بابا قائداعظم کی خدمت میں- سہیل وڑائچ

اے میرے بابا! دست ِ دعا دراز ہے، چشم پرنم ہے، دل پرسوز ہے، تیرے ملک پرعجب مشکل وقت آن پڑا ہے۔ ہر طرف دکھ ہے، مایوسی ہے، بیرونی دبائو ہے، اندرونی خلفشار ہے، ذہنوں میں انتشار ہے اور قیادت الجھن کا شکارہے۔ بابا! میری آخری عدالت آپ ہیں۔ میری آخری اپیل آپ کے پاس ہے۔ آپ پاکستان کی واحد متفقہ علامت ہیں۔ آپ ہی کوئی حل دیں، آپ ہی کوئی فیصلہ سنائیں کہ آپ نے ملک بنانے اور چلانے کے وقت جووژن دیا تھا وہی پھر سے جاری و ساری ہو...

بابا جی! قیام پاکستان کے بعد آپ کو بہت ہی کم وقت ملا مگر آپ نے بہت سی بنیادی باتیں طے کردیں۔ آپ نے ملک میں پارلیمانی نظام رائج کرکے اس بحث کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیا کہ صدارتی یا بادشاہی نظام اس ملک کے لئے موزوں ہوں گے۔ بیوروکریسی اور فوج کو سیاست سے دور رہنے کے بارے میں واضح احکامات جاری کئے۔ سیاستدانوں کو کرپشن اور اقربا پروری سے دور رہنے کی ہدایت کی۔ افسوس کہ آپ کی ان ہدایات کو نظرانداز کرکے پہلے ملک غلام محمد، چوہدری محمد علی اور اسکندر مرزا جیسے بیوروکریٹس نے حکومت سنبھالی اور پھر یکے بعد دیگرے ایوب خان اور دوسرے فوجی جرنیلوں نے آپ کے جمہوری خواب کو تارتار کرکے رکھ دیا۔ اے میرے بابا! آپ کی کرشماتی شخصیت نے مسلم ہندوستان کو متحد کردیا تھا۔ اب بھی کوئی ایسا جادو کریں، کوئی ایسی دعا یا دوا کریں کہ ہم آپ کےطے کردہ اصولوں کے مطابق فلاحی ریاست بنا سکیں۔

بابا جی! آپ بڑے دور اندیش اور دوربین تھے۔ سلطنت برطانیہ کا قیام پاکستان کے وقت عروج تھا مگر آپ بھانپ گئے کہ یہ تو اس کا دور ِ غروب ہے۔ اس لئے آپ کی نظر امریکہ کے ساتھ تعلقات پر تھی اور آپ نے وہاں ایم ایچ اصفہانی کو بطور سفیر بھیجا تو میرلائق علی کو خصوصی ایلچی کے طور پربھیجا۔ آپ ہی نے پاکستان کی پہلی خارجہ پالیسی تشکیل دی۔ اسلامی ممالک کےساتھ دوستی، مسئلہ فلسطین کی حمایت اور اسی طرح کشمیر کو شہ رگ قراردینا، یہ سب آپ ہی کےآئیڈیاز تھے۔ افغانستان کی اندرونی لڑائی میں الجھنا اور غیرریاستی جہادی تنظیموں کا قیام آپ کے بعد کے بزرجمہروں کے آئیڈیاز تھے جو بری طرح ناکام ہو رہے ہیں۔ کاش آپ زندہ ہوتے اور اپنی نحیف مگر رعب دار آواز میں ریاست کو مشکل میں ڈالنے والوں کو منع کرتے اور ریاست کو دوبارہ سے سیدھے راستے پر ڈالتے۔

اے میرے اصلی بابا! آپ فرقہ واریت کے سخت خلاف تھے اور خود آپ کی زندگی آپ کے قول کی گواہ تھی۔ آپ اسماعیلی شیعہ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ مگر بعد ازاں اثنا عشری شیعہ ہوگئے۔ آپ نے بہنوں کی شادیاں سنی میمن گھرانوں میں کیں۔ آپ نے خود پارسی لڑکی کو مسلمان کرکے سنی عالم دین سے نکاح پڑھوایا۔ گویا آپ فرقہ واریت سے بالاتر تھے مگر آپ کے پاکستان میں ہر طرف فرقہ واریت کا دور دورہ ہے۔ آپ عام اور سادہ مسلمان تھے مگر ہندوستان میں مسلم مسئلے کا حل نہ تو مسلمانوں کے مذہبی امام الہند سمجھ سکے اور نہ ہی شیخ العرب و العجم باور کرسکے۔ یہ سمجھے تو صرف آپ۔ عام مسلمان ہوتے ہوئے بھی آپ نے ہی کامیاب حل بتایا۔ اے بابا! آپ ہی ہمارے لئے دعا کریں کہ ہمیں کسی ایسے عام مسلمان کی قیادت ملے جو ہمیں آپ کی طرح فرقہ واریت کے عفریت سے بچاکر قومی وحدت کی لڑی میں پرو دے۔

اے میرے بابا! آپ اور علامہ اقبال دنیا کے وہ پہلے مسلمان تھے جنہوں نے ببانگ ِ دہل یہ کہا کہ پاکستان اسلام کی لیبارٹری ہوگا اور پاکستان میں اسلام اور جمہوریت کو ملا کر چلایا جائے گا اور یوں پاکستان دنیا کی پہلی ریاست تھی جس میں اسلام اور جمہوریت کے ملاپ سے آئین بنائے گئے۔مگر افسوس کہ بابا آپ کے جانے کےبعد اسلام اور جمہوریت اصلی اور جعلی دونوں طرح کے خطرات سے دوچار ہے۔ چاربار مارشل لا لگا، قومی اتحاد سمیت اسلام کے نفاذ کی کئی تحریکیں چلیں اور اب 17جنوری سے ایک نئی تحریک شروع ہو رہی ہے۔ اےبابا! مجھے گلہ ہے کہ آپ ہمیں سمجھا نہیں سکے کہ ہم ہڑتالیں، جلوس اور دھرنے ذرا کم کردیں۔ آئے روز کا یہ پرتشدد رویہ ہمیں کہاں پہنچائے گا۔ باباجی! آپ نے تو پرامن سیاست کی۔

ایک باربھی گرفتار نہیں ہوئے۔ ہمیشہ قانون کی پابندی کی۔ آپ یہی ہدایت ہم سب کوکیوں نہیں کرتے؟
باباجی! آپ آزادی ٔ صحافت کے قائل تھے۔ ’’بمبئے نیوز کرانیکل‘‘ کے ایگزیکٹو بورڈ کے صدرتھے، ’’ڈان‘‘ کے بانی تھے، ’’جنگ‘‘ اور ’’نوائے وقت‘‘ بھی آپ سے متاثرہوکر نکالے گئے مگر آپ کے ملک میں کچھ طاقتیں صحافت کا گلا گھونٹنا چاہتی ہیں۔ آپ توکہتے تھے "Press and Nation rise and fall together." یعنی پریس اور قوم دونوں اکٹھے عروج پاتے اوراکٹھے ہی زوال پذیر ہوتے ہیں۔ مگر یہاں میڈیا کی آزادی کو برداشت ہی نہیں کیا جارہا۔ بابا ! اے کاش ہماری قوم آپ کی تعلیمات پر عمل کرتی تو اب تک فلاح پا جاتی مگر صد افسوس ہم سب زبانی طور پر تو آپ کو مانتے ہیں مگر عملی طور پر ہماری خواہشات اور عزائم آپ کی تعلیمات پر عمل کے آڑے آ جاتے ہیں۔

اے میرے بابا! آپ کے بعد ہم 1971میں پاکستان کے مشرقی بازو سے محروم ہو گئے۔ صوبوں کے ساتھ انصاف نہ کرسکے تو فیڈریشن ٹوٹ گئی۔ اب بھی چاروں صوبوں کو فیڈریشن اور اسٹیبلشمنٹ سے گلے ہیں۔ اے بابا! آپ زندہ ہوتے تو زیادتی کرنے والوں کو سمجھاتے، مظلوموں کو انصاف دلاتے اور یوں فیڈریشن بہتر طور پر چلتی۔

اے میرے بابا! آپ عدلیہ کا بہت احترام کرتے تھے۔ پہلے چیف جسٹس سر عبدالرشید کو آپ کاذاتی احترام حاصل تھا۔ آپ کی وفات کے بعد عدلیہ نے نظریہ ٔ ضرورت ایجاد کیا، جوڈیشل ایکٹوازم رائج کیا، مارشل لائوں کوجائز قرار دیا، اسمبلیاں توڑنے کی تصدیق کی، ایک وزیراعظم کو پھانسی دی اورباقیوں کو کبھی انصاف نہ ملا۔ اب عدلیہ اسپتالوں اور صاف پانی کو ٹھیک کرنا چاہتی ہے۔ باباجی! آپ ہوتے تو عدالتی نظام میں اصلاحات کرتے۔ عدل و انصاف کے ایوانوں میں انصاف کے نام پر جو بڑے ظلم ہوئے ہیں، آپ ان کا پردہ ضرورچاک کرتے۔ اے میرے پیارے بابا! آپ فاضل جج صاحبان کو ان کا کوڈ آف کنڈکٹ پڑھنے کا درس ضرور دیتے اور یوں شاید معاشرے میں ان کی عزت بڑھانےمیں مددگار ثابت ہوتے۔

اے میرے اصلی تے وڈّے بابا! ان دنوں آپ کے پاکستان میں ذاتی انتقام اور اداروں میں برتری کی لڑائی جاری ہے۔ ہر کوئی کہتا ہےکہ وہی بڑاہے اور اسے ہی سب اختیارحاصل ہیں۔ حالانکہ آپ تو گورنر جنرل بنے تھے اور وزیراعظم کا عوامی عہدہ لیاقت علی خان کے سپرد کیا تھا۔ کیا اسی طرح یہاں آئین کے مطابق اختیارات کی تقسیم نہیں ہوسکتی؟ پوری دنیا میں وزیراعظم یاصدر کا سیاسی عہدہ ہی تمام فیصلوں کو حتمی شکل دیتا ہے۔ باقی ادارے اس کو مشورے دیتے ہیں، بریفنگ دیتے ہیں لیکن وہ اپنے طور پر ملکی فیصلے نہیں کرسکتے۔ اے میرے بابا! کوئی ایسی کرامت ،کوئی ایساانوکھا حکم کردیں کہ چھومنتر کی طرح سب ٹھیک ہوجائے۔