مولانا وحید الدین خان؛ افکار و نظریات - حافظ محمد زبیر

مولانا وحید الدین خان صاحب کی تحریروں کے بالاستیعاب مطالعہ کے بعد اُن کے دعوتی اور علمی کام کو آسانی کی خاطر پانچ حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

1- تذکیر و نصیحت:
خان صاحب کی تحریروں میں تذکیر کا پہلو غالب اور نمایاں طور موجود ہے۔ چھوٹی اور عام سی بات سے بھی نصیحت کا پہلو نکال لینے میں انہیں کمال حاصل ہے۔ خان صاحب لکھتے ہیں:
’’ایک امریکی خاتون سیاحت کی غرض سے روس گئیں۔وہاں انھوں نے دیکھا کہ ہر جگہ کمیونسٹ پارٹی کے چیف کی تصویریں لگی ہوئی ہیں۔ یہ بات انھیں پسند نہیں آئی۔ ایک موقع پر وہ کچھ روسیوں سے اِس پر تنقید کرنے لگیں۔ خاتون کے ساتھی نے اُن کے کان میں چپکے سے کہا: ’’میڈیم آپ اِس وقت روس میں ہیں‘ امریکہ میں نہیں ہیں‘‘۔ آدمی اپنے ملک میں اپنی مرضی کے مطابق رہ سکتا ہے ۔ لیکن اگر وہ کسی غیر ملک میں جائے تو وہاں اُس کو دوسرے ملک کے نظام کی پابندی کرنی پڑے گی۔ اگر وہ وہاں کے نظام کی خلاف ورزی کرے تو مجرم قرار پائے گا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ وسیع تر معنوں میں دنیاکا ہے‘ انسان ایک ایسی دنیا میں پیدا ہوتا ہے جس کو اُس نے خود نہیں بنایا ہے۔ یہ مکمل طور پر خدا کی بنائی ہوئی دنیا ہے۔ گویا انسان یہاں اپنے ملک میں نہیں ہے بلکہ خدا کے ملک میں ہے۔‘‘ (آخری سفر: ص 5)

2- ردّ عمل کی نفسیات:
خان صاحب کی فکر ردّ عمل کی نفسیات (Psychology of Reaction) پر قائم ہے اور یہ ردعمل اسلام کے سیاسی تصور، معاصر اسلامی تحریکات اور متنوع مذہبی طبقات کا ہے۔ خان صاحب لکھتے ہیں:
’’کچھ لوگ اسلام کا جامع تصور پیش کر رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اسلام ایک مکمل نظام ہے۔ اسلام میں صرف عقیدہ اور عبادت اور اخلاق شامل نہیں ہیں‘ بلکہ پولیٹکل سسٹم بھی اس کا لازمی جز ہے۔ پولیٹکل سسٹم کو قائم کیے بغیر اسلام ادھورا رہتا ہے، وہ مکمل نہیں ہوتا۔ یہ بظاہر اسلام کا جامع تصور ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک تخریبی تصور ہے۔‘‘ (صبح کشمیر: ص 32)

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
’’جہاں تک زمین پر سیاسی غلبہ کا معاملہ ہے، اس کا تعلق تمام تر اللہ تعالیٰ سے ہے۔ قرآن مجید کے مطابق، زمین پر سیاسی غلبہ کا فیصلہ براہ راست اللہ کی طرف سے ہوتا ہے‘ اور وہ اُسی کو ملتا ہے جس کے لیے اللہ نے اُس کا فیصلہ کیا ہو (24:3)۔ اِس سے معلوم ہوا کہ سیاسی نظم کے قیام کو نشانہ بنا کر عمل کرنا‘ ایک مبتدعانہ عمل ہے۔ وہ دین کے نام پر بے دینی ہے۔ وہ اسلام کے نام پر اسلام سے انحراف کرنا ہے۔ اِس قسم کی کوشش کو کبھی بھی خدا کی نصرت نہیں ملے گی، اِس لیے ایسی کوشش کبھی کامیاب ہونے والی نہیں۔‘‘ (ایضاً: ص 33)

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
’’موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی تمام بڑی بڑی تحریکیں حیرت انگیز طور پر انتہائی ناکامی کا شکار ہوئی ہیں۔مسلمان جب بھی کوئی تحریک اٹھاتے ہیں تو خدا اُن کے گھروندے کوٹھوکر مار کر گرا دیتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اُن کی یہ تمام سرگرمیاں خدا کی نظر میں بالکل نامطلوب ہیں۔ اِس بنا پر وہ اُن کو حرفِ غلط کی طرح مٹا رہا ہے۔‘‘ (راہ عمل: ص 110)

مذکورہ بالا عبارات بتا رہی ہیں کہ جذبات میں ٹھہراؤ اور اطمینان نہیں ہے اور اختلاف کے اظہار میں ردعمل کی نفسیات واضح طور محسوس ہو رہی ہیں۔

3- تجدد:
خان صاحب کے افکار ونظریات میں تجدد پسندی (Modernity)کی طرف میلانات اور رجحانات بہت زیادہ پائے جاتے ہیں اور صحیح معنوں میں اُن پر لفظ متجدد اس اعتبار سے صادق آتا ہے کہ اُنہوں نے دین کے بنیادی تصورات کی اَز سر نو ایسی تعبیر وتشریح پیش کی ہے جو اُن سے پہلے کسی نے نہیں کی اور وہ نہ صرف اِس بات کو تسلیم کرتے ہیں بلکہ اپنے لیے اِس میں فخر بھی محسوس کرتے ہیں۔

خان صاحب لکھتے ہیں:
’’پچھلے ہزار سال میں مسلمانوں کے درمیان جو لٹریچر تیار ہوا، اُس میں سب کچھ تھا، مگر اُس میں دو چیز مکمل طور پر حذف تھی اور اور وہ ہے دعوت اور اَمن کا تصور۔ اِس کے بعد جب مغربی طاقتوں نے مسلم ایمپائر کو توڑ دیا تو اِس کے خلاف رد عمل کی بنا پر یہ ذہن اور زیادہ پختہ ہو گیا۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بیسویں صدی عیسوی پوری کی پوری، منفی سوچ اور منفی سرگرمیوں کی نذر ہو گئی۔ اِس پوری صدی میں نہ دعوت کا پیغام لوگوں کے سامنے آیا اور نہ اَمن کا پیغام، جب کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ راقم الحروف پر اللہ تعالیٰ نے استثنائی طور پر دعوت اور اَمن کی اہمیت کھولی۔‘‘ (ماہنامہ الرسالہ: جولائی 2010ء‘ ص۲ 23-24)

اب اُن کے اِس تصورِدعوت اور اَمن کی بھی ذرا سی جھلک ملاحظہ فرمائیں جو اُن کے بقول مسلم دنیا کی ایک ہزار سالہ تاریخ میں نہیں ملتا ۔ خان صاحب لکھتے ہیں:

’’11 نومبر 2001ء میں نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کو توڑنے کا مشہور واقعہ پیش آیا۔ اِس واقعے کے بعد امریکا غضب ناک ہو گیا۔ اُس نے عراق اور افغانستان کے خلاف براہ راست طور پر اور پوری دنیا کے خلاف بالواسطہ طور پر ایک انتقامی جنگ چھیڑ دی۔ اِس جنگ میں نام نہاد جہاد کے اَکابر رہنما یا تو مارے گئے یا وہ خاموش ہو گئے۔ امریکا کا یہ آپریشن اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک خدائی آپریشن تھا۔ اِس نے اُن تمام طاقتوں کو زیر کر دیا جو اَمن اور دعوت کے مشن کے خلاف محاذ بنائے ہوئے تھے۔‘‘ (ماہنامہ الرسالہ:جولائی 2010ء‘ ص 24)

4- تنقیص:
خان صاحب نے اپنے ماسوا تقریباً ہر دوسرے بڑے عالم دین پر نقد کی ہے اور ان کی نقد تعمیری (Constructive Criticism) نہیں ہے بلکہ تنقیص (reproach and denunciation) کی ایک صورت ہوتی ہے۔ خان صاحب لکھتے ہیں:
’’اگر میں یہ کہوں تو مبالغہ نہ ہو گا کہ میں پیدائشی طور پر ایک تنقید پسند آدمی ہوں۔‘‘ (وحید الدین خان‘ علماء اور دورجدید‘ ماہنامہ الرسالہ‘ نیو دہلی‘ 1992ء‘ ص 66)

ایک ہے کہ ضرورت کے تحت تنقید کرنا اور یہ ایک ناگزیر اَمر اور معاشرتی ضرورت ہے۔ جبکہ ’تنقید پسند ہونا‘ ایک دوسری بات ہے جو ہمارے خیال میں بہرطور درست نہیں ہے۔ اِس ترکیب میں ’پسند‘ کا لفظ بھی قابل غور ہے۔ خان صاحب ایک اور جگہ علماء کی عیب جوئی کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے علماء مغربی افکار کو سرے سے جانتے ہی نہیں...علماء اگر مغربی فکر کو گہرائی کے ساتھ سمجھتے تو اُس کو اپنے لیے عین مفید سمجھ کر اُس کااستقبال کرتے۔ مگر سطحی معلومات کی بنا پر وہ اِس کے مخالف بن گئے اور اِس کا مذاق اڑانے لگے۔‘‘ (ایضاً: ص 41-42)

ایک اور جگہ اہل علم پر الزام دھرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’علماء کی دور جدید سے بے خبری کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ایسا لٹریچر تیار نہ کر سکے جو جدید ذہن کو مطمئن کرنے والا ہو۔ شاہ ولی اللہ سے لے کر سید قطب تک، میرے علم کے مطابق، مسلم علماء کوئی ایک کتاب بھی ایسی تیار نہ کر سکے جو آج کے مطلوبہ معیار پر پوری اترتی ہو۔‘‘ (ایضاً: ص 45)

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
’’سو سال سے بھی زیادہ مدت سے یہ بات کہی جا رہی ہے کہ ہمیں دور جدید کے علماء کی ضرورت ہے، یعنی ایسے علماء جو علوم دینیہ کی تحصیل کے علاوہ وقت کے علوم کی بھی تعلیم حاصل کریں۔ اِس طرح ایسے علماء تیار ہوں جو قدیم و جدید دونوں سے واقف ہوں تا کہ وہ عصر حاضر کے مطابق‘ اسلام کی خدمت انجام دے سکیں...ایسے لوگوں کی فہرست ہزاروں میں شمار کی جا سکتی ہے جو دونوں قسم کی تعلیم سے بہرہ ور ہوئے، مگر وہ ملت کی مطلوب ضرورت پورا نہ کر سکے۔ مثال کے طور پر چند نام یہاں لکھے جاتے ہیں۔ مولانا حمید الدین فراہی، مولانا سعید احمد اکبر آبادی، ڈاکٹر یوسف القرضاوی، پروفیسر مشیر الحق، ڈاکٹر عبد الحلیم عویس، ڈاکٹر عبد اللہ عباس ندوی، مولانا محمد تقی عثمانی، پروفیسر محمد یاسین مظہر صدیقی، پروفیسر محمد اجتبا ندوی، پروفیسر محسن عثمانی، پروفیسر ضیاء الحسن ندوی، ڈاکٹر عبد الحلیم ندوی، ڈاکٹر اشتیاق احمد ظلی، ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی، ڈاکٹر سعود عالم قاسمی وغیرہ... میں نے ذاتی طور پر اِس قسم کے علماء کی تحریریں پڑھی ہیں، مگر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اُن سب کی تحریریں قدیم روایتی مسائل کی جدید تکرار کے سوا اور کچھ نہیں۔‘‘ (ماہنامہ الرسالہ: مارچ 2007ء‘ ص 4-5)

5- اختیال:
خان صاحب کی تحریروں سے یہ واضح طور محسوس ہوتا ہے کہ اُن کے خیالوں میں اُن کی اپنی عظمت اور بڑائی اِس قدر رَچ بس گئی ہے اور وہ نرگسیت (Narcissism) کا شکار ہیں۔خان صاحب لکھتے ہیں:

’’اَصحابِ رسول کی حیثیت ایک دعوتی ٹیم کی تھی۔ یہ ٹیم ڈھائی ہزار سالہ تاریخ کے نتیجے میں بنی۔ اِس کا آغاز اس وقت ہوا جب ہاجرہ اور اسماعیل کو خدا کے حکم سے صحرا میں بسا دیا گیا... سی پی ایس کی ٹیم کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ اَصحابِ رسول کے بعد تاریخ میں ایک نیا عمل شروع ہوا۔ اِسی عمل کا کلمنیشن (culmination) سی پی ایس [مولانا وحید الدین خان] کی ٹیم ہے...گویا اَصحابِ رسول اگر قدیم زمانے میں ڈھائی ہزار سالہ تاریخی عمل کا کلمنیشن تھے توسی پی ایس [مولانا وحید الدین خان] کی ٹیم بعد کے تقریبا ڈیڑھ ہزار سالہ عمل کا کلمنیشن ہے۔ اَصحابِ رسول کے بعد بننے والی طویل تاریخ کے تمام مثبت عناصر سی پی ایس [مولانا وحید الدین خان] کی ٹیم میں جمع ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں پہلی بار اِس کو یہ حیثیت ملی ہے کہ وہ دور حاضر میں اَخوانِ رسول کا رول کر سکے۔بعد کے زمانے میں اٹھنے والی تمام تحریکوں میں صرف سی پی ایس[مولانا وحید الدین خان] انٹرنیشنل وہ تحریک یا گروپ ہے جو استثنائی طور پر اِس معیار پر پوری اترتی ہے۔ قرآن اور حدیث کی صراحت کے مطابق، اَصحابِ رسول کی امتیازی صفت یہ تھی کہ وہ پورے معنوں میں ایک داعی گروہ بنے۔ مگر بعد کو بننے والے گروہوں میں کسی بھی گروہ کو حقیقی معنوں میں داعی گروہ کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔‘‘ (ماہنامہ الرسالہ : ستمبر 2006ء‘ ص 35)

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
’’غالبا یہ کہنا صحیح ہوگا کہَ اخوانِ رسول وہ اہلِ ایمان ہیں جو سائنسی دور میں پیدا ہوں گے، اور سائنسی دریافتوں سے ذہنی غذا لے کر اعلیٰ معرفت کا درجہ حاصل کریں گے، نیز یہی و ہ لوگ ہوں گے جو مہدی، یا مسیح کا ساتھ دے کر آخری زمانے میں اعلیٰ دعوتی کارنامہ انجام دیں گے۔‘‘ (ماہنامہ الرسالہ : مئی 2010ء‘ ص 44)

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
’’ماضی اور حال کے تمام قرائن تقریباً یقینی طور پر بتاتے ہیں کہ سی پی ایس [مولانا وحید الدین خان] کی ٹیم ہی وہ ٹیم ہے جس کی پیشین گوئی کرتے ہوئے پیغمبر اسلام نے اُس کو اَخوانِ رسول کا لقب دیا تھا۔‘‘ (ماہنامہ الرسالہ : ستمبر 2004ء‘ ص 40)

پہلے اقتباس کا خلاصہ ہے کہ مہدی و مسیح کے ساتھ اَخوانِ رسول کی ٹیم ہوگی جبکہ دوسرے کا ہے کہ اَخوانِ رسول کی ٹیم سی پی ایس کی ٹیم ہے۔ اِن دونوں قضیوں کے صغریٰ و کبریٰ سے یہ نتیجہ نکلا کہ مہدی و مسیح کے ساتھ سی پی ایس کی ٹیم ہوگی۔

مولانا وحید الدین خان صاحب کی کسی بھی تحریر کو اٹھا کر دیکھ لیں، اُس میں اِن میں سے ایک، دو، تین یا چار بنیادیں ضرور مل جائیں گی۔ ہم نے اپنی کتاب "مولانا وحید الدین خان: افکار و نظریات" میں اِن عوامل اور عناصر سے پروان چڑھنے والی خان صاحب کی فکر کا، اُن کے اپنے الفاظ ہی کی روشنی میں، ایک مفصل تحلیلی وتجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے۔