زینب! ہم شرمندہ ہیں - ڈاکٹر شفق حرا

گزشتہ چوبیس گھنٹوں سے شدید کرب اور اذیت میں مبتلا ہوں۔ دل دہشت کی لپیٹ میں ہے۔ ضبط ساتھ چھوڑ چکا ہے۔ آنسو بہہ بہہ کر اب آنکھیں خشک ندی کا سماں پیش کررہی ہیں۔ الفاظ ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔ قلم نے لکھنے سے انکار کردیا ہے کیونکہ قصور میں ایک بار پھر انسانیت شرما گئی ہے۔ قصور ویسے تو بابا بلھے شاہ کی سرزمین ہے لیکن آج یہ سرزمین انسانیت کا سبق دینے کے بجائے انسانیت کا سر شرم سے جھکانے کا باعث بن رہی ہے۔

قصور میں کبھی میاں بیوی کو توہین مذہب کے الزام میں زندہ جلایا گیا تو کبھی انسانیت کا لبادہ اوڑے مجرموں نے معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی کرکے ان کی ویڈیو بنا کر پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا۔ گزشتہ چند ماہ سے قصور میں ظلم کا ایک نیا شیطانی چکر شروع ہوا جس میں بار بار زینب جیسی معصوم بچیوں کو اغواء کرکے ہوس کا نشانہ بنایا جاتا اور پھر قتل کرکے نعش پھینک دی جاتی۔

زینب ان شیطانی کارندوں کی بارہویں شکار تھی جس کی نعش کچرے کے ڈھیر سے ملی اور کچرے کے ڈھیر پر پڑی زینب ہم سے سوال کررہی ہے کہ اگر ہم نے ہوس کے پچاریوں کی بھینٹ چڑھنے والی زینب جیسی گیارہ بچیوں پر آج کی طرح ردعمل دکھایا ہوتا تو شایدزینب آج عمرہ سے واپسی پر اپنے والد کا استقبال کرنے کے لیے زندہ ہوتی۔

زینب کا قتل مجھے دور جاہلیت کی یاد دلا گیا جب بیٹیوں کو زندہ دفنا دیا جاتا تھا مگر ہمارے ہاں اب رسم یہ ٹہری کہ معصوم بیٹیوں کو زیادتی کے بعد قتل کر کے کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیا جاتا ہے۔ معصوم زینب کی تدفین تو ہو جائے گی مگر اس قتل پر اٹھنے والے سوال دفن نہیں ہو سکیں گے، زینب کی روح آج ہم سے سوال پوچھ رہی ہے۔ زینب کی روح سوال پوچھ رہی ہے اس خادم اعلی سے جو ہر واقعے کا نوٹس تو لیتے ہیں مگر پھر ایک اور واقعہ تک اس نوٹس کو بھول جاتے ہیں۔ زینب کی روح پوچھ رہی ہے کہ کیا یہ ملک صرف صاحب اقتدار افراد کے بچوں کے لیے بنایا گیا تھا اور کیا عام افراد کی بیٹیاں درندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دی گئیں ہیں۔

زینب کی روح ہم سے پوچھ رہی ہے کہ اس ریاست کا کیا مستقبل ہے جو اپنے معصوم بچوں کو بھی تحفظ نہیں دے سکتی اور اس معاشرے کا کیا انجام ہو گا جہاں بیٹیوں کے قاتل آج بھی دندناتے پھر رہے ہیں۔ زینب کی روح اس حکومت سے پوچھ رہی ہے کہ اس کی رٹ آج اتنی کمزور کیوں ہے کہ اس کے باپ کو انصاف کیلئے بھی آرمی چیف سے اپیل کرنا پڑی۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ سوال اس قدر تلخ ہیں کہ زینب کی روح کو ان کے جواب شایدکبھی نہ مل سکیں اور ایسے واقعات جاری رہیں۔

زینب! ہم تجھ سے شرمندہ ہیں۔ اس لیے بھی شرمندہ ہیں کہ تمہیں بچپن میں وہ ظلم سہنا پڑا جس پر آسماں بھی لرز جائے لیکن اس لئے بھی شرمندہ ہیں کہ میڈیا اور عوام کی اکثریت کی طرح میری شرمندگی بھی چند گھنٹوں یا دنوں تک رہنے کے بعد مزید ایسے کسی واقعہ تک خواب غفلت کی نذر ہوجائے گی۔

زینب کی موت پر حکمرانوں کو جھنجھوڑنے کیلئے میرے پاس امرتا پریتم کی تقسیم ہندوستان پر لکھی گئی شہرہ آفاق نظم (اج آکھاں وارث شاہ نوں) کو پیش کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ شاید اس نظم سے ہی حکمران اور معاشرہ خواب غفلت سے جاگ جائے اور ہم مزید ایسے صدموں کا سامنا کرنے سے بچ جائیں۔

اج آکھاں وارث شاہ نوں کتھوں قبراں وچوں بول
تے اج کتاب عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول
اک روئی سی دھی پنجاب دی تُوں ِلکھ ِلکھ مارے وین
اج لکھاں دھیاں روندیاں تینوں وارث شاہ نوں کہن
اُٹھ دردمنداں دیاں دردیاں اُٹھ تک اپنا پنجاب
اج بیلے لاشاں ِوچھیاں تے لہو دی بھری چناب
کسے نے پنجاں پانیاں وچ دِتی زہر رلا
تے انہاں پانیاں نے دھرت نُوں دِتا پانی لا
ایس زرخیز زمین تے لُوں لُوں پُھٹیاں زہر
گٹھ گٹھ چڑھیاں لالیاں پُھٹ پُھٹ چڑھیا قہر
ویہو ولسّی وا فیر وَن وَن وگی جھگ
اوہنے ہر اِک وانس دی انجھلی دِتی ناگ بنا
ناگاں کِیلے لوک مُونہہ بَس فیر ڈنگ ہی ڈنگ
پل او پل ای پنجاب دے نیلے پے گے انگ
وے گلے اوں ٹُٹے گیت فیر، ترکلے اوں ٹُٹی تند
ترنجنوں ٹُٹیاں سہیلیاں چرکھڑے کُوکر بند
سنے سیج دے بیڑیاں لُڈن دِتیاں روڑھ
سنے ڈالیاں پینگ اج پپلاں دِتی توڑ
جتھے وجدی سی پُھوک پیار دی اوہ انجھلی گئی گواچ
رانجھے دے سب وِیر اج بُھل گئے اوہدی جاچ
دھرتی تے لہُو وسیا قبراں پیاں چوون
پرِیت دِیاں شاہ زادیاں اج وِچ مزاراں روون
وے اج سبھے قیدو بن گئے ، حُسن عشق دے چور
اج کتھوں لیائے لبھ کے وارث شاہ اِک ہور
اَج آکھاں وارث شاہ نُوں کتھوں قبراں وچوں بول
تے اج کتاب عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول

Comments

ڈاکٹر شفق حرا

ڈاکٹر شفق حرا

ڈاکٹر شفق حرا دس سال سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔ پی ٹی وی نیوز پر نشر ہونے والے پروگرام کیپیٹل ویو کی میزبانی کے فرائض سرانجام دیتی ہیں، اور اپنے منفرد انداز کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.