’’اللہ کے بندوں کی پہچان‘‘ - محمد عنصر عثمانی

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ کتاب ہے۔ یہ رب العالمین کاکلام ہے جواپنے پیارے نبی حضرت محمدﷺ سے گفتگو کی صورت آج مسلمانوں کے پاس موجودہے۔ قرآن مجید انسانی زندگی کے تمام شعبوں کاذکرکرتاہے۔ اوراللہ پاک قرآن مجید کے تیسویں پارے کی سورۃالعصر میں انسانی زندگی کوخسارے کامرتکب ٹہرایا، اور اس پرقسم کھاکر مہرالٰہی ثبت فرمادی کہ۔اب کوئی شک باقی نہیں رہتا۔ماقبل اقوام کے ادیان ومذاہب، اور ان کی طرف مبعوث کردہ ان کے نبی علیہ السلام کی تعلیمات کاجائزہ لیں تومعلوم ہوتاہے، ان کے پاس عبادتِ الٰہی اور اپنے پیغمبر کی تعلیمات پرعمل کرنے، ربوبیت کی پیروی کرنے کے لیے طویل عمریں موجود تھیں۔ لیکن نبی آخرالزمان ﷺ کے مبعوث ہوتے ہی، سابقہ مذہب وکتب، قابلِ عمل نہ رہیں۔ اور " میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا" کی واضح دلیل سنادی گئی۔

ایک زمانہ ایسا بھی دیکھااس ارض نے کہ بڑ ے بڑے مذاہب بازیچۂ اطفال اورمنافقین کاتختہ مشق بن گئے۔ ان نامور ومذاہب کی حقیقی صورت اس قدرمسخ ہوگئی تھیں کہ اگران کے پیشوا، اس دنیامیں واپس آکر اپنے چھوڑے ہوئے ادیان کاحال دیکھ سکتے،تو وہ اپنے اس دین ومذاہب کوپہچاننے سے صاف انکارکردیتے۔تہذیب وتمدن کے جھولوں میں خودسری، بیراہ روی، اور اخلاقی پستی کادوردورہ تھا۔ نظامِ حکومت ابتری کاشکارتھی۔ حکام کارویہ سخت گیر تھا۔ عوام اخلاقی گراوٹ میں گہری ہوئی تھی۔ جس کانتیجہ یہ ہواکہ اقوام اپنے اندرونی مسائل میں الجھ کر رہ گئیں اور ان کے پاس دنیاکے سامنے پیش کرنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ نہ کوئی پیغام، نہ انسانیت کے لیے دعوت۔ حقیقت میں یہ اقوام ومذاہب اندرسے کھوکھلے ہوچکے تھے۔ ان کی زندگی کا سوتاسوکھ چکاتھا۔ ان کے پاس نہ دینی ہدایات تھیں، اور نہ ہی دنیا میں قیادت واقتدار کے لیے مستحکم اصول۔

زندگی کی واضح، اورروشن حقیقت کوحضورعلیہ السلام نے اپنے ارشادمبارک میں بیان فرما یاہے۔ کہ مسلمانوں کواس دنیامیں آنے کامقصد فراموش نہیں کرناچاہیے۔ چنانچہ ارشادِ نبوی ﷺ ہے :" تم دنیا میں ایسے رہو جیساکہ کوئی مسافرہو، یا راہ گزرہو " (مشکوۃ المصابیح)

اس مسافروں والی زندگی کو سرمایہ داروں کی سرکشی، خدافراموشوں اورافلاس کی چکی میں پسی و خودفراموشی کے انتہائی سروں کے د رمیان، نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات، کسمپرسی جیسی حالت میں ہیں۔ اخلاق عالیہ، اورزندگی کے لیے بلند اصولوں کے آگے، اسلامی تعلیمات سے فانی زندگی کومنورکرنے کے تمام اعمال متروک سمجھ لیے گئے۔دولت مندوں کواپنی تفریحی مشاغل وتعیشات سے فرصت نہیں کہ وہ دین وآخرت کے بارے میں کچھ سوچیں۔ کامل معتقد اپنی اس حقیقت سے روگردانی نہیں کرتا،کہ وہ دنیا میں کچھ پلوں کامہمان ہے۔ دنیا کا سکھ چین، آرام وآسائش، ختم ہوجائے گی، اور مصائب وتکالیف کوبھی ہمیشگی دوام نہیں ہے۔ وہ دنیا کی لذت وہوس کو، آخرت کی بیش بہا نعمتوں پرترجیح نہیں دیتا۔جن لوگوں نے د نیا کوہی حرف آخر جان کر اس میں سرگرداں ہوئے، اوراخروی انعامات سے نظر چرائے رکھی، ان کو قرآن مجید نے یوں متنبہ کیاہے :’’ کہ تم دنیاکی زندگی کوآخرت کی زندگی پر ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت کی زندگی بہت بہتر ہے یہی بات پہلے صحیفوں میں بھی تحریر شدہ ہے۔‘‘

حقیقت کے کھل جاتے ہی کرنے کے بہترین کام یہ ہیں کہ دنیا میں ہی آخرت کو سنوارا جائے، اچھائی کی تلقین برائی کا قلع قمع کیا جائے۔ دنیاوی رشتوں میں بقدرِ ضرورت تعلقات قائم کرنے چاہیے اوردائمی تعلقات میں (اللہ اور رسول اللہ ﷺ سے) کی بنیاد ڈال لینی چاہیے۔ دنیامیں عیش وعشرت کی چیزیں تلاشنے سے، اوراختیار کرنے سے حتی الامکان احتراض برتناچاہیے کیونکہ آپ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے :’’ عیش وعشرت سے پرہیزکرو، کیونکہ اللہ کے بندے عیش پرست نہیں ہوتے۔