بغاوت کیوں جنم لیتی ہے؟ - حبیب الرحمٰن

پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتیں اور خاص طور سے حکمران اور حکمران جماعتیں ملک میں بد امنی اور قتل و غارت گری میں شامل رہی ہیں اور اس کا شکار ان جماعتوں میں شامل وہ کارکنان یا ممد و مددگار رہے ہیں جو اپنے قائد یا حاکم وقت کے منہ سے نکلی ہر بات کو وحیِ الٰہی گردان کر ہر حد کو پار کرجانے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کیا کرتے۔ اس بات میں بھی کوئی شک اور شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ انصاف کی عدم فراہمی اور حکمرانوں کی ”ریاست گردی“ بھی قاتلوں کو پیدا کرنے اور ان کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے اور یہ سلسلہ کسی بھی مقام پر رکنے کا نام لیتا ہوا نظر نہیں آتا۔

کراچی ہی نہیں سندھ کے شہروں کی نمائندہ جماعت اور سندھ کی دوسری بڑی جماعت تو پاکستان کے ہر حکمران اور ہر سیاسی جماعت کو ایسے نظر آتی ہے جیسے دوسرے کی آنکھ کا تنکا۔ اور پھر بد قسمتی سے یہ ان افراد پر مشتمل ہے جنھوں نے پاکستان کے حصول کے لیے بے پناہ قربایاں دیں، بے شک اس وقت وہ افراد اس میں ایک فیصد سے بھی کم ہوں جنھوں نے تحریک پاکستان میں اپنا عملی کردار ادا کیاہوگا لیکن جس وقت اہل کراچی نے اس جماعت کا سامنا کیا اس وقت ایسے بہت سارے افراد حیات تھے جو بلا شبہ تحریک پاکستان میں شریک رہے تھے۔ اس جماعت کا پورے پاکستان کو بہت صاف صاف نظرآجانا تو کوئی عجب نہیں لیکن پاکستان کے سب سے پڑھی لکھی آبادی کا اس طرح جارح اور ”باغی“ ہونے کے اسباب نظر نہ آنا بہت حیرت کی بات لگتی ہے۔

کیا بنگالی ”غیر پاکستانی“ تھے؟ اگر اس بات پر غور کرلیا جاتا تو شاید کراچی کے رہنے والے آج اس جگہ نہیں ہوتے جس مقام پر انھیں لاکر کھڑا کر دیا گیا ہے۔ اہل بنگال تو وہ تھے جو اصل ”پاکستان“ تھے، ان کی تمام عمر فرنگیوں کے ساتھ جنگ میں گزری، سراج الدولہ کون تھے؟ اگر ہم مسلمان ہیں تو پھر یہ بات ہمیں مان لینی چاہیے کہ بنگال کے مسلمان ہی اصل پاکستانی تھے اور وہ اس لیے بھی کہ جس مسلم لیگ نے پاکستان بنایا اس مسلم لیگ کی داغ بیل تو1906ء میں بنگال ہی میں پڑی تھی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ لوگ جو جذبہ ایمان سے سرشار اور آدھے سے زیادہ پاکستان تھے اور ان میں پڑھائی کا اوسط بھی مغربی پاکستان سے کہیں زیادہ تھا، وہ اچانک پاکستان کے غدار کیونکر ہو گئے؟ اس سوال کو ایک اور زاویہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس وقت کے مغربی پاکستان میں بھی غیر منقسم ہندوستان سے تعلق رکھنے والے لاکھوں مسلمان ہجرت کر کے پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہر اور دیہات میں آکر آباد ہوئے جس میں پنجاب کے بڑے بڑے شہر کے علاوہ سندھ کے چھوٹے بڑے شہر اور دیہات بھی شامل تھے اور آج بھی وہ سب اور ان کی اولادیں در اولادیں سندھ کے چند شہروں میں ہیں لیکن پنجاب کے بے شمار چھوٹے بڑے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں آباد بھی ہیں اور خوشحال بھی۔

وہ تمام افراد، ان کی اولادیں جو آج بھی پنجاب میں آباد ہیں اہل پنجاب کو آج تک ان سے کسی قسم کی کوئی شکایت یا ان کو پنجاب سے کوئی عناد نظر نہیں آتا۔ کیا ان میں اردو بولنے والے نہیں ہیں؟ کیا ان میں ایسی تمام کمیونٹیز نہیں ہیں جن کی زبان اور تہذیب کراچی والوں جیسی نہ ہو؟ ان میں میمن ہیں، راجپوت ہیں، کاٹھیاواڑی ہیں، غرض سب ہی ہیں لیکن وہاں آج تک کسی بھی قسم کی لسانیت اور علاقائیت کی بو باس تک نہیں۔

کیوں؟ اس لیے کہ وہاں وہ ہوں یا مقامی آبادی، سب کے لیے یکساں مواقع ہیں کہ وہ کاروبار کریں، کھیتی باڑی کریں، مزدوری کریں یا سرکاری نوکریاں تلاش کریں۔ وہ سب ویسے ہی ”مہاجر“ ہیں جیسے کراچی والے اور یہی نہیں، ان کے کراچی والوں سے خون کے رشتے بھی ہیں اور بیشتر ایک دوسرے سے ازدواجی تعلق میں بھی جڑے ہوئے ہیں۔

اب ہم ایک نظر سندھ پر بھی ڈالتے ہیں۔ کراچی پاکستان کا دارالخلافہ تھا، یہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کا فیصلہ تھا لیکن قائد کے اس فیصلے کو نظر انداز کرکے اسلام آباد کو دارالخلافہ بنایا گیا۔ جب پاکستان بنا تھا تو اس وقت بہت سارے محکموں کے سر کردہ افراد وہی تھے جو ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے اور انھوں نے ان محکموں کی باگ ڈور سنبھالی تھی جن میں پاکستان پوسٹ، ٹی اینڈ ٹی اور پاکستان ریلوے جیسے بڑے محکمے بھی شامل تھے۔ دارالخلافہ کی منتقلی کی وجہ سے ان سب کو کراچی سے جانا پڑا یا پھر یوں ہوا کہ جو لوگ اپنے آپ کو منتقل نہیں کر سکتے تھے ان کو مستعفی ہونا پڑا۔ گویا یہ فیصلہ بھی اہل کراچی کے لیے کوئی خوش کن نہیں تھا۔ یہ حقیقت ہے ہوائی نہیں، آج بھی اسلام آباد میں حکومت کی بسائی آبادیوں، جی سیکٹر، ٹی اینڈٹی کالونی، پوسٹ آفس کالونی اور کراچی کمپنی کی آبادیوں کا دورہ کریں تو آپ کو بیشتر لوگ کراچی والے ہی نظر آئیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   تحریک انصاف کو ووٹ کیوں دیں؟ - یاسر محمود آرائیں

ایوبی دور میں اور کیا کیا کچھ نہیں ہوا؟ مادرملت محترمہ فاطمہ جناح کو بھارتی ایجنٹ قرار دیا گیا، ان کی تحریر اور تقریر پر تا حیات پابندی لگا دی گئی جو بہر صورت کراچی والوں کے لیے ایک نہایت تکلیف دہ بات تھی۔ ایوب خان نے بنیادی جمہوریت کا نظام تشکیل دیا، اس نظام کے تحت الیکشن بھی ہوئے۔ پورے ملک میں ایوب خان کو کراچی میں ہی ہزیمت کا سامنا رہا اور یہ بات اہل کراچی پر قیامت ثابت ہوئی۔ گوہر ایوب، جو ایوب خان کے صاحب زادے تھے باقائدہ لشکر کے ساتھ حملہ آور ہوئے اور کئی ہفتے تک کراچی جلتا رہا۔ یہ کس قسم کا انتقام تھا؟ یہ بات آج تک کسی دانشمند کو سمجھ میں نہیں آئی۔

کراچی تو ہزاروں سال سے تھا، پاکستان بننے کے بعد بھی ایک کراچی تھا، مکران کے ساحل پر یہ شہر چند لاکھ نفوس پر مشتمل تھا۔ یہاں کے باسی ”مکرانی“ کہلاتے تھے جو زیادہ تر مچھلیوں کے شکار پر گزارہ کرتے تھے یا پھر ملیر ندی کے ساتھ ساتھ میلوں تک کاشت کاری ہوا کرتی تھی۔ امرودوں، جنگل جلیبیوں اور املی کے درخت تو اتنے تھے کہ شمار ممکن ہی نہیں تھا۔ کیا اس وقت پاکستان میں پختون نہیں ہوا کرتے تھے؟ اگر تھے تو کراچی میں کیوں نہیں تھے اور یہ سندھی کہاں تھے؟ تھے کہیں کراچی میں؟ پھر یہ ایوب خان کو کس کی ضد میں پختونوں کی آباد کاری کا سودا سمایا اور وہ بھی اس بنیاد پر کہ وہ جہاں چاہے کسی بھی اجازت کے بغیر آباد ہو سکتے ہیں؟ اور وہ لوگ جو ہجرت کرکے آئے ہیں وہ صرف ان آبادیوں میں ہی رہ سکتے ہیں جو ان کے لیے تعمیر کی جارہی ہیں وہ بھی قیمت ادا کرکے؟

خوں ریزی کا یہ سلسلہ کبھی رک کر نہیں دیا، آرام باغ کی مسجد ہو یا اس وقت کا لالو کھیت، لانڈھی ہویا کورنگی، ہر ہر جگہ خون بہا یاگیا، کبھی سرکاری اہل کاروں کے ہاتھوں کبھی ”لسانی اہلکاروں“ کے ہاتھوں، ماردھاڑ، لوٹ مار اور کرفیو در کرفیو میں اس شہر کی آبادی کو خوب خوب کچلا گیا۔ کیا یہ اس بات کی سزا تھی کہ ایک ”فیلڈ مارشل“ کو ہرانے کی جرات کیونکر ہوئی؟

یہ خوں ریزی ایوب خان کے بعد بھی جاری ساری رہی، وہ اپنے انجام کو پہنچا تو ”جام“ بھٹو کو تھمادیا گیا۔ اس نے جام تھاما ہی نہیں پورا چڑھالیا اور بد مست ہو کر سندھ کے 22 شہروں کو خاک و خون میں نہلاکر رکھ دیا، پھونک ڈالا، جلاڈالا اور تہہ و بالا کرکے رکھ دیا۔ ان جلنے والے شہروں میں جلائے جانے والے، لوٹے جانے والے، جان سے مار دیے جانے والے اور خواتین کی عزتیں لٹ جانے والے وہی بد نصیب تھے جو ہندوؤں سے لٹ لٹا کر محض اس لیے آئے تھے کہ وہ اپنے ملک میں جا رہے ہیں جو ”لا الہ الا اللہ“نام پر بنایا گیا ہے۔ اس طرح سندھ جس کے طول و عرض میں ہجرت کرکے آنے والے آباد ہوئے تھے وہ سندھ کے چند شہروں تک ہی محدودہو گئے جس میں کراچی کا نمبر سر فہرست ہے۔

اس کے بعد سے یہ سلسلہ رکا ہی نہیں، یہ سانحہ علی گڑھ کی صورت میں جاری رہا۔ یہ بے نظیر کے دور میں سانحہ کچا قلعہ کی صورت میں بھی نظر آیا۔ یہ نواز شریف دور میں 1992 ءسے ریاستی جبر سے شروع ہو کر تاحال جاری و ساری ہے۔ یہ شہر اور اس شہر کے باسی ہر قسم کی سازش کا شکار رہے اور استعمال کیے جاتے رہے۔ دنیا جانتی ہے کہ ضیا ءالحق نے کس مقصد کے لیے استعمال کیا، بے نظیر نے کیوں حصے دار بنایا، پھر نواز نے، پھر بے نظیر نے اور پھر نواز نے، سب نے اپنے اپنے مقصد کے لیے خوب خوب استعمال کیا۔

یہ بھی پڑھیں:   صلاحیت ، صالحیت کے ساتھ - فیض اللہ خان

پھر ایک اور فوجی آمر نے تو ان کو سر کا تاج بنا کر رکھا، پھر زرداری کے دور حکومت میں تو حد ہی ہو گئی، کیا زرداری، کیاگیلانی، کیا پرویز اشرف سب ہی دربار میں سر جھکا کر حاضر ہوتے رہے۔ ان تمام حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اس بات کو سمجھ لینا مشکل نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ”کمیونٹی“ جو ہجرت کرکے پاکستان کے ہر شہر میں آباد ہوئی صرف کراچی ہی میں کیوں ”بد مزاج‘ جارح اور باغی ہو گئی؟

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جو جو زیادتیاں کراچی میں حکومتی سطح پر یا پارٹیوں کی سطح پر ہوتی رہیں ان پر پاکستان کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو خاموش نہیں رہنا چاہیے تھا لیکن یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم ہر خرابی میں اپنی ”اچھائی“ ڈھونڈنے کے عادی رہے ہیں۔

جب ہر قسم کے مفادات پر صرف سیاسی مفاد کا غلبہ ہو جائے تو حالات ایسے ہی ہوجایا کرتے ہیں۔ یہ شہر جس کو کراچی کہتے ہیں، اتنا بد قسمت شہر ہے کہ اس سے منافع تو سب کماتے ہیں لیکن نقصان میں شریک نہیں کرتے، کھاتے اس شہر کا ہیں لیکن چھید بھی اسی کی تھالی میں کرتے ہیں جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ یہ کوڑے کا ڈھیر بنا ہوا ہے، یہاں ساری پارٹیاں ایک پارٹی کو گالیاں دینے تو آتی ہے لیکن کرتا دھر تاؤں سے کچرا اٹھانے کا نہیں کہتیں، اس کی آمدنی کو اسی شہر میں خرچ کرنے کا نہیں کہتیں، اس کو خوبصورت بنانے کا نہیں کہتیں، صرف اور صرف عوامی طاقت کامظاہرہ کرنے آتی ہیں اور چلی جاتی ہیں۔ اس قسم کے حالات کسی بھی جگہ، کسی بھی شہر یاملک میں ہوں گے اور وہ بھی تواتر کے ساتھ تو جارحیت کو ابھرنے سے نہیں روکا جاسکتا۔ ممکن ہے وقتی طور پر قابو پالیا جائے لیکن یہ ہو نہیں سکتا کہ اسے جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے۔

دنیا کے بہت سارے ممالک میں بہت بڑی تعداد میں مسلمان آباد ہیں لیکن وہاں کسی بغاوت کا نہ ابھر نا، اسے طرح پنجاب میں ہندوستان سے آنے والوں میں پنجاب کے خلاف کسی شکایت کا نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر رویے یکساں اور متعصبانہ نہیں ہوں تو کسی کو پاگل کتوں نے نہیں کاٹا۔ ایک اور خوفناک بات جو اب جنم لے رہی ہے وہ یہ ہے کہ الطاف حسین کے باغیانہ رویے کے باوجود اگر اسی کی پارٹی کے منتخب مقامی حکومت کے نمائندوں میں سے کسی ایک کا بھی ووٹ الطاف حسین کے نامزد کردہ ”میئر“ کے خلاف نہ پڑنا، کچھ اور پیغام بھی دے رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاسی حکمت عملی کے تحت بظاہر ایم کیو ایم نے ”ایم کیو ایم پاکستان“ کا چولا اوڑھ لیا ہے لیکن ہے تو ”ایم کیو ایم“ ہی۔ اگر آنے والے جنرل الیکشن میں یہ ”ایم کیو ایم پاکستان“ کے نام سے ہی کامیاب ہوئی تب بھی یہ ایک ”ریفرنڈم“ ہی خیال کیا جا سکتا ہے اور یہ بات مستقبل میں بین الاقوامی سطح پر بھی اہمیت اختیار کر سکتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے نرم خوئی کی تعلیم دی ہے اور یہ نرم خوئی بہت بڑے بڑے فتنوں کو امن و آشتی میں بدل دیا کرتی ہے۔ میرا اپنا خیال ہے کہ سختی بہت ہو چکی، اب اس سختی کو مصالحت میں بدل دیا جائے تو نتائج بہت اچھے نکل سکتے ہیں یا باالفاظ دیگر جو بھی اچھے نتائج آپریشن سے حاصل کیے جا چکے ہیں ان کو امر بنایا جا سکتا ہے۔