قصور سانحہ، اب کرنے کا کام کیا ہے؟ شاذیہ عبدالقادر

معصوم کلیاں جن کے ابھی کھلنے کے دن تھے، وقت سے پہلے مسل دی جاتی ہیں اور ہمارے شب و روز میں سوائے دو چار بیانات کے کوئی ہلچل پیدا نہیں ہوتی۔

بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہیں، ان کو سفاکیت اور حیوانیت کا نشانہ بنانا قابل مذمت ہے، مجرموں کو قرار واقعی سزا نہ دے کر ہم نے اپنی نسل نو کو غیر محفوظ کر دیا ہے. اب ضرورت اس امر کی ہے کہ زینب کے مجرم کو ہر صورت عبرتناک سزا دی جائے۔ انتظامیہ، پولیس، حکومت اور عدلیہ، سب کا پہلا فرض اب یہی ہے.

بعد ازاں ان عوامل کا تدارک لازمی ہے جن کی بنیاد پر ایسے حیوان صفت اپنی ہوس کی نحوست معصوم کلیوں کو نوچ کر پھیلاتے ہیں،
فحاشی و عریانی کے تمام ذرائع کاخاتمہ،
پی ٹی اے کا انٹرنیٹ پر فلٹر لگانا،
تمام فحش ویب سائٹس پاکستان میں بین ہوں
پاکستان فلم سنسر بورڈ کی فعالیت
چینلز اور اخبارات پر پیمرا قوانین کا اطلاق
تعلیمی اصلاحاتی پروگرامات

مگر یہ سب کون کرے؟
معاشرے کو دھن دھونس اور دھاندلی کے حوالے کرکے کرپٹ، بےایمان اور عزت و غیرت سے عاری حکمرانوں کو اپنے اوپر مسلط کر لیا گیا ہے، جو آئے روز ایسے واقعات پر رسمی بیانات دے کر فارغ ہو جاتے ہیں۔ حکومت میں ہوتے ہوئے مطالبات کرتے ہیں، نہیں معلوم کہ مطالبہ کس سے کیا جا رہا ہوتا ہے۔ جب تک یہاں ایماندار، خدا سے ڈرنے والے اور آخرت کی جواب دہی کا احساس رکھنے والے حکمران نہیں آئیں گے، ہماری ماؤں کی گودیں ایسے ہی اجڑتی رہیں گی۔

والدین کی اپنے بچوں کے ساتھ دوستی اور کونسلنگ وقت کی ضرورت ہے۔ اپنے بچوں سے بات کریں۔ جسم کی حفاظت، ستر پوشی، اور محرم غیر محرم اور لڑکے لڑکوں میں لڑکیاں لڑکیوں میں بیٹھنے کا رجحان، نشست و برخاست، کب آئے کب گئے کہاں گئے؟ یہ سب والدین کی ذمہ داری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بصیرت سے بصارت تک - ثناء آغا

بچوں کو اپنے ساتھ مصروف رکھیں، انہیں گھر کے کاموں میں انوالو کریں، پڑھائی کو اتنا سوار نہ کریں کہ گھر کی ذمہ داری سے آزاد کر کے فارغ وقت میں بےجا مصروفیات ڈھونڈیں، جہاں جائیں ساتھ لے جائیں۔گھر چھوڑیں تو کال کرکے ان کی مصروفیت معلوم کریں، کہاں ہیں، کب واپسی ہوگی؟ کون آیا کون گیا؟ کیا کیا؟
مجبورا کسی کے گھر چھوڑیں تو بھی ان کی خبر رکھیں۔ کم از کم وقت میں اپنا کام کر کے واپس لوٹنے کی عادت ڈالیں

اور خدارا!
بچوں کو سمارٹ فونز کا محدود استعمال کرنے دیں، ان کے فون پر چیک رکھیں۔ مجھے حیرت ہوتی ہے ان ماؤں پر جو خود ابھی تک نوکیا 3310 رکھتی ہیں، مگر سب بچوں کے پاس لیٹسٹ ٹیکنالوجی کا موبائل ہوتا ہے۔

اپنے بچوں کے ساتھ اردگرد دوست احباب، سہیلیوں رشتہ داروں، سب کے بچوں پر نگاہ رکھنا اور بات چیت کرنا، یہ بھی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

یاد رکھیں!
یہ بچے صرف آپ کے یا میرے بچے نہیں ہیں،
یہ امت محمدی کے گلشن کے پھول ہیں،
ان کی حفاظت، تربیت اور نگرانی ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

یہی نسل نو ہے جو ہمارے اسلامی خوشحال پاکستان کی صبح نو کی امید ہے، ان کی پرورش سے ہرگز غفلت نہ برتیں۔ ہمیں ان کی ذمہ داری کا ایک دن اللہ کو بھی جواب دینا ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی، کہ ان کی امت کے نونہالوں کی تربیت، پرورش اور نگرانی کا حق ادا کیا یا نہیں!