خلقتِ شہر تو کہنے کہ فسانے مانگے - رومانہ گوندل

اس دور میں ہر انسان پریشان ہے اور پریشانی کی سب سے بڑی وجہ آس پاس کے لوگوں کا رویہ ہے جو حوصلہ شکنی کرتے ہیں، ہر کام پہ، چاہے صحیح ہو یا غلط تنقید ہی کرتے ہیں ایسے رویے پریشان اور مایوس کر دیتے ہیں اور بہت سارے لوگ ایسی باتوں کی وجہ سے اپنی ذات پہ اعتماد کھو دیتے ہیں، بغیر کوشش کے نا کامی کا یقین کر لیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے دل میں پوری دنیا کو بدلنے کی خواہش لے کے در حقیقت کچھ بھی نہیں کر پاتے اور ساری زندگی جلتے کڑھتے گزار دیتے ہیں۔ لیکن ساری دنیا کو بدلا نہیں جا سکتا اور اس کی ضرورت بھی نہیں ہے بس تھوڑا ساسوچ کا انداز بدل جائے ، تو زندگی خود بخود بدل جاتی ہے۔

تندی بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

یہ تو چلتی ہے، تجھے اونچا اڑانے کے لیے

حضرت ابراہیمؑ خلیل اللہ بنے کیونکہ انہوں نے بت پرستی کے اس دور میں توحید کا اعلان کیا، نمرود جیسے شخص کے سامنے کلمہ حق کہا۔ حضرت موسیٰؑ اللہ کے بہت لاڈلے پیغمبر بنے لیکن ان کا دور ایک مشکل ترین دور تھا جس میں انہوں نے فرعون جیسے متکبر شخص کے سامنے حق کی دعوت دی اور ہر مخالفت کے سامنے ڈٹ کے کھڑے رہے اس لیے عرش عظیم کا مالک اللہ رب العزت قرآن میں بار باران کا ذکر کرتے ہیں، کہ یاد کرو موسیٰؑ کو۔

محمد بن قاسم کے سامنے ایک راجا داہر تھا ، جس کے خلاف وہ سترہ سال کی عمر میں لڑے اور آج کتنی صدیاں گزر جانے کے بعد بھی ان کا ذکر باقی ہے۔ قائد اعظم بانی اس لیے کہلاتے ہیں کیونکہ انہوں نے تمام سازشوں کو نا کام بنا کے آزادی حاصل کر لی۔ دنیا کے ہر ہیرو کے سامنے ایک ولن ہوتا ہے اور اس ولن کی موجودگی ہی ثابت کرتی ہے کہ وہ ہیرو ہے۔

اگر آپ بھی ہیرو بننا چاہتے ہیں تو اپنے ارد گرد کے لوگوں کے برے رویے اور مخالفت سے گھبرانا اور بیٹھ کے رونا چھوڑ دیں۔ در اصل وہ آگے بڑھنے کا بہترین جذبہ دے رہے ہیں۔ اب یہ آپ کا فیصلہ ہے کہ بیٹھ کے روتے رہیں یا پھر آگے بڑھ کے اس مخالفت کا مثبت جواب دیں۔ رونا کسی کو قائل نہیں کرے گا کہ آپ کے اندر کتنی صلاحیتیں ہیں ، آپ کا کام اور ترقی قائل کرے گی ۔

صلاحیت اور مخالفت ہر کسی کے پاس ہوتی ہے جو صلاحیت کو دیکھتا ہے اور اس کا مثبت استعمال کر کے منفی رویوں اور سوچوں کو دبا دیتا ہے وہ ہیرو بن جاتا ہے اور جو لوگ منفی باتوں کی وجہ سے اپنی صلاحیتوں کو ضائع کر دیتے ہیں وہ ساری زندگی باتیں ہی برداشت کر تے رہتے ہیں اور پھر اپنی کمزوری کا الزام دوسروں کو دیتے رہتے ہیں۔ اپنی کمزوریوں کا الزام دوسروں کو دیتے رہنا ایک اور کمزوری ہے اس لیے سب سے پہلے اس پہ قابو پائیں۔لوگوں کی باتوں سے پریشان ہونا چھوڑ دیں کیونکہ لوگوں کا کام ہے باتیں کرنا وہ کرتے رہیں گے۔

ہم نہ ہوتے ،تو کسی اور کے چرچے ہوتے

خلقتِ شہر تو کہنے کو فسانے مانگے

ہم لوگوں کو باتیں کرنے سے نہیں روک سکتے، لیکن ہم یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ لوگ ہمارے بارے میں کیا باتیں کریں گے۔ مو ضوع ہمیشہ ہم دیتے ہیں ۔ اپنی کامیا بی اور ناکامی کے ذمہ دار ہم خود ہوتے ہیں۔ لوگوں کی باتوں میں اتنا دم نہیں ہوتا کہ وہ ہمیں کچھ کرنے سے روک سکیں ہم ان کو اپنے اوپر سوار کر کے ایک رکاوٹ بنا لیتے ہیں۔ اس رکاوٹ سے لڑنا سیکھیں کیونکہ کامیابی ہمیشہ لڑنے والے ہی حاصل کرتے ہیں۔ دور سے ڈر جانے والے کبھی فاتح نہیں بنتے۔