ابن صفی:جاسوسی ناولوں کا بے تاج بادشاہ - صابیہ ظہور آہنگر

اُردو میں مقبول عام جاسوسی ناولوں کے خالق ابنِ صفی ۲۶ جولائی ۱۹۲۸ء میں مشرقی اترپردیش کے ایک گاؤں ناروا میں پیدا ہوئے تھے۔ اپنی پیدائش کا واقعہ وہ خود بیان کرتے ہیں:

’’جولائی ۱۹۲۸ء کی کوئی تاریخ تھی اور جمعہ کی شام دھندلکوں میں تحلیل ہو رہی تھی کہ میں نے اپنے رونے کی آواز سنی۔ ویسے دوسروں سے سُنا کہ میں اتنا نحیف تھا کہ رونے کے لیے منہ تو کھول لیتا تھا لیکن آواز نکالنے پر قادر نہیں تھا۔ میرا خیال ہے کہ دوسروں کو میری آواز اب بھی سنائی نہیں دیتی۔ کب سے حلق پھاڑ رہا ہوں وہ حیرت سے میری طرف دیکھتے ہیں اور لاتعلقی سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ خیر کبھی تو……افوہ !پتا نہیں کیوں اپنی پیدائش کے تذکرے پر اتنا جذباتی ہو جاتا ہوں۔‘‘

ابنِ صفی نے اپنے ادبی سفر کا آغاز ایک شاعر اور مزاح نگار کے طور پر کیا تھا۔ اس وقت وہ اپنے اصلی نام ’’ اسرار ناروی‘‘ کے نام سے جانے جاتے تھے اور اس نام کے تحت ان کے مضامین اور شاعری الہٰ آباد کے ایک ماہانہ’’ نکہت‘‘ کی زینت بنا کرتے تھے جو ابن صفی کے ایک دوست عباس حسینی کے خاندان کی ملکیت تھا۔ ابنِ صفی نے اپنی ابتدائی تخلیقات’’ نکہت‘‘ میں اپنے والد صفی ناروی کے نام سے پیش کی۔ بعد ازاں یہی نام ابنِ صفی میں تبدیل ہو گیا اور اسرار ناروی نے اپنی بعد کی زندگی میں ایک جاسوسی ناول نگار کی حیثیت سے جو بے پناہ شہرت پائی وہ انھیں ابنِ صفی کے نام سے ہی حاصل ہوئی۔ ادبی حلقوں میں ایک زمانے میں ابنِ صفی ’’ طغرل فرقان‘‘، ’’ عقرب بہارستانی‘‘ اور ’’سنکی سولجر‘‘ کے طور پر بھی کافی مشہور ہو چُکے ہیں۔اُن کی زندگی کا یہ دور بھی ان کے مداحوں کے ذہن پر بہت دنوں تک نقش رہا۔

ابنِ صفی کی چھوٹی بہن ریحانہ لطیف نے اپنے ایک مضمون’’ نئے اُفق ‘‘ (اشاعت اگست ۱۹۸۶ء) میں اپنے بھائی کے متعلق اپنے خیالات کا اظہاریوں کیا ہے:

’’ الہٰ آباد سے ایک روزنامہ غالباً اس کا نام ’’ نیا دور‘‘ تھا۔اس میں بھائی جان طغرل فرقان کے نام سے طنزیہ کالم لکھا کرتے تھے۔ ان کے کالم کا مستقل عنوان’’ پوسٹ مارٹم‘‘ تھا۔ پورے شہر میں کالم نگار کا بڑا چرچا تھا۔ لوگ اس شخصیت کے بارے میں جاننا چاہتے تھے جو اتنی بے باکی اور جرأت سے حکومت پر طنزیہ کالم لکھتا تھا۔ لیکن طغرل فرقان سے صرف اس کی ماں اور بہنیں ہی واقف تھی۔‘‘

ابنِ صفی مرحوم کا مطالعہ و مشاہدہ عمیق اور وسیع تھا۔ وہ شاعری اور ادب کے ساتھ ساتھ تاریخ، فلسفہ، نفسیات اور سائنس کے تمام افق کے شناور تھے اور ان کی علمیت ان کے تخلیق کردہ ہر جملے سے جھلکتی ہے۔ ان کی تحریروں میں ادب کی ایسی چاشنی ہے کہ سینکڑوں بار پڑھے پڑھائے جملے بھی ہر بار نئے لگتے ہیں اور پڑھنے والا ابنِ صفی کی تحریر میں کھو کر رہ جاتا ہے۔ ابنِ صفی کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ انھوں نے تھکے ہوئے ذہنوں کو صحت مند تفریح مہیا کرنے کی کوشش کی۔

ابنِ صفی کے ناولوں کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ہر ذوق کی تسکین کا سامان مہیا کرتے تھے۔ ہر طبقۂ فکر کا قاری ان کے ناول پڑھ کر مسرت وراحت محسوس کرتا ہے۔ اپنے ناولوں میں انھوں نے ایڈونچر، سیر و سیاحت، سائنس، فکشن غرض جاسوسی ادب کے حوالے سے سب کچھ پیش کیا جو پڑھنے والوں کو مبہوت کر لیتا ہے۔ وہ کہانی کو اس قدر دلچسپ اور تجسس آمیز بنا دیتے ہیں کہ ان کا قاری ان کی تحریر میں گم ہو جاتا ہے اور فکرِ دنیا سے چند لمحوں کے لیے ہی سہی آزادی محسوس کرتا ہے۔

ابنِ صفی حساس طبعیت کے مالک تھے۔ ان کو جرائم سے نفرت اور انسانیت سے محبت تھی۔ وہ جہاں جرائم کو نیست و نابود ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے تھے۔ جرائم کی تمام صورتوں اور محرکات کے بھی شدید مخالف رہے۔ انھوں نے معاشرے کے برے انسانوں کو بے نقاب کر کے برائی سے نفرت کرنے اور برائیوں سے دور رہنے کی ہمیشہ تلقین کی۔ ابنِ صفی نے سماج کے گھناؤنے کرداروں کو اپنے ناولوں میں اس لیے پیش کیا تاکہ لوگ عبرت حاصل کر سکیں اور ان سے بچ سکیں۔ جرم پر قانون کی بالادستی اور باطل پر حق کی فتح ابنِ صفی کے ہر ناول کا نمایاں وصف ہے۔ اپنے جاسوسی ناولوں میں انھوں نے زندگی کے اہم ترین پہلوؤں پر قلم اُٹھایا اور معاشرے کے رستے ہوئے ناسوروں کی نشاندہی کی۔

اس سلسلے میں ان کا پہلا ناول ۱۹۵۲ ء میں ’’ دلیر مجرم‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ اس کے بعد ان کے قلم سے بے شمار ناول تخلیق ہوئے جو آج بھی اپنی انفرادیت کی وجہ سے زندہ و جاویدہے۔ ابنِ صفی کے ناولوں کی تعداد ۲۴۵ ہیں۔

ابنِ صفی نے اپنے ناولوں کو ’’ فریدی سیریز‘‘ اور ’’ عمران سیریز‘‘کے نام سے پیش کیاہے۔ ابنِ صفی کے ناولوں کی خاصیت کا ایک اہم پہلو ان کے کردار بھی ہیں۔ابنِ صفی کے دونوں کردار چاہے وہ فریدی ہو یا عمران، یہ ادب میں لافانی شہرت کے حامل ہیں۔ ان کے کرداروں نے پژمردہ دلوں اور بوجھل ذہنوں کو اپنی مسکراہٹوں کی قندیلوں سے روشن کیا اور مردہ دلوں کو قہقہے لگانے پر مجبور کیا ہے۔مثال کے طور پر’’ کرنل فریدی‘‘ بے حد پھرتیلا اور طاقت ور کردار ہے جو قاری کے دماغ میں بے پناہ روشنیاں پھیلاتا ہے نیز وہ قارئین کو زندگی کی امنگوں سے بھی روشناس کراتا ہے۔ اس کے علاوہ ’’سارجنٹ حمید‘‘ بھی ابنِ صفی کا ایک اہم کردار ہے جو اپنی مضحکہ خیز حرکتوں سے مردہ دلوں کو بے تحاشا ہنسنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس کے برعکس عمران ایک ایسا کردار ہے جو نہایت ہی ذہین و فطین ہونے کے باوجود حماقتوں میں مبتلا نظر آتا ہے۔ مگر اپنی تمام تر حماقتوں کے باوجود اس کے ارد گرد رہنے والے اس کے گرویدہ نظر آتے ہیں۔ ابنِ صفی کے تخلیق کردہ کرداروں کی ایک اور خاصیت ہے کہ اُنھیں کبھی موت نہیں آسکتی۔ یہ سب کے سب کردار ان کی لازوال کہانیوں میں چلتے، پھرتے، لڑتے اور بڑھتے نظر آتے ہیں۔

ابنِ صفی نے اپنی تحریروں کی ابتداء نہایت آسان اور رواں زبان میں کی۔ وہ زبان جو معمولی پڑھے لکھے لوگ بھی بہ آسانی پڑھ اور سمجھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی ہر تحریر کو لوگ توجہ سے پڑھتے ہیں۔ انھوں نے کبھی اپنی تحریر میں کوئی ایسا لفظ استعمال نہیں کیا جس کے معنی عام طور پر سمجھ میں نہ آتے یا وہ بول چال میں استعمال نہ ہوتے ہوں۔ ابنِ صفی نے اپنی تحریروں کے ذریعے اردو ادب کی بے پناہ خدمت کی ہے۔ یہ کہنا بالکل بھی بے جا نہ ہوگا کہ اردو کو زندہ رکھنے میں ابنِ صفی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ بہت سے اُردو ادب کے شائقین کہتے ہیں کہ اُن پر اردو ادب کا دروازہ ابنِ صفی نے کھولا۔ ابنِ صفی کے ناولز غیر اُردو طبقہ سے تعلق رکھنے والے کئی لوگوں کے لیے اُردو زبان سیکھنے کا موجب بنے۔ ناروے کے ڈاکٹر فین تھیسن نے اس کا اقرار یوں کیا ہے:

’’ کراچی آئے ہوئے میرا دوسرا یا تیسرا دن تھا کہ میں دو تین کتابوں کی دکانوں میں گیا۔ میں نے دوکانداروں سے پوچھا کہ آپ کا پسندیدہ مصنف کون ہے یا آپ کسے پڑھنا پسند کرتے ہیں ؟ دو نوں نے کہا کہ ہم پڑھتے نہیں صرف کتابیں بیچتے ہیں۔ جبکہ تیسرے نے کہا میں عمران سیریز پڑھتا ہوں۔ میں نے اس سے پوچھا کہ عمران سیریز کیا ہے؟ انھوں نے مجھے عمران سیریز کتابیں دکھائی تو میں نے سوچا انہیں بھی پڑھ کر دیکھو کہ کیا چیز ہے؟ کیونکہ مجھے اردو سیکھنے اوررواں کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی ہلکی پھلکی چیز جس سے میں آسانی سے پڑھ سکوں کی ضرورت تھی۔ میں ابھی اردو سیکھنے کے بالکل ابتدائی مراحل میں تھا۔ میں نے چند کتابیں عمران سیریز کی خریدیں۔ اس کا پہلا شمارہ پڑھنے میں مجھے چند دن لگے۔ کیونکہ مجھے بار بار لغت استعمال کرنے کی ضرورت پڑھ رہی تھی کیونکہ میری اردو بالکل ابتدائی مراحل میں تھی۔ پہلے شمارے میں یہ تو سمجھ گیا کہ کہانی کیا ہے اور کیا ہوا لیکن اب آسانی سے سب کچھ پڑھ لیتا ہوں۔ اردو پڑھنے اور سیکھنے میں ابنِ صفی کی کتابوں نے میری بڑی مدد کی ہے۔ جو کچھ بھی میری اردو میں روانی آتی ہے وہ ابنِ صفی کی وجہ سے آئی ہے۔‘‘( بحوالہ ابنِ صفی کون ؟، مصنف مشتاق احمد قریشی صفحہ ۴۳)

ابنِ صفی مقبولیت کے بلند ترین مقام پر کھڑے ہیں جو انھوں نے اپنی محنت اور لگن اور خداداد صلاحیتوں سے حاصل کیا ہے۔ وہ کبھی ستائش یا داد کے قائل نہیں تھے۔ اپنی تحریروں کے حوالے سے وہ یہ بات بڑے فخر سے کہا کرتے تھے :

’’ ہو سکتا ہے میری کتابیں الماریوں کی زینت نہ بنتی ہو لیکن تکیوں کے نیچے ضرور ملے گی۔ ہر کتاب بار بار پڑھی جاتی ہے۔‘‘( ماہانہ نیا رُخ، ابنِ صفی اگست ۱۹۸۱، صفحہ ۸۷)

ابنِ صفی ایک شخص کا نام نہیں بلکہ ایک عہد کا نام ہے۔ آج بھی اُن کی تحریریں نہ صرف زندہ ہے بلکہ اپنی شگفتگی اور خوشبوؤں سے اُردو دنیا کو معطر کر رہی ہے۔ ابنِ صفی نے اپنی زندگی ادب کی تخلیق کی راہیں ہموار کرنے میں گزاری۔ یہی ان کی دوامی شہرت کا راز ہے۔ جاسوسی ناولوں کا یہ بے تاج بادشاہ ۲۶ جولائی ۱۹۸۰ء کوکراچی میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔

ٹیگز

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • بے شک۔۔ابن صفی بہت بڑے جاسوسی ناول نگار تھے۔۔اگاتھا کرسٹی نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ میں ایشیا میں صرف ایک جاسوسی ناول نگار کو جانتی ہوں اور وہ ہے ابن صفی،،!