سید زادے کی بیوی - ام محمد سلمان

(ایک سچی کہانی)

میری کہانی بھی اسی معاشرے کے بہت سے عام لوگوں جیسی ہے۔ میں اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی۔ بہت خوبصورت، گورا رنگ، بولتے نین نقش.. ماں نے بہت لاڈوں سے پالا تھا مگر گھر کے ہر کام میں طاق بھی کردیا تھا۔ واجبی سی تعلیم بھی دلائی، قرآن مجید بھی پڑھا دیا۔ ہم غریب، مگر حدود و قیود کے پابند لوگ تھے۔ جب جوان ہوئی تو اکثر گھرانوں سے میرے لیے رشتے آنے لگے۔ جن میں دیندار اور دنیا دار سبھی شامل تھے لیکن میرے والد ایک شریف النفس انسان تھے۔ دنیا کی دولت کو زیادہ اہمیت نہ دیتے تھے۔ اسی لیے جب ایک شریف سید گھرانے سے میرے لیے رشتہ آیا تو والد صاحب نے معمولی چھان بین کے بعد قبول کر لیا۔

سادگی سے میری شادی ہوگئی۔ میرے شوہر بظاہر تو ایک اچھے اور نرم دل انسان تھے لیکن کام کاج میں کچھ خاص دلچسپی نہیں لیتے تھے۔ گھر میں کئی افراد تھے۔ مل جل کے گھر کا نظام چل رہا تھا۔ دنیا کی چیزوں کی اتنی خواہش اور ہوس تھی ہی نہیں، اس لیے بس جو روکھی سوکھی ملی، صبر شکر سے گزارا کرتی رہی۔ شوہر پرائیویٹ جاب کرتے تھے۔ تنخواہ معمولی ہی تھی مگر عزت سے گزارا ہو رہا تھا۔ پھر کسی بات پر خفا ہوکر وہ نوکری بھی چھوڑ دی۔ میں نے سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر وہ نہ مانے۔ پھر زندگی مشکلات کا شکار ہوتی چلی گئی۔ وہ کوئی نیا کام ڈھونڈتے اور پھر کچھ مہینوں بعد اسے بھی چھوڑ دیتے۔ حد سے زیادہ نازک مزاجی نے کہیں ٹک کر کام نہ کرنے دیا۔ اسی دوران میرے تین بچے بھی ہوگئے تھے، بڑی بیٹی سات سال کی ہوچکی تھی۔ اسی دوران یکے بعد دیگرے والدین کا بھی انتقال ہو چکا تھا۔ سسرال والے بھی میرے شوہر کی مسلسل بے روزگاری سے تنگ آگئے اور آخرکار ایک دن ہمیں گھر سے نکل جانے کا الٹی میٹم دے دیا۔

وہ بہت کڑا دن تھا، ہمارے پاس بھلا کیا تھا، تین چھوٹے بچوں کو لے کر کہاں جاتی؟ میری ایک سونے کی انگوٹھی تھی، جو امی نے شادی کے وقت دی تھی۔ اسے بیچ کر ایک چھوٹا سا کرائے کا مکان دیکھا اور اس کا ایڈوانس وغیرہ دیا۔

اب شاید شوہر کو کچھ عقل آگئی تھی، تندہی سے کام ڈھونڈنے لگے۔ ایک جگہ ایک نوکری مل گئی، بہت اچھی آمدن نہ سہی، مگر جیسے تیسے گزارا ہورہا تھا۔ دو تین سال بعد پھر کسی بات پر میاں نے نوکری چھوڑ دی۔ اس دن شوہر سے پہلی بار جھگڑا کیا، بے اختیار میں ان پر چلّانے لگی "کیا سمجھ رکھا ہے آپ نے ہمیں؟ در در کا بھکاری بنائیں گے کیا؟ کیوں نہیں لگ کر کماتے ہیں آپ؟ ان بچوں کی طرف تو دیکھیے، ان پر ترس نہیں آتا آپ کو؟ کیوں انھیں دوسروں کے ٹکڑوں کا محتاج کرنا چاہتے ہیں؟"

مگر وہ خاموش ہی رہے، آنکھوں پر ہاتھ رکھ کے چپ چاپ لیٹ گئے۔ میں بھی خاموش ہوگئی۔ مجھے گھر کے اخراجات کی فکر کھائے جارہی تھی۔ کھانے پینے کا بندوبست، پھر مکان کا کرایہ بھی۔ کہاں سے ہوگا یہ سب کچھ؟

سوالات اور حالات، دونوں مجھے کسی بچھو کی طرح ڈنک ماررہے تھے۔ کیا کروں؟ کہاں جاؤں؟ شوہر نہ خود کام کررہے تھے نہ مجھے کہیں کام کرنے دیتے تھے۔ میرے کام کرنے سے ان کی غیرت کو ٹھیس لگتی تھی۔ برادری میں شرمندگی ہوتی تھی۔

سید زادے کی بیوی لوگوں کے گھروں میں برتن مانجھے؟ کسی فیکٹری میں جا کر کام کرے؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ سینا پرونا بھی کچھ ایسا خاص نہیں آتا تھا کہ گھر بیٹھ کر سلائی ہی کرلیتی۔ تعلیم بھی اتنی نہ تھی کہ کسی اسکول میں ہی ملازمت مل جاتی۔ اسی پریشانی کے عالم میں دو مہینے گزر گئے۔ ادھر ادھر سے قرض لے کر روکھا سوکھا گھر کا خرچ چلتا رہا۔ مالک مکان بھی کرائے کی وصولی کے لیے کئی چکر لگا چکا تھا۔

یونہی ایک دن پھیکی سی صبح تھی، بچے بھی سوکر اٹھ چکے تھے۔ رات بھی کچھ نہ کھایا تھا۔ تین دن سے یہی ہو رہا تھا، کسی ایک وقت ہی کچھ تھوڑا بہت کھانے کو مل جاتا تھا۔ کبھی آلو ابال کر کھالیے، کبھی چاول ابال کر، کبھی روکھی روٹی پانی کے ساتھ۔ اب تو بھوک سے کلیجہ منہ کو آرہا تھا۔ شوہر کی طرف دیکھا، تو انھوں نے بھی نظریں چرا لیں۔

بے اختیار آسمان کی طرف نگاہیں اٹھائیں… یا اللہ! اپنے مجبور، بےکس بندوں پر رحم فرما!

ایسا لگتا تھا بھوک سے ظالم اور کوئی چیز نہیں دنیا میں۔ بس کسی طرح سے کچھ کھانے کو مل جائے، میرے بھوکے بچے سیر ہو جائیں۔ ان کی یاسیت زدہ شکلیں مجھ سے دیکھی نہیں جارہی تھیں۔ رہ رہ کہ دل میں خیال آتا، کیا تھا اگر بابا میری شادی کسی اچھے خوشحال گھرانے میں کردیتے؟ صرف ظاہری شرافت دیکھ کر مجھے پوری زندگی کے لیے غربت کی چکی میں پسنے کے لیے چھوڑ دیا؟ مسلسل کرب و اذیت کی سولی پر لٹکا دیا؟ کہاں جاؤں کس سے کہوں دل کی بات؟ گہرے صدمے کی وجہ سے لگتا تھا دل کسی نے مٹھی میں بھینچ رکھا ہے۔

یہ بچے بھوک کی شدت سے بے جان ہورہے ہیں، میرے اللہ! یہ روتے کیوں نہیں؟ چلّاتے کیوں نہیں؟ یہ ضد کیوں نہیں کررہے؟ کیا ان میں اتنی بھی طاقت باقی نہیں رہی کہ یہ رو رو کر مجھ سے روٹی کا تقاضا ہی کرسکیں؟ میرا وجود کسی بھربھری مٹی کی دیوار کی طرح ڈھے گیا تھا، ان کی خاموشی میرے کلیجے کو چیر رہی تھی، میرے دل کے ٹکڑے ٹکڑے کر رہی تھی۔ میں انھیں آوازیں دے رہی تھی ہلا رہی تھی مگر وہ بس خاموش نگاہوں سے مجھے دیکھ رہے تھے۔ میرے چاند تارو! میرے آنگن کی بہارو! اٹھو نا ! ماں سے گِلہ ہی کر لو کہ کھانے کو کیوں نہیں دیتی ؟ مجھ سے کچھ تو کہو، میرے بچو، میرے جگر گوشو،، کچھ تو بولو!

میں زاروقطار رو رہی تھی اور سوچ رہی تھی، ہاں ایسے ہی حالات ہوتے ہوں گے جب جوان مائیں اپنے بچوں کی خاطر اپنے دامنِ عصمت کو تار تار کرنے نکل کھڑی ہوتی ہیں۔ آج میرا بھی یہی جی چاہ رہا تھا، کسی چوک یہ جاکر کھڑی ہوجاؤں اور چیخ چیخ کے خود اپنی بولی لگاؤں کہ ہے کوئی میرے بچوں کی بھوک کا سودا کرنے والا؟ کوئی ہے جو اس ممتا کی ماری ماں کی نسوانیت کو خرید کر اس کے بچوں کو کھانا کھلا دے؟ کوئی ہے؟ کوئی ہے جو آج ایک بےکس ماں کی مجبوری کو روٹی کے چند ٹکڑوں کے عوض خرید لے؟ کہیں کوئی زندگی کی رمق ان معصوموں کے وجود میں دوڑتی نظر آجائے! میں بھول چکی تھی شرم و حیا کے سب تقاضے، پاگل ہوچکی تھی شاید!

گندم امیرِ شہر کی ہوتی رہی خراب

بیٹی مگر غریب کی فاقوں سے مر گئی

مدتوں پرانا شعر میرے ذہن میں گونجنے لگا۔ کیا میرے بچوں کے ساتھ بھی یہی کچھ ہونے والا ہے؟ کیا یہ بھوک کے ہاتھوں مرنے والے ہیں؟ کیا میں واقعی اپنی عزت و عصمت کا سودا کر لوں؟

معاً اپنے تینوں معصوم پھول سے بچوں پر نظر پڑی، آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔ نہیں نہیں انھیں صرف روٹی کی نہیں "عزت" کی بھی ضرورت ہے۔ جیسے یہ بچے میرا مان ہیں، میرا غرور ہیں بالکل اسی طرح میری پاکدامنی میری عزت اور میرا وقار ان کے سر کا تاج ہے۔ میں اسے گرنے نہیں دوں گی۔

اللہ تو کہتا ہے: "موت ایک لمحہ اپنے مقررہ وقت سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتی، کچھ نہیں ہوگا میرے بچوں کو، اللہ انھیں زندگی بخشے گا۔ وہ بہت غفور الرحیم ہے۔

ذرا سی دیر کو خیالات بہکے تھے، مگر میرے مولٰی نے مجھے تھام لیا، گرنے نہیں دیا۔ میرے دماغ میں انھی سوچوں کی جنگ جاری تھی کہ یکایک کسی نے زور زور سے دروازہ دھڑ دھڑایا۔

آصف (میرے شوہر) نے باہر جاکر دروازہ کھولا تو مالک مکان چند لڑکوں کو لے کر آیا تھا اور بری طرح چلا رہا تھا میرا مکان خالی کرو!

ان لڑکوں نے گھر میں گھس کر ہمارا سامان اٹھا اٹھا کر باہر پھینکنا شروع کردیا۔ میں نے برقع پہنا بچوں کو زبردستی جھنجھوڑ کر اٹھایا اور انھیں ساتھ لے کر گلی کے ایک کونے میں کھڑی ہوگئی۔ دل غم سے پھٹا جارہا تھا۔ محلے کے کچھ لوگ بیچ میں آکر مالک مکان کو سمجھانے لگے۔

یار غریب لوگ ہیں، تھوڑی مہلت دے دو ، مگر وہ ماننے کے لیے تیار ہی نہ تھا۔ "جسے ہمدردی ہے وہ خود تین ماہ کا کرایہ بھر دے۔ دو گزشتہ مہینوں کا اور ایک مہینے کا ایڈوانس۔ کل ملا کے اٹھارہ ہزار روپے بھرو، تو میری بلا سے رہو تم لوگ ! میں نے تو کرائے پر ہی چلانا ہے مکان۔"

آصف، مالک مکان سے التجا کرتے رہے، چھوٹے بچوں کا واسطہ دے کے مہلت مانگتے رہے مگر مالک مکان تو آج مکمل فرعون کے روپ میں تھا۔ اس پر ہماری کسی آہ و زاری کا اثر نہیں ہورہا تھا اور قریب تھا کہ میں چکراتے سر کے ساتھ بے ہوش ہوجاتی کہ ایک مسیحا کا نزول ہوا۔ شلوار قمیض پہنے، سر پہ ٹوپی، سیاہ داڑھی اور بڑا شفیق سا چہرہ۔

"کیا بات ہے بھائی؟ یہ سامان کیوں بکھرا پڑا ہے، یہ چیخ و پکار کیسی ہے ؟ "

لوگوں نے سارا ماجرا کہہ سنایا۔ اس شفیق انسان نے مالک مکان سے کچھ بات کی اور چلا گیا، تھوڑی دیر میں ہی واپس آتا دکھائی دیا۔ اس نے مالک مکان کو اس کی مطلوبہ رقم دی اور انہی لڑکوں نے ہمارا سب سامان اٹھا کر اندر رکھنا شروع کردیا۔

مجھ پر تو ایک سکتے کی سی کیفیت طاری تھی۔ سمجھ میں نہیں آرہا تھا اس پاک ذات کا کیسے شکر ادا کروں؟ وہ مسیحا جنہیں دوسرے لوگ نصیر بھائی کہہ کر پکار رہے تھے اسی گلی کے آخری کونے پر رہتا تھا۔ اس نے اشارے سے اپنا گھر دکھایا اور ہر ممکن مدد کا وعدہ کیا، میرے بچوں سے پوچھنے لگا بیٹے آپ لوگوں نے ناشتہ کیا؟

بچے خاموش سر جھکائے کھڑے رہے۔ چھوٹی بیٹی تو باقاعدہ گردن ہلا کر زور زور سے انکار کرنے لگی۔ وہی مسیحا پھر دوبارہ گھر گیا اور کچھ سرخ نوٹ اور کھانے پینے کی چیزیں دے گیا۔ میرے بچوں نے کئی دن بعد پیٹ بھر کے کھانا کھایا تھا۔ میرا رواں رواں اس شخص کے لیے دعا گو تھا۔ میرے بچے بڑی محبت اور احسان مندی کے ساتھ اسے جاتا دیکھ رہے تھے۔

وہ دن ہے اور آج کا دن ہے۔ وہ لوگ ہمارا بہت خیال رکھتے ہیں، میرے شوہر کے کام کاج میں بھی اکثر مدد کرتے ہیں۔ لیکن شوہر کا وہی پرانا دستور ہے، چند دن نوکری اور پھر کام چھوڑ دینا۔ مگر وہ لوگ ہر مشکل میں ہمارے ساتھ ہوتے ہیں، اس مسیحا کی بیگم بھی بہت نرم دل اور بااخلاق ہیں۔ کبھی کبھی میں ان کے پاس چلی جاتی ہوں۔ مجھے دین کی باتیں بھی سکھاتی ہیں۔ جو کچھ گھر میں پکاتی ہیں کچھ نہ کچھ روزانہ ہی بھیج دیتی ہیں۔ جب کبھی مجھے ضرورت ہوتی ہے تو اپنی بچی ان کے گھر بھیج دیتی ہوں اور وہ خود ہی سمجھ جاتی ہیں۔ کچھ پیسے، کھانا وغیرہ دے دیتی ہیں۔ مکان کا کرایہ، بچوں کی فیسیں، گیس و بجلی کے بل، عید، بقرعید کے خرچے۔ وہ ہر چیز میں ہر موقع پر ہمارا خیال رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی ان کی نیکیوں کا بدلہ دے۔ ہم کیا دے سکتے ہیں سوائے دعاؤں کے؟

مگر میں کیا بتاؤں مجھے کیسی شرمندگی محسوس ہوتی ہے، جب میں اپنی بچی کو کسی ضرورت سے ان کے گھر بھیجتی ہوں۔

میں کیسے کسی کو اپنے دل کے زخم دکھاؤں؟ مجھے کیا لگتا ہے… کیا میں اپنی اولاد کو بھکاری بنا رہی ہوں؟ میری معصوم شہزادیوں کی سی آن بان والی بیٹی، جب کچھ لاکے میرے ہاتھ پہ رکھتی ہے، میرے دل میں ایک ہوک سی اٹھتی ہے میں اس کرب کو لفظوں میں بیان نہیں کر سکتی۔ اللہ کی قسم کوئی میرے دل کے درد کا اندازہ نہیں لگا سکتا، کلیجہ کٹتا ہے میرا… صبر کے گھونٹ بھر کے رہ جاتی ہوں کہ یہ بس آزمائش کے دن ہیں، گزر جائیں گے۔

وہ جو میرا شوہر ہے، میری زندگی کا ساتھی ہے، میرے دکھ سکھ سے اسے کوئی غرض نہیں۔ میں کس کے سامنے روؤں اپنے دل کے دکھڑے ؟ میرے احساسات کی تپش کسی تک نہیں پہنچتی۔

میری بس ایک گزارش اپنے ان بھائیوں سے جو کام کاج میں دل چسپی نہیں لیتے، خدارا! کسی کی امداد کے سہارے نہ رہیں۔ اللہ نے ہاتھ پاؤں دیے ہیں کما کر کھائیں، سر اٹھا کے جئیں اور اپنے بیوی بچوں کی عزت نفس اور خود اعتمادی کو بھی ٹھیس نہ لگنے دیں۔ کوئی کام چھوٹا نہیں ہوتا، حلال کمانے والے سب اللہ کے دوست ہیں۔

Comments

ام محمد سلمان

کراچی میں مقیم اُمِّ محمد سلمان نے زندگی کے نشیب و فراز سے جو سبق سیکھے، ایک امانت کے طور پر دوسروں کو سونپنے کے لیے قلم کو بہترین ساتھی پایا۔ اُن کا مقصد ایسی تحاریر لکھنا ہے جو لوگوں کو اللہ سے قریب کریں اور ان کی دنیا و آخرت کی فلاح کا سبب بنیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.