پھانسی گھاٹ – سجاد احمد

فرض کیجیے آپ پھانسی گھاٹ پر کھڑے ہیں اور آپ کے سامنے ایک شخص کو گھسیٹ کر پھانسی گھاٹ پر لایا جا رہا ہے۔ اس حال میں کہ چہرے کا رنگ خوف کی وجہ سے زرد اور جسم اس قدر ڈھیلا گویا جان وقت سے پہلے ہی نکل گئی ہو۔ اس کے پیچھے ایک اور شخص ہے۔جو اک شانِ بے نیازی سے اپنے قدموں پر چلتا ہوآرہا ہے۔ اسے بھی موت کی سزا سنائی گئی تھی،جس پر عملدرآمد کا وقت آگیا ہے۔ لیکن اس شخص کے چہرے پر خوف یا بے چینی کے کوئی آثار نہیں۔ البتہ آنکھوں میں عجیب سی ایک چمک نظر آرہی ہے۔یوں لگ رہا ہے کہ یہ اپنے اس انجام کے لیے پہلے ہی سے تیار تھا۔

اب دیکھیں پھانسی تو کچھ ہی دیر میں دونوں کو ہو جانی ہے۔ کوئی شک نہیں یہ بڑا کٹھن وقت ہے بڑے سے بڑے پھنے خان کے اعصاب بھی ان لمحات میں چٹخ جاتے ہیں۔ نروس سسٹم بریک ہو جاتا ہے۔ بعض کو تو باقاعدہ سٹریچر پر لایا جاتا ہے۔ اب آپ یہ سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ایمان سے بتائیں آپ کے دل میں آخر الذکر شخص کے لیے تحسین کے جذبات پیدا ہوں گے کہ نہیں؟ کسی نہ کسی درجے میں آپ اس شخص کےمضبوط اعصاب اور دلیری پر رشک بھی کریں گے۔ مگر ٹھہریے… کیا یہ ہمت یونہی خود بخود پیدا ہوجاتی ہے؟ نہیں! یہ تبھی ہوتا ہے جب کوئی شخص کسی عالی مقصد کے لیے اپنی جان کو قربان کرنے پر تیار ہوجاتا ہے۔

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے

ہم میں سے ہر شخص غیر محسوس طریقےسے تختہ دار پر لایا جارہا ہے۔ کسی کا فاصلہ تختہ دار سے کم اور کسی کا زیادہ، بہرحال رخ سب کا اسی طرف ہے۔ منہ زور گھوڑے کی مانندباگ تڑانے کے لیے کسی کی گردن پیچھے کو مڑی ہوئی ہے اور کوئی سیدھا چلتا ہوآرہا ہے۔ آنا بہرحال سبھی نے ہے۔تو کیا خیال ہے اگر آمادگی کے ساتھ، ہنسی خوشی، زندگی کی رونق سے لطف اندوز ہو کر بھی، خالق و مخلوق اور تمام متعلقین کے حقوق کی رعایت کرتے ہوئے اپنا رخ بھی اسی طرف سیدھا کر لیا جائے اور اپنے قدموں پر چلتے ہوئے فنا کی چوکھٹ پر(جہاں سے آگے بقا کے در کھلتے ہیں) پہنچا جائے تو یہ زیادہ مستحسن نہیں؟ بجائے اس کے کہ ہم سر سے لے کر پاؤں تک دنیا کی حرص و ہوس میں دھنسے ہوئے ہوں اور ملک الموت ہمارے سروں پر آن پہنچیں۔ تب ہماری حالت وہی ہوگی جو پھانسی گھاٹ پر زبرستی لائے جانے والے شخص کی ہوتی ہے۔چہرہ زرد اور جسم اس قدر بے حس گویا وقت سے پہلے جان نکل گئی ہو۔