زینب میری بچی میری بیٹی - زبیر منصوری

خدا کی قسم میں کچھ نہیں لکھ پا رہا تھا
میں نے فیصلہ کیا تھا، اس پر لکھوں گا نہ کسی کا لکھا کچھ پڑھوں گا
میں ہر بار تیزی سے اسکرول کر کے اس کی تصویر پر سے گزر جاتا رہا
عامر ہزاروی! میں تمھارا جملہ پورا نہیں پڑھ سکا
فیض اللہ! میں تمھاری زہر مین بجھی لائنیں پوری نہیں پڑھ سکا
مگر میں کتنا بچ سکتا تھا؟
آخر کتنا؟

وہ ہر بار آتی اور گزر جاتی مگر پھر مجھے اپنے آفس کے بند کمرے میں اچانک یوں لگا جیسے وہ میرے موبائل کی اسکرین سے نکلی اور میری گود میں بیٹھ گئی
اس نے فرشتوں جیسی معصومیت سے یوں منہ اٹھا کر مجھے دیکھا اور بولی
"پیارے انکل جی!
میرے لیے آپ کے پاس کچھ الفاظ بھی نہیں ہیں؟
اور میں آنسوؤں سے رو پڑا
میں نے بے اختیار اسے چمٹا لیا، وہ اپنے ننھے ہاتھوں سے میرے آنسو پونچھنے لگی،
بولی، انکل آپ روئیں نہیں، یہ آنسو بہت قیمتی ہیں، بس کسی سے پوچھ کر بتا دیں کہ مجھے کیوں مارا گیا؟
میری تو گڑیا کی شادی تھی، اور بابا میرے لیے کھلونے لینے گئے تھے، میں نے ڈاکٹر بننا تھا.
میری بچی، میری پیاری، میرے بیٹی!
بس کر دو بس کر دو، یہ کہہ کر میں نے اسے پھر لپٹا لیا، میں اسے مزید نہیں سن سکتا تھا.

یارو میں مزید کچھ لکھ بھی نہیں سکتا،
یارو آپ اپنے اپنےبڑوں کو بچانے اور دوسروں کے بڑوں کو رگیدنے میں لگے رہو.
مجھے معلوم ہے، میری زینب کے دکھ کا علاج کسی کے پاس نہیں ہے،
معاشرے میں کتے کھلے چھوڑ دیے گئے ہیں، پتھر باندھ دیے گئے ہیں،
شہباز شریف جیسے بہروپیے ڈرامہ بازی کی داد لے رہے ہیں،
تبدیلی والے گھر بنا و بگاڑ رہے ہیں،
دین دار چھوٹے سے بڑے پریشر گروپ بن جانے کی تگ و دو میں ہیں،
آزاد خیال اپنی دنیا میں مگن ہیں
ایسے میں ہم اور کیا کہیں!


...........................
زینب میری بچی!
اللہ جی کے حضور پہنچو گی
تمہاری حالت دیکھ کر ان کا جلال بھڑک ُاٹھے گا
آقا صلی اللہ علیہ وسلم تمھاری حالت دیکھ کر رو پڑیں گے،
تمھیں پیار سے چمٹا لیں تو ادب سے اجازت لینا اور عرض کرنا
میرے مولا
میرے آقا
وہاں آپ کی دنیا بہت گندی جگہ بن چکی ہے، اور اس کی وجہ بروں کی برائی سے زیادہ اچھوں کی خاموشی ہے

میری بچی میری پیاری!
اس اعلی عدالت میں کہہ دینا
اللہ جی! میرے شہر اور میرے ملک کی مسجدیں بھری ہوئی ہیں
اللہ جی! میں روز سینکڑوں ہزاروں انکلوں اور بھائیوں کو ٹوپی پہنے مسجد جاتے دیکھتی تھی،
میرا شہر روزے بھی رکھتا تھا،
ہر سال یہاں سے سینکڑوں حاجی بھی جاتے تھے
اور کروڑوں کے صدقہ بھی دیے جاتے ہیں
مگر
اللہ جی! یہ سب لوگ کسی ایسے قانون بنانے کے لیے جدوجہد نہیں کرتے تھے، جس سے درندے اور کتے مارے جا سکیں
اللہ جی! ان سب انکلوں کے گھر میں میڈیا چینلوں پر ساحر لودھی جیسے بےحمیت لوگ معاشرے کو بھیڑیا بنانے میں لگے ہوئے تھے، مگر کوئی انکل ان کے خلاف کچھ کرنے کو تیار نہیں تھے
اللہ جی ووٹ مانگنے والے انکل بھی جھوٹے تھے، انھیں مجھے بچانے کی کوئی فکر نہیں تھی، ان کی اپنی بیٹی گارڈز کے ساتھ اسکول جاتی تھی مگر میرے ابو تو گارڈ نہین رکھ سکتے تھے نا

آقا جی!
میرے محلے میں بھی نعتیں پڑھی جاتی تھیں مگر پھر سب کھانا کھا کر چلے جاتے تھے،
کوئی بھی سب کو بچوں سے پیار کرنا نہیں سکھاتا تھا
آقاجی!
میرے اسکول میں بھی ہمیں اردو انگلش پڑھائی جاتی تھی، کسی ٹیچر نے ہمیں کبھی بتایا ہی نہیں کہ گندے گندے انکلوں سے کیسے بچنا ہے؟
اللہ جی! جب انھوں نے میرا گلا دبایا تو مجھے بہت سخت درد ہوئی، میں بہت چیخی
میں نے کہا انکل پلیز مجھے چھوڑ دیں، مجھے امی پاس جانا ہے، مگر انہوں نے مجھے نہیں چھوڑا
اللہ جی! وہاں میری بہت سی اور فرینڈز ہیں، آپ پلیز ان کو بچا لیجیے، وہاں بہت برے لوگ ہیں
پیارےاللہ جی،
پیارے آقا جی!

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.