اب جرات اظہار کا وقت ہے - پروفیسر جمیل چودھری

کوئی بھی سال اور کوئی بھی عرصہ ایسا نہیں رہا جب مشکلات نے پاکستان کو گھیرا ہوا نہ ہو۔ ہمارا ملک جس ریجن میں ہے۔ اب وہاں نئی پالیسیاں اور نئے اتحاد تشکیل پارہے ہیں۔ مسلم دنیا کی تقسیم کے ساتھ ساتھ پورا ریجن بھی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔ نئے نئے اتحاد بن رہے ہیں۔ ان اتحادوں کا ایک رکن اگر پاکستان کاحامی ہے تو دوسرا رکن شدید دشمن ہے۔ پاکستان ایسے ہی اتحادوں سے گھرا ہوا ہے۔

ایران ہمارا ہمسایہ بھی ہے اور دوست بھی ہے۔ لیکن بہت ہی زیادہ قریبی دوست سعودی عرب سے پرخاش رکھتا ہے۔ ساتھ ہی ایران کے انڈیا سے بھی قریبی تعلقات ہیں، جو ہمارا مستقل اور پیدائشی دشمن ہے۔ ایسے ہی چین ہمارا آزمودہ اور ہمہ وقتی دوست ہے۔ اور پاکستان میں گوادر کی بندرگاہ کو ترقی دے رہا ہے۔ ساتھ ہی بھارت ہمارے ہمسائے ایران کی چا بہار بندرگاہ میں سرمایہ کاری کررہا ہے۔ چین اور بھارت سرحدی تنازعات بھی رکھتے ہیں لیکن دونوں 61 بلین ڈالر سالانہ کی تجارت میں بندھے ہوئے ہیں جبکہ چین اور پاکستان کی تجارت 2016ء کے اعدادوشمار کے مطابق صرف 9 بلین ڈالر تھی۔ یوں چین بھارت کا بہت بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ لیکن بہت قریبی دوست ہمارا بھی شمار ہوتا ہے۔ جب چا بہارکی بندرگاہ مکمل ہوجائے گی تو افغانستان کو ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے متبادل راستہ مل جائے گا اور افغانستان کا پاکستان پر انحصار بہت کم ہوجائے گا۔

ایک اور تضاد دنیا میں بڑا نمایاں ہے۔ آج کل امریکہ نے ہمارے لیے مشکلات کھڑی کی ہوئی ہیں۔ لیکن اسی امریکہ کے ہمارے قریبی اور دلوں کے مرکز سعودی عرب کے ساتھ بہت ہی اچھے تعلقات ہیں۔ اس کا اظہار سعودی عرب ہروقت کرتارہتا ہے۔ خاص طورپر اس وقت ہوا جب ٹرمپ نے چند ماہ قبل ریاض کا دورہ کیا تھا۔ چند سال پہلے تک پاکستان امریکہ کا اتحادی تھا۔ لیکن اب ہماری جگہ بھارت لیتا جارہا ہے اور ہمارے لیے امریکہ کا واضح پیغام ہے کہ افغان مسئلہ کو حل کرانے کے لیے پاکستان امریکی جنگ لڑے۔ ان کا روایتی فقرہ Do More اب دنیا بھر میں معروف ہوگیا ہے۔ پہلے بھارت دہشت گردی کی جنگ میں امریکہ کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا۔ لیکن اب امریکہ نے بھارت کو افغانستان میں رہ کر پاکستان مخالف کردار دے دیا ہے۔ نیٹو اور امریکہ پہلے ہی افغانستان میں موجود ہیں۔ ہندوستان کی موجودگی سے پاکستان پر مزید دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اب پاکستان مشرق اور مغرب دونوں اطراف سے کھلے دشمنوں سے گھرا ہوا ہے۔

ابھی ایک اور دشمن کا ذکر نہیں ہوسکا۔ کافی عرصہ سے پاکستانی اور افغانی طالبان پاکستان کے علاقوں میں آکر حملے کرتے تھے۔ اب داعش نامی عالمی دہشت گرد تنظیم شام اور عراق میں تو ناکام ہوگئی ہے۔ لیکن اس نے افغانستان میں آکر اپنے مضبوط گڑھ بنا لیے ہیں۔ یہ بات اب امریکی بھی تسلیم کررہے ہیں کہ اب افغانستان دنیا بھر کے دہشت گردوں اور شدت پسندوں کا مرکز بن چکا ہے۔ اب داعش کے جنگجو پاکستان سے متصل علاقوں ننگرہار اور کنر ہزاروں کی تعداد میں آچکے ہیں۔ یہاں سے پاکستانی علاقوں میں آکر کاروائیاں کرنا اب آسان ہوگیا ہے۔ طالبان کے مراکز بھی انہی علاقوں میں موجود ہیں اور افغانستان کے اس40 فیصد علاقے میں نہ افغانیوں کی حکومت ہے اور نہ ہی امریکیوں کی۔ مشرقی سرحد اور کشمیرکے حالات سے توہر کوئی واقف ہے۔

یہ وہ مشکل حالات ہیں جن میں رہ کر پاکستان نے آگے بڑھنا ہے اور ترقی بھی کرنی ہے۔ ٹرمپ کی دھمکیوں سے آپ سب واقف ہی ہیں۔ امریکہ نے پہلے قدم کے طورپر255 ملین ڈالر کی ملٹری امداد روک بھی لی ہے۔ ابھی بھارتی نژاد نکی ہیلی کہتی ہیں کہ مزید پابندیوں کے بارے فیصلہ کیاجارہا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آج یا کل اعلان بھی ہوگیا ہو۔ پاکستان کے ایک نہایت ہی تجربہ کار اور محب وطن سفارت کارمنیر اکرم کہتے ہیں کہ پاکستان کو اس وقت جرات مندانہ موقف اختیار کرنا چاہیے۔ پوری قوم بھی یہی چاہتی ہے۔

پاکستان21 کروڑ کی آبادی اور ایٹمی پاور حامل ملک ہے۔ دنیا کی چھٹی بڑی آرمی رکھتا ہے۔ اس علاقے میں اس کی اپنی ترجیحات اور مفادات ہیں۔ ایسے ملک کو امریکہ کی دھمکی سے مرعوب نہیں ہونا چاہیے۔ اگرچھوٹا سا شمالی کوریا، امریکی دھمکیوں سے نہیں ڈرتا تو پاکستان کیوں مرعوب ہو۔ پاکستان کو جرات اور صاف انداز سے بتا دینا چاہیے کہ اس نے امریکہ کا اب تک بہت ساتھ دیا ہے۔ بے شمار انسانی اور مالی نقصان اٹھایا ہے۔ ہم دوبارہ امریکی فتح کے لیے افغان جنگ کا ایندھن بننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ 70 سالوں سے ہم امریکی پالیسیوں کی حمایت ہی کرتے چلے آرہے ہیں۔ بدلے میں ہمیں کچھ ڈالر اور اسلحہ ملتا ہے۔ امریکی پالیسیوں کی حمایت تو ہم 7 دہائیوں سے کررہے ہیں۔ لیکن امریکہ نے بھارت سے ہمارا کوئی بھی مسئلہ حل کرانے میں مدد نہیں کی۔ اب تو امریکہ بھارت کو 2 طرفہ مذاکرات کے لیے بھی نہیں کہتا۔ پاکستانیوں کے لیے اب امریکہ سے کسی بھی قسم کی ہمدردی کی توقع رکھنا عبث ہے۔ امریکہ نے 1965ء اور1971ء کی جنگوں میں بھی ہمارے اسلحہ کی سپلائی بند کردی تھی۔ 80ء کی دہائی میں افغان جنگ میں تعاون کے بعد پریسلر ترامیم لگا کر مالی اور اسلحی امداد بند کر دی تھی اور مئی 1998ء کے جوابی دھماکوں کے بعد ہم پر مکمل مالی اور تکنیکی پابندیاں لگادی تھیں۔ امریکی دھوکہ دہی سے تو تاریخ بھری پڑی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان صرف اور صرف اپنے ملکی مفاد کو سامنے رکھ کر جرات مندانہ جواب دے۔ پاکستان کو درج ذیل اقدامات کی ضرورت ہے۔

پاکستانی قوم اندرونی طورپر متحد ہوجائے۔ تمام مذہبی اور سیاسی گروہ آپس میں بیان بازی اور دھرنا بازی ختم کردیں۔ پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ سے باہر بھی امریکہ اور دوسرے دشمنوں کو ایک ہونے کا پیغام جائے۔ 21 کروڑ کی متحد اور ایٹمی صلاحیت کی حامل قوم کو کسی سے بھی ڈرنے کی ضرورت نہ ہے۔ پاکستان امریکہ سے مالی امداد لینا چھوڑ دے۔ کولیشن سپورٹ فنڈ کے بقایا جات کو بھی بھول جائے۔ پاکستان کی سفارت کاری کو اب امتحان درپیش ہے۔ ضروری ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر چین، روس، ایران، ترکی اور سنٹرل ایشین ریاستیں اکٹھی ہوں اور پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں۔ یہ ریاستیں امریکہ پر دباؤ ڈالیں کہ وہ افغانستان سے اپنے ٹروپس نکال لے۔ اپنے اڈے ختم کرے۔ یہ اڈے امریکہ نے اس لیے بنائے ہیں۔ تاکہ چین، ایران اور پاکستان پر آئندہ نگاہ رکھی جائے۔ سی پیک میں رکاوٹ ڈالنا بھی ان اڈوں کا ایک مقصد ہے۔ امریکہ کے لیے ون بیلٹ ون روڈ اور سی پیک کے چینی منصوبے ہر گز قبول نہیں ہیں۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایشین ممالک کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اسلام آباد میں درج بالا ممالک کی کانفرنس بلائے اسی صورت میں پاکستان پر دباؤ کم ہوگا۔ امریکہ کے اس پروگرام کا تو سب کو علم ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے یاچھین لیے جائیں یا ضائع کردیے جائیں۔ آئندہ آنے والے امریکی مطالبات میں ایٹمی اثاثے ضائع کرنے کا مطالبہ آسکتا ہے۔

افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی کا ایک مقصد یہ بھی ہے۔ یہ بات تو اب ساری دنیا جانتی ہے کہ داعش کی پرورش امریکی وسائل سے ہوئی ہے۔ اسے اب شام سے افغانستان لانے میں بھی امریکی چھتری استعمال ہورہی ہے۔ داعش بھی پاکستان کے لیے ہی خطرناک ہے۔ پاکستان 35سال سے یہاں مقیم افغان مہاجرین کی اب چھٹی کرائے۔ انہی کے پاس آکر افغانی اور دوسرے دہشت گرد چھپتے ہیں اور پاکستانی اداروں پر حملے کرتے ہیں۔ پاکستان مالی اور اسلحی پابندیوں کے بعد طاقت ور ملک بن کر ابھرے گا۔ پاکستان اپنے وسائل پر انحصار کرنا شروع کرے۔ آخرایران بھی تو پابندیوں کے بعد قائم ودائم ہے۔ امریکی اور بھارتی اتحاد کے بعد اب پاکستان کو امریکی اتحاد سے گڈبائی کہنا ضروری ہوگیا ہے۔ اب صرف امریکہ سپر پاور نہیں ہے۔ بہت سے دیگر ممالک بھی بہت طاقتور ہوچکے ہیں۔ امریکی اثرات سے نکلنا اب ضروری ہوگیا ہے۔ پاکستان کے لیے حالات مشکل تو ضرور ہیں لیکن مشکلات میں جینے اور آگے بڑھنے ہی کو زندگی کہاجاتا ہے۔ اور یہ کام قوموں کو خود ہی کرنا پڑتا ہے

ان شب کی ظلمتوں میں کہیں آس پاس ہی

صبحوں کے اہتمام ہیں تو جاگ تو سہی

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */