعہ رضویہ مظہر الاسلام فیصل آباد اور دار العلوم امجدیہ کراچی ہیں۔

اس کی مزید تحقیق کے لیے سعید احمد جلال پوری صاحب کی کتاب” دورِ جدید کا مسیلمہ کذاب “محمد نواز فیصل آبادی کی کتاب، ” گوہر شاہیت اور قادیانیت اسلام کی عدالت میں“ اور مفتی نعیم صاحب کی کتاب ” ادیانِ باطلہ اور صراطِ مستقیم“ کا مطالعہ کریں۔

آخر میں اللہ سے دعاہے کہ یا اللہ ہماری قوم کو دین کی سمجھ عطا فرما اور ان جھوٹے مہدیوں اور عیسیٰ ہونے کے جھوٹے مدعیوں سے ہماری جان چھڑا۔ آمین


ماخذ و حوالہ جات:

۱۔ گوہر شاہی کا دین الہٰی … تعاقبِ فتن از اعجاز علی شاہ

۲۔ فرقہ گوہر شاہی ماہنامہ دارالعلوم ‏، دسمبر 2014ء از عبدالغنی

۳۔ وکیپیڈیا