نوحہ بے قصوراں - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

سانحہ قصور 2015ء پر نوحہ بےقصوراں لکھا. خیال تھا کہ اس کے ذمہ دار پکڑے جائیں گے اور اس شدید ترین جرم کی روک تھام ہو جائے گی، لیکن بعض اوقات کینسر کے علاج میں کمی بیشی چند جڑیں چھوڑ دیتی ہے. مسیحا جانتا ہے کہ مرض موذی بھی ہے اور مہلک بھی. اس کی کوشش تو یہی ہوتی ہے کہ مریض کے جسم سے اس مرض کو مکمل طور پر نکال دیا جائے، لیکن یہ مرض چالاک بھی ہے اور عیار بھی. جسم کے صحت مند حصے میں خود کو یوں چھپا لیتا ہے کہ نظر نہیں آتا اور جیسے ہی مسیحا اور مریض سکون کا سانس لینے لگتے ہیں، ویسے ہی یہ مرض دوبارہ سانسیں اجیرن کرنے کو آن موجود ہوتا ہے.

سانحہ قصور نے بھی ایسے ہی اس کینسر کے بیج معاشرے میں بو دیے تھے، پورے معاشرے میں پھیلا دیے تھے، اب یہ بیج دوبارہ خار دار تھوہر بنتے جا رہے ہیں جن کے زہریلے کانٹوں میں معصوم پرندے پھنس کر سسک رہے ہیں، دم توڑ رہے ہیں.

سوشل میڈیا پوسٹس سے علم ہوا کہ زینب کا واقعہ پہلا نہیں، 12واں ہے اس سے پہلے 2017ء میں ہی قصور کے مختلف علاقوں سے ایمان فاطمہ، فوزیہ، نور فاطمہ، ثنا، اسماء اور لائبہ نامی بچیاں بھی اغوا، ریپ اور قتل کی جا چکی ہیں. ان کے بےزبان ہونٹوں پر ایک ہی سوال ہے.

بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ (سورہ التکویر)
تجھے کس جرم میں قتل کیاگیا؟

جس شہر میں متعدد ایسے واقعات ہو چکے ہوں، وہاں ماں باپ اپنے بچوں کو چھوڑ کر عمرہ کرنے جا ہی کیسے سکتے ہیں؟ اپنی اولاد کی ذمہ داری اور حفاظت پہلے اور عبادت بعد میں.


اس دیس میں لگتا ہے عدالت نہیں ہوتی
جس دیس میں انسان کی حفاظت نہیں ہوتی
مخلوق خدا جب کسی مشکل میں پھنسی ہو
سجدے میں پڑے رہنا عبادت نہیں ہوتی

یہ اضطرابی صورتحال ہے اس میں بچوں کو اپنے پروں تلے چھپا کر پالنا ہی اصل عبادت ہے ورنہ چیل، کوے ،سانپ، بچھو اور گدھ قبیل کے گوشت خور آپ کے ننھے چوزوں کو نگلنے کے لیے بس موقع کی تلاش میں ہیں. لاہور کا جاوید اقبال ہو یا قصور کا ایکس ریٹڈ ویڈیو میکنگ گروپ انہیں خام مال اسی معاشرے سے میسر آتا ہے. انہیں اسی معاشرے نے یہ سب کرنے کی ترغیب دی ہے .ان کی ویڈیو کی مارکیٹ بھی یہی معاشرہ ہے . اسی معاشرے کا مادر پدر آزاد میڈیا رینکنگ اور ریٹنگز کی دوڑ میں کسی بھی گھناؤنے واقعے کی تفصیلات کو جوسی بنا کر پیش کرتا ہے کہ اس رپورٹ کو سننے والے لوگ اس سے عبرت کی بجائے حظ اٹھانے لگتے ہیں. واقعے کو مختلف اینگلز سے اتنا دہرایا جاتا ہے کہ معاشرے میں افسوس کی بجائے بےحسی کا رحجان پیدا ہوتا ہے. معاشرتی بےحسی کے سدباب کے لیے سنسر بورڈ کو اپنے قواعد سخت کرنے چاہیے. تاکہ کوئی بھی جرم کسی کچے ذہن کے لیے جرم کی ترغیب ثابت نہ ہو.

ننھی زینب تو جا چکی، اب دنیا کا کوئی نظام اسے عدل نہیں دلوا سکتا. اجڑنے والوں کی گود سونی ہو چکی. اب معاشرہ اور نظام انصاف مزید واقعات کا سدباب کرکے زینب کے کیس کو آخری کیس بنا سکتا ہے. مجرمین کو پکڑا جائے اور ان کے انجام کو معاشرے میں موجود انھی سے متاثرہ اذہان کے لیے وجہ عبرت بنایا جائے. اس معاملے میں تفتیشی عملے سے لے کر فیصلہ کرنے والے اور سزا پر عملدرآمد کرنے والے زینب کے نام کی جگہ اور اپنی اولاد کا نام رکھ کر تفتیش، تحقیق، فیصلہ اور عمل کریں، تاکہ کوئی نرمی، کوئی دباؤ، کوئی سفارش، کوئی رشوت اس اور اس جیسے کسی بھی کیس میں قابل قبول نہ ٹھہرے.


تم تو کہتے تھے کہ ہوتے ہیں درندے ظالم
میں نے انسان کو انسان نگلتے دیکھا ہے

سوشل میڈیا کی شتر بےمہار آزادی کو بھی لگام دی جائے. پاکستان میں ہر سائٹ دیکھے جانے کی اجازت نہ ہو. جیسے پہلے ویڈیو کے کاروبار پر چھاپے مارے جاتے تھے. فحش مواد تلف کیا جاتا تھا. بالکل ایسے ہی فحش سائٹس پاکستان میں بین کر دی جائیں، اور پراکسی سائٹس پر بھی نہ کھلیں. قصور میں خصوصا اور پاکستان کے ہر شہر میں بالعموم محلے کے لیول پر نوجوانوں کی گشتی ٹولیاں بنائی جائیں، جو اپنے محلے میں اجنبی لوگوں کی آمدورفت پر نظر رکھیں.

بچوں کو سکول ٹیوشن یا پارکس میں صرف والدین کے زیرنگرانی آنے جانے کی اجازت ہو، بچوں کو عزیز، رشتے دار یا دوستوں کے گھر بھی والدین ہی لے کر جائیں، اور واپس لائیں. مناسب سمجھیں تو بچوں کو ایمرجنسی صورتحال میں مناسب رسپانس کی تربیت دیں، مثلا اچھا ٹچ اور غلط ٹچ کیا ہے، اور بچے نے جان بچانے کے لیے کیا کرنا ہے اور مدد کیسے حاصل کرنی ہے؟ اہل محلہ مل کر بچوں کو کراٹے یا جوڈو کے ابتدائی کورس، کراٹےکورس کروائیں، تاکہ بچہ نہتے ہاتھ بھی کچھ نہ کچھ کرنے کے قابل ہو. بچوں کو والدین کے نام گھر کا پتہ اور فون نمبر زبانی یاد کروائیں. یاد رکھیں کہ فحش سائٹس کی بھرمار نے کم عمر بچے بھی بڑے کر دیے ہیں. دیکھنے میں معصوم بچہ جو گنوں کا پورا ہو، وہ صحت مند جسم میں چھپے کینسر کا خلیہ ثابت ہو سکتا ہے، سو مائیں اپنے بچوں خصوصا چھوٹی بچیوں کو کزنز بھائیوں کے پاس اکیلا مت چھوڑیں.

تھوڑا کہے کو بہت جانیں!
آئیے مل کر آواز اٹھائیں!
زینب کا کیس ٹیسٹ کیس کے طور پر آگے بڑھائیں، تاکہ کہیں کسی اور زینب کو بچایا جا سکے.

ٹیگز

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.